ضیا محی الدین صاحب کے انتقال پر ایک تعزیتی تحریر
ضیا صاحب ریڈیو اور تھیٹر کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ۔ لہجے کی شائستگی۔ روانی اور الفاظ کی ادائیگی کچھ ان ہی حصہ تھی۔ مرحوم نے مختلف افسانہ نگاروں اور مصنفین کے مضامین کچھ اس انداز سے پڑھے کہ ہر کردار سامنے چلتا پھرتا۔ محسوس ہوتا ہے۔ اسد محمد خان کی کہانی باسودے کی مریم۔ مئی دادا۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین۔ پطرس کے مضامین۔ محمد علی ردولی کے خطوط جو انہوں نے اپنی بیٹی ہما کے نام لکھے اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ اور ضیا صاحب کی آواز نے اسے امر کر دیا۔
غالب کے خطوط کو ضیا صاحب نے کچھ ایسے پڑھا کہ دلی میں کوچہ بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں مرزا لاٹھی ٹیکتے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ دلی کی بولی ٹھولی اور اس دور کی معاشرت کا بیان اس قدر دل آویز ہے کہ قاری خود کو بھی انہی کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔
ضیا صاحب نے منٹو کی کہانیاں کو جس انداز سے پڑھا وہ ناقابل یقین ہے۔ ضیا صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مرکزی کردار بشن سنگھ کو جس خوبصورتی سے انہوں نے پیش کیا وہ کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا اسی طرح منٹو کے افسانے نیا قانون۔ کھول دو اور ٹھنڈا گوشت کی پڑھنت سننے والے کو اسی ماحول میں پہنچا دیتا ہے۔
فیض صاحب کی شاعری کو جس انداز سے ضیاء محی الدین مرحوم نے پڑھا وہ سننے والے پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
پھر کوئی آیا دل زار۔ نہیں کوئی نہیں۔
راہ رو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا۔
گل کرو شمعیں۔ بڑھا دو مے و مینا و ایاغ۔
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر دو۔
اب یہاں کوئی نہیں۔ کوئی نہیں آئے گا۔
انکے پڑھے اس قطعہ کو سن کر شاعر کی مایوسی کی شدت کا احساس ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک اور قطعہ۔
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔
الفاظ کی ادائیگی۔ تلفظ اور احساس کی شدت انتہائی بلندی پر نظر آتی ہے۔
ضیا صاحب کا ہم سب پر احسان ہے کہ انہوں نے اردو ادب کے ایسے نایاب شاہکاروں سے ہمیں فیضیاب کیا۔ وہ ایک دور کے امین تھے جس میں تہذیب و شائستگی اب و آداب تھا۔
ضیاء محی الدین صاحب کی صرف کو ایک ہالی وڈ فلم لارنس آف عربیہ ہی کے حوالے دیے جاتے ہیں جبکہ ان کی کئی دوسری فلموں کا تذکرہ بالکل نہیں ہوتا جیسے Sammy Going South اور Behind a pale horse جس میں وہ ہالی وڈ کے عظیم اداکار گریگری پیک کے ساتھ تھے۔ یہ دونوں فلمیں بھی کراچی کے سنیما ہاؤس میں دکھائی گئیں تھیں۔ اس کے علاوہ ای ایم فوسٹر کے شہرہ آفاق ناول پر مبنی ایک کھیل A Passage to India میں ضیا محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا لافانی کردار ادا کیا۔ یہ کھیل لندن کے تھیٹرز میں کئی برس چلتا رہا۔
ضیا صاحب کی ایک اور انگریزی فلم جو کراچی میں فلمائی گئی یہ فلم ہیجڑوں کی زندگی پر بنائی گئی تھی۔ فلم میں انہوں نے ہیجڑوں کے گرو کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم کا نام Immaculate Conception تھا۔ اس فلم میں شبانہ اعظمی اور کئی ہالی وڈ کے اداکار بھی تھے۔
ضیا صاحب کے دور میں جب قومی ایر لائن بھی عروج پر تھی انہوں نے Happy Landing کے عنوان سے ان فلائٹ میوزک میں پاکستان کی علاقائی موسیقی اور دھنوں کو سازوں پر متعارف کرایا۔ خمیسو خان کا الغوزہ۔ ستار نواز اور طبلہ نواز استادوں کی ہلکے ہلکے سر مسافروں کو وطن کی یاد دلاتے تھے اور پرواز کا لطف دوبالا ہوجاتا تھا۔
مرحوم نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی بنیاد ڈالی اور بہترین ڈرامے اسٹیج کئیے۔ اس ادارے نے نصیر الدین شاہ۔ شبانہ اعظمی۔ اوم پوری اور اسٹیج کی دنیا کے بڑے اداکاروں کو مدعو کیا جنہوں نے نئے سیکھنے والے فنکاروں کو بہت کچھ سکھایا۔ اس ادارے نے نئے ٹیلنٹ کی گرومنگ میں بہت معاونت کی۔
ضیا صاحب کی صلاحیتوں اور خدمات کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں۔
ضیاء صاحب نے ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن پر یادگار پروگرام کئیے۔ ریڈیو سے محرم الحرام میں ان کی آواز میں پیش کئیے جانے والے مرثیے اور منقبت اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے جس رقت سے واقعہ کربلا اور اہلیت پر ہونے والے مصائب کا بیان کیا وہ سننے والے کی آنکھیں نمناک کر دیتا ہے۔
مرحوم نے پاکستان ٹیلی ویژن سے بے شمار علمی اور معلوماتی پروگرام کئیے۔ ضیا محی الدین شو ہر عمر کے افراد میں یکساں مقبول تھا جس میں ملک کے مشاہیر اور علمی شخصیات شرکت کرتیں اور علم و ادب کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہماری معروف اور نہایت محترم خوش بخت شجاعت جو ان دنوں خوش بخت عالیہ تھیں اسی شو سے منظر عام پر آئیں اور ملک گیر شہرت حاصل کی۔ ضیا محی الدین شو میں انہی کا مشہور جملہ ”شاکرہ کی ماں بولی“ اور ان کا ”ٹھیکہ لگانا“ آج بھی اس نسل کے لوگ نہیں بھولے ہوں گے ۔ وہ تفریح تفریح میں اپنے ناظرین کو علم و ادب سے بھی روشناس کرتے رہے۔
ضیا صاحب نے پاکستان میں کئی فلمیں بھی کیں لیکن شاید فلموں کا ماحول ان کی طبیعت سے میل نہیں کھاتا تھا اور وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے۔
آج ضیا صاحب ہم میں نہیں رہے لیکن جو وہ دے گئے اس کا قرض شاید کبھی نہ اتارا جا سکے گا۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔

