بلتستان کا دیومالائی عہد


دنیا کا کوئی بھی خطہ ایسا نہ ہو گا کہ جس کے ادب میں داستان ہو اور ان داستانوں میں محیرالعقول واقعات نہ ہوں، سرزمین بلتستان کا ماضی کھنگال کر دیکھیں تو دیومالائی روایات اور داستانوں کی دنیا آباد نظر آتی ہے۔ قدیم زمانے میں جب محدود وسائل، ذرائع آمدورفت کی کمیابی اور جدید علوم سے تہی دامن معاشرے میں رونما ہونے والے انہونی واقعات کو عوام میں بیان کیا جاتا تھا تووہ واقعات قصہ کہانیوں کی صورت گردش کرنے لگتے تھے۔ سادہ لوح لوگ ان تواہمات کو سچ جانتے تھے۔ یہ واقعات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف روپ اختیار کر چکے ہیں اور لوگوں کی اکثریت آج بھی ان توہمات پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ بعض ان واقعات کو سچ بھی گردانتے ہیں۔

دیومالائی سرزمین بلتستان جسے قدیم تذکرہ نگاروں نے تبت، بلور، پلولو، بلتی یل، ننگ گون، تبت خورد وغیرہ سے یاد کیا ہے۔ یہ خطہ آج بھی کئی داستانوں، دیومالائی قصوں کو اپنے سینہ میں دبائے بیٹھی ہے۔ اگر ہم بلتستان کی تاریخ دیکھیں تو ابتدا سے لے کر اب تک تمام علاقوں میں جن، بھوت اور توہمات کا تصور بہت زیادہ پایا جاتا رہا ہے۔ یہ روایت بہت زیادہ مشہور ہے کہ بلتستان پر زمانہ قبل مسیح میں ایک عرصے تک ایک دیو مالائی کردار ”کیسر“ کی حکمرانی تھی۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دیوتاوٴں کی نسل سے تھے اس وقت یہاں ”بون چھوس“ مذہب رائج تھا۔ پھر مختلف مذاہب کے مبلغین کی تبلیغ سے بدھ مت، لاما ازم، زرتشت، اور چودھویں صدی میں ایرانی مبلغ سید علی ہمدانی اور پیر سید محمد نور بخش کے ذریعے دین اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے آج پورے بلتستان میں سو فصد مسلمان آباد ہیں۔ لیکن پرانے توہمات پر بلتستان کے عمر رسیدہ افراد اب بھی یقین رکھتے ہیں اور اس کرہ ارض پر جنات کے ساتھ ساتھ ایک خیالی دیومالائی مخلوق ہلا اور ہلامو کے وجود پر بھی یقین رکھتے ہیں۔

ہلایل یعنی دیوتاوٴں کی سرزمین بلتستان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس خطے میں آج سے چند سال قبل تک جناتی مخلوق ہلا اور ہلامو کو خوش رکھنے کے لیے ہر گوشے میں موسیقی کی محفلیں جمانا لازمی امر سمجھتا تھا۔ یہاں کے عمر رسیدہ لوگوں کا یہ خیال بھی ہوتا تھا کہ جن، دیو یعنی ہلا اور ہلامو کبھی کبھار لوگوں کو اغوا کر کے گاؤں سے غائب کر دیتے تھے۔ اب بلتستان میں پرانی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

دیوتاؤں کی سرزمین بلتستان میں آبادی کے حوالے سے ایک روایت یوں بھی ملتی ہے کہ بلتستان میں آبادی کا آغاز ترک، یونانی، منگول اور وسط ایشیا سے آنے والے گروہ نے کیا جو گلگت، کاشغر، ہنزہ، کارگل اور دیوسائی کے راستے سے بلتستان وارد ہوئے اور اسی خطے کو اپنا مسکن بنایا۔

جن میں ٭گیالوشالبو نے رگیایول آباد کیا۔ جبکہ ٭شکر گیالفو نے شگری بالا، شگری کلان، چنداہ وغیرہ آباد کیا اور کورو آسون چو اور لون چھے نے کھربو اور کچورا آباد کیا۔ مذکورہ حکمرانوں کی طرز معاشرت قبائلی وضع کی تھی لہذا جو جگہ جس نے آباد کی اس پر اسی کی حکومت قائم ہو گئی۔ ان چاروں حکمرانوں میں سے زیادہ طاقت ور شکرگیالفو تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوتا گیا مختلف قبائل میں جھڑپیں بھی شروع ہوئی ان جھڑپوں میں ہمیشہ کامیابی شکر گیالفو کی ہوتی تھی۔ اس وجہ سے پورے خطے میں شکر گیالفو کی حکومت مستحکم ہوگی۔ نشیب و فراز کی زد میں آنے کی وجہ سے ان کی حکومت پورے بلتستان پر قائم ہو گئی۔ ان کی سلطنت کا صدر مقام شگری بالا تمام خاندانوں کا دارالحکومت بن گیا۔

شکرگیالفو خاندان کے رہائش گاہ کی نشانی ”اپی چو ٹوق“ یعنی شکری محل کے نام سے آج بھی شگری بالا میں موجود ہے۔

صدر مقام سکردو کے مغرب کی جانب ایک بلند و بالا خوب صورت خطہ جو شگری بالا کہلاتا ہے۔ یہ جنت نظیر وادی تقریباً تین سو گھرانوں پر مشتمل ہے۔

1170 سے لے کر 1490 عیسوی تک شگری بالا راجاؤں کی دارالسلطنت رہی۔ شکری گیالفو کا داماد یعنی ابراہیم مقپہ جو کثرت استعمال سے ابراہیم مقپون بن گیا۔ اسی ابراہیم مقپون کی اولادوں نے تقریباً 22 پشتوں تک خطہ بلتستان پر حکومت کی ابراہیم سے لے کر دسواں بادشاہ تک سب اسی شکری محل یعنی ”اپی چو ٹوق“ میں مقیم رہے اور رسم تاج پوشی کا سلسلہ بھی اسی تاریخی پتھر ”بڑوسی سنیس“ پر ہوتی رہی لیکن بعد میں بوخا کے دور میں قلعہ کھر پو چو تعمیر ہوا اور دارالحکومت شگری بالا سے قلعہ کھرپوچو منتقل کیا گیا۔

یہ تاریخی پتھر شگری بالا میں آج بھی موجود ہے اس تاریخی پتھر کو بڑوسی سنیس کہا جاتا ہے۔ اس پتھر پر آخری راجا احمد شاہ تک کی رسم تاج پوشی ادا کی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ اس وقت موجودہ شہر سکردو میں اتنی زیادہ آبادی نہیں تھی راجا بوخا نے موجودہ شہر اسکردو کی آباد کاری شروع کی اور اس کے شمال میں ایک بلند مقام پر عظیم الشان قلعہ 1515 ء میں تعمیر کروایا اس تاریخی قلعے کو کھرپوچو کہا جاتا ہے۔ راجا بوخا نے اپنا دارالحکومت شگری بالا سے یہاں منتقل کیا۔ 1836 ء میں آخری راجا احمد خان کی رسم تاج پوشی بھی اسی قدیم پتھر بڑوسی سنیس پہ ہوئی۔

شگری بالا نہ صرف راجاوٴں کا دارالحکومت رہا بلکہ ہمیشہ سے تاریخ کا حصہ بھی رہا۔

شگری بالا آج بھی کئی ثقافتی اثرات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ان میں سنگ سنگ کژہ ( غار) ، مرقد شاہ بہرام، بڑوسی سنیس (تاج پوشی کا پتھر ) ، اوشو (درخت کا نام ) گمبہ آستانہ، گومہ آستانہ وغیرہ شامل ہے۔

*بڑوسی سنیس کا پتھر*

شکرگیالفو نے اپنے رہنے کے لیے شگری بالا میں ایک محل تعمیر کرایا تھا اس محل کے سامنے ایک بڑا پتھر موجود تھا اس پتھر کا نام *بڑوسی سنیس* تھا اس پتھر پر ابراہیم مقپہ (کثرت استعمال سے اب مقپون بن گیا ہے ) راجا کھوکھر سنگے، راجا غوطہ چو سنگے، راجا بہرام شاہ، راجا بوخا تا آخری تاجدار سکردو راجا احمد شاہ تک کی رسم تاج پوشی ادا کی گئی۔ اس پتھر پر کئی نشانیاں اب بھی موجود ہیں۔

بڑوسی سنیس پتھر کی تصویر آخر میں ملاحظہ فرمائیں
سنگ سنگ کژہ (غار کا نام) :۔

سنگ سنگ کژہ بلتی کے دو لفظ سے مل کر بنا ہے سنگ کے معنی ”روشن“ اور کژہ کے معنی ”غار“ کے ہیں۔ اس غار کا تذکرہ کسی کتاب میں موجود تو نہیں البتہ سینہ بہ سینہ جو روایت چلی ہے کہ زمانہ قدیم میں اس غار کے ذریعے لوگ سفر کر کے کچھول یعنی کشمیر جاتے تھے۔ یہ غار آج بھی سینکڑوں مخفی راز اور تاریخی شواہد کے ساتھ موجود ہے۔

مر قد شاہ بہرام :۔

اس مزار کے بارے میں تاریخ مکمل طور پر خاموش ہے۔ بہرام شاہ کا یہ مرقد بھی اپنے اندر ایک مخفی و پوشیدہ تاریخ جذب کیے ہوئے ہیں اس مزار کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ مزار کا نام ”شاہ بہرام مزار ہے۔

اوشو کا درخت :۔

اس مقام پر آج سے دس سال قبل تک گرمیوں میں شام کے وقت لوگوں کا ایک مجمع ہوتا تھا جہاں پر عمائدین شگری بالا ”پنچایت، جرگہ“ وغیرہ کے فیصلے بھی کرتے تھے۔ شگری بالا کے عوام نے ”ہلچنگرہ“ چوپال کے لیے اس جگہ کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ اس مقام پر ( *اوشو* ) کے تین بڑے تناور درخت موجود تھے اور گرمیوں میں یہاں بہت ٹھنڈ رہتی تھی۔ ان تینوں درختوں کے حوالے سے یہ روایت مشہور ہے کہ تین اولیا کرام دین کی تبلیغ کے غرض سے وارد بلتستان ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ دشمن ان اولیائے کرام کی جان لینے پر تلے ہوئے تھے۔ اس لیے دشمنوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے *شگری بالا (اوشو ) * کے مقام پر پہنچے اور اس مقام پر سکھ کا سانس لینے کے لیے تینوں اولیا اللہ نے اپنے سفری سامان زمین پر رکھے اور عصا زمین میں گاڑ کر تشریف فرما ہی تھے کہ اچانک دشمن فوج ان کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں پہنچی اور تینوں ولی اللہ نے مال اسباب چھوڑ کر جان بچانے کی کوشش کی لیکن چند ہی قدموں کے بعد دشمن نے پیچھے سے وار کیا اور انھیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

جس جگہ پر انھوں نے اپنا عصا گاڑھا تھا وہ ایک تناور درخت بن کر نکل آیا اور ان کا سامان جہاں رکھا تھا وہ پتھر بن گیا۔ جس جگہ ان کو شہید کیا گیا بعد میں ان کی جائے شہادت پر آستانے تعمیر کیے گئے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں حاجت مند حضرات اپنی حاجتیں لے کر آتے ہیں اور درخت اور آستانے کے گرد منتیں و دعائیں مانگتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس درخت (اوشو ) کے بیج کھانے سے بے اولاد جوڑوں کو اولاد عطا ہوتی ہے۔

سامان، گھوڑے کے قدموں کی نشانی، عصا اب اوشو درخت ہے۔

تہذیبی و تاریخی اعتبار سے بلتستان کے اس عہد کو دیومالائی عہد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور بلتستان کا عہد بہ عہد ذہنی ارتقا ٔ بھی سمجھا جا سکتا ہے نیز توہم پرستی سے قطع نظر بلتی ثقافت میں اس تہذیب کا کردار کلیدی ہے۔ سرزمین بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جسے اپنی تشخص پر ناز ہے اور یہ تشخص پاکستان سے جڑ کر اکائی کا حامل ہے۔

Facebook Comments HS