پہلا قدم، پہلی پرواز اور انتہا

پہلی پرواز کا خیال تو مسلمانوں کو بھی آیا، اس حوالے سے ہسپانیہ کے مسلمان نے پہل کی، وہ الگ بات ہسپانیہ میں مسلمانوں کا عروج زوال کی جانب مڑ گیا، ورنہ اگر مسلمان خانہ جنگی میں نہ پڑے ہوتے اور یورپ کی باقی اقوام کے ساتھ امن بھی قائم رہتا تو تو شاید بات کہیں زیادہ آگے نکل چکی ہوتی، قرطبہ میں 810 ء میں عباس ابن فرناس نے بیج بو دیا تھا، وہ کبھی یہ کام نہ کرتا اگر اس وقت کے مسلمان حکمران ترقی پسند نہ ہوتے، اندلس قرطبہ تو یورپ کے اہم علمی مراکز تھے، ترقی صرف عقیدے کی نہیں علم و تحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔
انسانی پرواز کے لئے گلائیڈر بننے لیکن متحرک قوت کا حامل پہلا جہاز رائٹ فلائر ہے یہ پہلی متحرک مشین سائیکل کی چین[زنجیر] اور پیڈل سے بنائی گئی، ورنہ رائٹ فلائر کسی بھی گلائیڈر سے کچھ مختلف نہ تھا، یہ پہلی پرواز 12 سیکنڈ کے دورانیے کی تھی، اسی دن اگلی پرواز کا دورانیہ 59 سیکنڈ تھا جبکہ یہی بہتری کی بنیاد تھی کہ انسان اس جانب اب پیشرفت کرے،
پہلی جنگ عظیم میں دو پٹیوں والے بائے پلین اور قوی ہیکل [بہت بڑے ] غبارے جو ائر شپ کہلاتے تھے بمباری، جاسوسی کے ساتھ مزاحمت کے لئے کامیابی سے استعمال ہوئے، دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں پرل ہاربر پر جاپانی بحریہ کے فضائی اور سمندری حملے نے طیارہ بردار جہازوں کو طاقت کی علامت بنا دیا، دوسری جنگ عظیم میں ہوائی جہاز سازی نے ریکارڈ طیارہ سازی کی گئی، ریڈار اور الیکٹرانک وار فیئر پر بھی پیشرفت ہوئی، دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں ایک جانب روس دوسری جانب سے اتحادی جرمنی پر قابض ہو گئے، اس طرح برلن دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جو حصہ روس کے قبضے میں گیا وہاں روسی حکومت کے جانب سے سختی روا رکھی گئی وہاں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی جس سے نمٹنے کے لئے امریکہ اور اتحادیوں نے برلن ائر لفٹ کے نام سے رسد برلن اور جرمنی کے مختلف شہروں میں گرانے کا مشن شروع کیا، رسد گرانے کے لئے اس وقت تک دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن تھا جس میں بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ یعنی مال بردار طیارے استعمال ہوئے، دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک جیٹ انجن کے حامل لڑاکا طیاروں نے پسٹن انجن طیاروں کی جانشینی کا سلسلہ شروع کر دیا، ہٹلر کے وی ٹو راکٹ جب برطانیہ کی جانب آئے تو بیلسٹک میزائلوں کا دور بھی شروع ہو گیا، بنیاد جیٹ انجن ہی تھے۔
دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہونے سے پہلے امریکی بمبار بی 29 سپر فورٹریس کے ذریعے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرا کر نیوکلیئر ہتھیاروں کے دور میں لے گئے۔ یہ ہمیشہ کے لئے طے ہو گیا فضائی برتری کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ کوریا کی جنگ ایک جانب نظریات کی لڑائی تھی وہی بہتر اور برتر منوانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی پہلے سے بڑھ گیا، دنیا دو دھڑوں میں ضرور بٹی لیکن ایجادات کی پرواز جاری رہی۔
پھر ایک سنگ میل خلاء میں پہنچنا تھا، نیل آرم اسٹرانگ کے پہلے قدم گو کہ کچھ سازشی نظریات اس پہلے کے قدم کے تعاقب میں بھی رہے، اپولو 17 چاند پر انسان کا آخری مشن تھا، مان بھی لیں کچھ وقت کے لئے یہ مشن نہیں ہوا، لیکن فضائی تحقیق یا ایوی ایشن کی ترقی کا سفر پھر بھی نہ رکا نہ انسان کی پراواز کو کوئی روک سکا۔ پاکستان کے سائنسدانوں نے 9 ماہ کے اندر رہبر اول نامی راکٹ کو خلاء میں بھیج کر پاکستان کے اسپیس پروگرام کو دنیا سے متعارف کرایا، [پاکستان 7 جون 1962 ء کے روز عالم اسلام اور خطے کی پہلا ملک بنا جس نے خلاء میں راکٹ بھیجا، بھارت نے یہ کام 15 مہینے بعد کیا]، ایرو اسپیس سائنسز کے ساتھ ساتھ دنیا میں فضائی قوت بھی تجربوں سے آگے بڑھی، ویتنام جنگ کا شمار امریکی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑی جنگوں میں ہوتا ہے، ویتنام کی جنگ میں ہی تاریخ کے سب سے بڑے ہیلی بارن آپریشن ہوا، اس قبل ہیلی کاپٹر اتنی بڑی تعداد میں کبھی استعمال نہیں ہوئے تھے، اسی جنگ میں آواز کی رفتار سے اڑنے والے سب سانک طیاروں کو سپر سانک طیاروں سے بدلا گیا، رفتار جنگی طیاروں کا اہم ترین حوالہ بن گئی، فرانسیسی میراج تھری، سویت مگ اکیس امریکی اسٹار فائٹر اور برطانوی لائٹننگ کے بعد جہازوں میں رفتار کے ساتھ پھرتی یعنی کوئی جہاز کتنی جلدی اپنی پوزیشن راستہ یا زاویہ بدل سکتا ہے کا پہلو شامل ہو گیا، 1965 کی جنگ دراصل پاک فضائیہ کی فضائی برتری کی روداد ہے، دشمن ہمارے شہبازوں سے اتنا سہم گیا کہ ہماری فضائیہ کے اڈے چھوڑ کر شہروں پر بم گرانے آ گیا، یہاں بھی ہماری فضائیہ نے اس کا غرور خاک میں ملادیا، لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ہونے والے فضائی معرکے شہریوں نے چھتوں پر چڑھ کر براہ راست دیکھے، 71 میں ڈھاکہ کی فضائی لڑائی کے ابتدائی تین دن پاک فضائیہ چھائی رہی، ڈھاکہ کا انٹر کانٹینینٹل ہوٹل کی چھت سے ہندوستانی طیاروں کے گرنے کے مناظر دنیا نے دیکھے، اکیلی چودہویں اسکواڈرن دشمن کے دس اسکواڈرنز کے اعصاب پر سوار رہی، لیکن اس کے بعد بھارت کی جانب سے رات میں استعمال ہونے والے حملہ آور بمباروں نے صورتحال کا رخ بالکل بدل دیا۔
فضائی برتری کے بعد بھارت کو جنگ میں مطلوبہ نتائج بھی ملے۔ عرب اسرائیل جنگ میں الیکٹرانک وار فیئر نے عرب اتحادیوں کی بڑی فضائی قوت کو ششدر کر کے رکھ دیا، 20 جنوری 1974 کو ایف سولہ نے امریکہ میں پہلی آزمائشی پرواز کی، جس میں فلائی بائے وائر ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا، جس کی وجہ سے جہازوں میں کیبلز اور تاروں کے وزن کی کمی کا موقع مل گیا، جہاز مزید پھرتیلے اور تیز ہو گئے، انجنوں میں فیول ایفشنسی یعنی کم سے کم ایندھن میں بہتر پرواز کی بات ہونے لگی، دوسری جانب مسافر بردار اور ٹرانسپورٹ طیاروں کی تعمیر اور ان میں بہتری کا سلسلہ بھی جاری رہا، کا نکورڈ نے جہاں عام مسافر کو آواز سے دگنی رفتاری کی پرواز کا مزہ چکھایا وہیں بوئنگ 707 نے اسی پرواز کو سستا بنانے میں بھی اہم کردار نبھایا۔
747 جمبو جیٹ کے بعد تو ایوی ایشن انڈسٹری کی پرواز دگنی تیز ہو گئی، ائر بس اے 380 مکمل ڈبل ڈیکر ہوائی جہاز سامنے آیا، جنگ عظیم سے مال برداری کے لئے ڈکوٹا سے سرد جنگ میں کانسٹولیشن، بعد ہرکیولیس سی۔ 130 پھر گلوب ماسٹر، گلیکسی اور پھر اینٹاناؤ این 124 جیسے جہاز سامنے آئے جو پورا کا پورا فوجی ڈویژن دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جا سکتے ہیں، مسافروں کے لئے بہتر سے بہتر سہولیات کے لئے جہازوں میں کیبن بہتر اور خوب تر بن رہے ہیں۔
آٹھ اکتوبر 2005 ء کو برصغیر پاک ہند میں شدید زلزلے کی لپیٹ میں آیا، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات بد ترین متاثر ہوئے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ہیلی کاپٹر ریلیف آپریشن کیا گیا، جس میں دنیا جہاں سے مختلف ریسکیو اداروں اور افواج نے خدمات انجام دیں، 27 فروری 2019 ء میں ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ نے خطے میں فضائی جنگ کو نئے معنی دے دیے، ابھی نندن کبھی دھوکہ نہ کھاتا اگر پاک فضائیہ کے خصوصی طیاروں سے اس کا اپنے ریڈار کنٹرولر سے رابطہ نہ کاٹا جاتا، یہی اس کے بھٹکنے کی وجہ بنا جو اس کے جہاز کی تباہی سے ثابت ہوا۔
لڑاکا طیارے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کی جانب گامزن ہیں، جن کو عام ریڈار دیکھنے سے قاصر ہے۔ آج کے بمبار اسٹیلتھ ہو گئے ہیں، دشمن کے ریڈارز کو دھوکہ دینے کے لئے نئے حربے سامنے آرہے ہیں، جہازوں کی حد ضرب بہتر بنانے میں فضا سے فضا اور فضا سے بہتر اسلحہ بنایا جانے لگا، جہاز سے فائر ہونے والے میزائل نظر سے آگے یعنی بیانڈ ویژول رینج ہو گئی، جہازوں سے پھینکے جانے والے بم اور راکٹ اسمارٹ ہو گئے، سمندروں کے اوپر دشمن کی آبدوزوں اور بحری جہازوں کے لئے بھی فضا کا زیادہ استعمال ہونے لگا۔
فضائی قوت میں پائلٹ کے کردار کو کم کرنے کے لئے یو ائے وی سے شروع ہونے والا سلسلہ حملہ آور ڈرونز تک آ گیا، مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ گیا ہے، حقیقی وقت یعنی ریئل ٹائم میں اطلاعات کی رسائی، پروازوں کو جنگ اور امن میں بہتر اور خوب تر کی جانب لے حقیقت کا ہے، اس کا معاشی پہلوں عسکری پہلو تعمیری اور تخریبی ہر پہلو کا حامل ہے۔ جو انسانی ترقی کی مثال ہے اور بہت کچھ ہے۔
ریفرنس
https://www.bbc.com/urdu/science-57376348



