ضیاء محی الدین اور امجد اسلام امجد کی وفات پر افسوس کیسا؟
عجب رسم دنیا دیکھی کہ جب کوئی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جیسے ہی آنکھ بند ہوتی ہے تو اظہار افسوس کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ سا شروع ہوجاتا ہے، جو زندگی بھر مرحوم سے بے خبر رہے ہوتے ہیں وہ اچانک سے باخبر ہو کر اس کی یاد میں تحاریر کی صورت میں گل فشانیاں کرنے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے یہ خلا اب کبھی پر نہیں ہو سکے گا یا موقع شناسوں و ادبی مکاروں کے انداز میں کہیں تو کچھ اس طرح سے ہو گا کہ ”یہ خلا صدیوں میں بھی پورا نہیں ہو سکے گا“
حالانکہ سب فضول باتیں ہیں یا مبالغہ آرائیاں ہوتی ہیں کسی کے چلے جانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ نئے لوگ نئے انداز سے سامنے آ جاتے ہیں، نجانے کب سے یہ سلسلہ یوں ہی چلتا آ رہا ہے ظاہر ہے ارتقاء کو زوال کیسا؟ وقت نے تو اپنی رفتار سے ہی رواں دواں رہنا ہوتا ہے اس کے گھومتے پہیہ کو بھلا کون روک پایا ہے؟ ہاں البتہ چند دنوں کا تعزیتی شغل ضرور لگ جاتا ہے جس میں وہی لوگ اظہار افسوس فرما رہے ہوتے ہیں جو زندگی بھر مرنے والے سے منہ موڑے رکھتے تھے، کسی کے ذرا سے تعریفی جملے پر سیخ پا ہو کر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کہہ دیتے کہ جس سے ان کے من کی تشفی ہو جاتی اور تعریف کرنے والے کا من بھی میلا یا کھٹا ہو جاتا۔
بڑے بڑے سریلے فنکار جن کی آوازوں سے ہزاروں مایوس دلوں میں امید کا دیا ٹمٹمانے لگتا ہے اس کے علاوہ کئی ادبی مہان جن کا قلم روز کچھ نہ کچھ ایسا اگلتا ہے جس سے کچھ نیا جاننے کے متلاشی فیضیاب ہوتے ہیں بالکل ہماری آنکھوں کے سامنے دن بدن مٹی ہوتے چلے جا رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں خبر تک نہیں ہوتی، ہمیں تو اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ ہم میں نہیں رہتا۔ ویسے بھی ہمارے ان ”ادبی بڑوں“ کی ادبی میلوں کے علاوہ افادیت ہی کیا ہے؟
اگر سالانہ ادبی میلوں کے علاوہ کہیں اور ان کی افادیت آپ کو نظر آتی ہے تو براہ کرم رہنمائی فرما دیں؟ جہاں ہم ان کو ایک اونچی سی صدارتی کرسی پر ”سٹیچو“ کی طرح سے سجا دیتے ہیں پھر وہ گزشتہ سے پیوستہ رسم گفتگو نبھا کے چلے جاتے ہیں۔ بھلا ہو آج کی جادوئی دنیا کا جس میں سمارٹ فون جیسی نعمت کا چلن بہت عام ہے جس کی بدولت سیلفی یا گروپ فوٹو کی صورت میں ادیب کی دل پشوری ہوجاتی ہے۔ چاہنے والے مختلف کتابوں پر ادیب سے دستخط کا نقش بنوانے کے بعد اپنے من پسند ادیب کے ساتھ فوٹو بنواتے ہیں یا اپنے موبائل میں محفوظ کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔
جب سے امجد اسلام امجد رخصت ہوئے ہیں مضامین لکھنے والوں کا ایک تانتا سا بندھا ہوا ہے اور نہ جانے کون کون مرحوم کے چھپے ہوئے گوشے منظر عام پر لا نے میں مصروف ہیں اور اب حال ہی میں ضیا محی الدین بھی چل بسے، اب ایک اور نیا سلسلہ چل پڑا اور ہمیں نجانے کیا کچھ ان کے متعلق بھی سننے کو ملے گا۔ ظاہر ہے سننے والا تو خاموش ہو گیا اور سنانے والوں کی چاندی ہو گئی، کاش اسے زندگی میں یہ سب سننا نصیب ہوجاتا ممکن ہے وہ چار روز اور جی لیتا۔
جہاں سماج کو بیدار کرنے والوں کی اہمیت و وقعت بس اتنی سی رہ جائے کہ وہ ادبی میلوں میں چند لفظی گفتگو کر لیں یا کچھ پڑھ کے سنا دیں اور پھر سال بھر فارغ رہیں تو اس قسم کے ماحول میں بھلا کون حساس دل زیادہ عرصہ تک جینا چاہے گا؟ جہاں شخصیات یا کتابوں کو شیلف یا طاق نسیاں میں سجانے کا چلن ہو اور پھر ادبی میلوں میں ایک تصویر اور دستخط کی حد تک رسمی وابستگی ہو وہاں ”رسمیات“ کا بول بالا ہی رہتا ہے۔ اسی لئے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ امجد اسلام امجد یا ضیا محی الدین چلے گئے تو کوئی مسئلہ نہیں اور افسوس بھی کس بات کا؟
اپنا وقت چاہے جیسا بھی تھا گزار چلے ہاں البتہ تعزیتی گردان کچھ عرصہ تک یونہی چلتی رہے گی جس میں وہ سب بھی حصہ ڈالیں گے جو زندگی میں اسے ملنا بھی پسند نہیں کرتے تھے تاکہ تاریخ کے پنے پر تعزیتی فہرست میں کچھ ان کا بھی تذکرہ رہے۔ ہمیں ایسے موقعوں پر حساس قسم کا ادبی بننے کی بجائے ان ظلم و زیادتی کا تذکرہ کرنا چاہیے جسے زندگی بھر وہ بھگتتے رہے، کن کن منافقتوں کا انہیں سامنا رہا؟ ہمارے علاقہ میں ایک ادبی شخصیت تھی جن کا آخری وقت انتہائی کربناک تھا آخر میں اتنے تنہا ہوچکے تھے کہ سڑک کے قریب چارپائی ڈال کے لیٹے رہتے تھے، اس آس و امید پر کہ کوئی چند لمحے اس کے پاس بیٹھ کر حال احوال کر لے۔
سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ انہیں اپنی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے مارکسسٹ اور رئیلسٹ ہونے کے باوجود ”بابا اشفاق احمد“ بننا پڑا اور دم درود میں پناہ ڈھونڈنا پڑی، تلقین بابے کا روپ دھارنے کے باوجود انتہائی کسمپرسی کی حالت میں چل دیے۔ انتقال کے دو ہفتے بعد ان کی یاد میں ایک تعزیتی پروگرام ہوا جس میں ہزاروں لوگ بیٹھے ان کی شان میں قصیدہ گوئی کر رہے تھے، دیکھ کر حیرت سی ہوئی کہ یہ لوگ اس وقت کہاں گم تھے جب یہی شخص ان کی راہ دیکھا کرتا تھا؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپ میں 80 سال کا بندہ بھی ہشاش بشاش اور اپنے پاؤں پر قائم و دائم رہتا ہے آخر ان فضاؤں میں ایسا بھی مختلف کیا ہے جہاں زندگی طبعی موت تک مسکراتی رہتی ہے؟ میں وہاں کے کئی ادیبوں کو جانتا ہوں جو 80 کا ہندسہ عبور کرچکے ہیں مگر تدبر و تفکر میں کوئی لغزش نہیں آئی اور دن رات ادبی محافل میں مشغول رہتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ بعد از مرگ واویلا کرنے کی بجائے زندوں میں جینے کی امنگ پیدا کی جائے اور ان کے سامنے ساری گلفشانیاں کی جائیں جو ہم مرنے کے بعد بطور رسم کرتے ہیں، اگر زندوں کے سامنے وہ سب کہنے کا ظرف یا حوصلہ نہ ہو تو بعد از مرگ وہ سب کہنے یا لکھنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔
ہماری نظر میں تو یہ سب ادبی مکاری کے زمرے میں آتا ہے۔ تھوڑا انتظار کر لیں شاکر شجاع آبادی بھی زندگی کا عذاب جھیل رہا ہے اس کے مرنے پر بھی ہمیں بہت کچھ سننے کو ملے گا اور لکھنے والے بہت کچھ لکھیں گے، ممکن ہے گزر بھی گیا ہو کیونکہ مرنے کی افواہ تو کئی بار سنی ہے ویسے بھی یہاں زندوں کو پوچھنے کا کوئی خاص چلن نہیں ہے، ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جنہوں نے زندوں کو سیلیبریٹ کرنا سیکھا ہی نہیں ہمارے پاس تو فقط ایک ہی طریقہ بچا ہے کہ بعد از مرگ کچھ وقت تک کے لئے قصہ خوانیاں کریں اور بھول جائیں۔ ہائے یہ کیسا سماج ہے ہم نے بنایا ہے جہاں کچھ اچھا سننے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔


