انقلاب ایران کی 44 ویں سالگرہ


پاکستان کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے بھیجے جانے والے مبارکباد کے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات لسانی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں میں ان روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

صدر مملکت نے رہبر انقلاب کی صحت و درازی عمر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ پاک ایران تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات دونوں برادر ممالک کے لیے قابل فخر ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں سے پاکستان ایران کا پہلا پڑوسی اور مسلم ملک تھا جس نے 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کو نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ امام خمینی کی قیادت میں شہنشاہ ایران کو معزول کر کے آنے والے عوامی اسلامی انقلاب کا خیرمقدم بھی کیا تھا۔ اسی طرح ایران بھی دنیا کاوہ پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کی آزادی کونہ صرف سب سے پہلے تسلیم کیا تھا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستانی رکنیت کی بھرپور وکالت بھی کی تھی۔

واضح رہے کہ ایران میں جب سے امام خمینی کی قیادت میں انقلاب آیا ہے تب سے حکومتوں کے ساتھ ساتھ ایرانی قوم بھی اس دن کو عوامی سطح پر بڑے جوش و خروش اور قومی و ملی جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ کسی بھی قوم کا اپنی آزادی کا دن شان و شوکت سے منانا کوئی انہونی اور اجنبی بات نہیں ہے لیکن اس حوالے سے چند برس قبل ہم نے اپنے دورہ ایران کے موقع پر تہران کی گلی کوچوں، سڑکوں اور بازاروں میں اس حوالے سے جو جوش و خروش اور والہانہ جذبہ دیکھا اس کے ہم خود چشم دید گواہ ہیں۔

دراصل چند سال قبل ہمارا یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا تھا جب سارے ملک میں سرکاری اور عوامی سطح پر انقلاب ایران کی چالیس سالہ تقریبات نہ صرف نقطہ عروج پر پہنچ چکی تھیں بلکہ ہمیں ان تقریبات کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب جو یوم انقلاب جسے ایرانی حکومت اور قوم یوم آزادی کے طور پر مناتی ہے جو کہ تہران کے آزادی سکوائر میں منعقد ہوئی میں بھی شرکت کا موقع ملا تھا۔ اس تقریب میں گودوں میں اٹھائے ہوئے نومولود بچوں سے لے کر ستر اور اسی سال کے بزرگ مرد و خواتین، بچے اور خاص کر نوجوانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔

اپنی قیام گاہ سے لے کر آزادی سکوائر تک سارے راستے میں ہمیں نوجوانوں کی ٹولیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور قومی پرچم اٹھائے ہوئے مرکزی میدان تک جاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ یہ سب لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے آزادی سکوائر کی جانب رواں دواں تھے۔ ہمارے ہاں عموما اس طرح کی تقریبات سرکاری نگرانی میں اور سرکاری خرچے پر سرکاری لوگوں کے توسط سے منائی جاتی ہیں جب کہ یہاں پر ہم نے محسوس کیا کہ لوگ اپنی گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسیوں حتیٰ کہ اپنی موٹر بائیکس اور سائیکلوں پر بے خوف و خطر ٹولیوں کی شکل میں طے شدہ مرکز پر بغیر کسی دھکم پیل کے انتہائی منظم انداز میں جمع ہو رہے تھے۔

اس دن کو یوں منایا جا رہا تھا جیسے ہمارے ہاں عیدین کے دن منائے جاتے ہیں جن میں سب لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے عید گاہوں کا رخ کرتے ہیں اور نماز عید کے بعد ہر کوئی ہر کسی سے بلاتکلف عید ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی ہوبہو عید کا سماں تھے جو ہمارے لیے یقیناً خوشگوار حیرت کا پہلو لیے ہوئے تھا۔ ہزاروں گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا اتنا بہترین انتظام کیا گیا تھا کہ ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی کہیں نہ تو بے ہنگم رش نظر آیا اور نہ ہی کوئی دھکم پیل بلکہ سب لوگ کھلی اور کشادہ سڑک پر پہلے یوم آزادی کی پریڈ میں جاتے ہوئے نظر آرہے تھے اور بعد میں جب پریڈ ختم ہو گئی تو تب بھی ہر کوئی شاداں و فرحاں اپنی گاڑیوں کی جانب رواں دواں نظر آئے جہاں سے ٹریفک پولیس انتہائی منظم انداز میں ٹریفک کو کنٹرول کر ہی تھی جس کی وجہ سے کسی کو بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا۔ اس نظم ضبط اور جوش و خروش کو دیکھ کر ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ امریکہ اور مغرب کی چار دہائیوں کی اقتصادی اور سیاسی و سماجی پابندیوں کے باوجود یہ طاغوتی قوتیں اب تک ایران کو کیوں جھکنے پر مجبور نہیں کرسکیں ہیں۔

دراصل جس قوم میں محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں اور حکمرانوں اور عوام میں کوئی حد فاصل نہ ہو اور جہاں کے حکمران خود کو عوام کے حقیقی خادم سمجھیں اور قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اس ملک کی ہر چیز اور ہر فیصلہ ان کے لیے ہے اور وہ اور ان کے حکمران ایک پیج پر ہیں اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے تو پھر وہ معاشرہ حقیقی معنوں میں ایک قوم کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے پھر نہ تو کوئی بیرونی اور اندرونی طاقت شکست دے سکتی ہے اور نہ ہی ملک پر کوئی کڑا وقت آنے پر حکمرانوں اور عوام میں کوئی جدائی اور دوری نظر آتی ہے ایسے حالات میں سب ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر وطن دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کی بہترین مثال ایران ہے جس کا انقلاب 44 سال گزرنے کے باوجود آج بھی تمام تر مغربی سازشوں کے علی الرغم نہ صرف زندہ و تابندہ ہے بلکہ بلاتفریق جنس و عمر ہر ایرانی امام خمینی کے فرمودات اور ان کی انقلابی قیادت میں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم اور ہمہ وقت تیار اور بیدار ہے۔

Facebook Comments HS