ویلنٹائنز ڈے اور رومانیت

ہمارے معاشرے میں ویلنٹائنز ڈے کو عموماً مغربی تہذیب کی بے حیائی اور بے راہروی سے منسلک کیا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جب فقط دل کی شکل کے لال غبارے، چاکلیٹ اور ربن میں لپٹے گریٹنگ کارڈز اور لال گلاب محبت کے اظہار کا ذریعہ نہیں تھے تو کیا تب ہمارے معاشرے میں رومانی جذبوں کا وجود نہیں تھا؟
ہمارا مسئلہ ویلنٹائنز ڈے نہیں ہمارا مسئلہ وہ تنگ نظری ہے جس نے رومان کو فقط مرد اور عورت کے جسمانی ملاپ سے جوڑ رکھا ہے۔ رومانیت تو فطرت کو سراہنے کا نام ہے، جذبوں کی حساسیت اور وجدان کی اہمیت کا نام ہے، جمالیاتی حس کی طاقت اور بلندیوں کا نام ہے۔ ہماری تو ثقافت رومانی لوک داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ ہماری تو شاعری، ناولز اور افسانے محبوب کے ہجر و وصال میں پورے چاند کی راتوں، رات کی رانی کی خوشبو، دریا کے ٹھہرے پانی کے سکوت، بل کھاتی ندی کے شور اور ڈھلتی شام کے منظر کے گرد طواف کرتے پائے جاتے ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان محبت، رومانیت کا ایک پہلو ہے جبکہ رومانیت کے کئی رنگ ہیں جن میں جذبات، وجدان، نسوانیت، ماورائیت، تخیل، ماضی اور فطرت پرستی، ہمدردی اور خود پسندی شامل ہیں۔
لیکن ہمارے معاشرے میں تہذیب الاخلاق اور مغربی تہذیب سے نفرت اس قدر رچی بسی ہے کہ جمالیاتی حس، رومانی تخیل، احساس اور جذبات کو ہم عورت اور مرد کے درمیان جنسی عمل سے جوڑے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔
ویلنٹائنز ڈے کی بھی تاریخ پڑھیں تو کافی مبہم ہے مگر ایک بات ثابت ہے کہ یہ دن محبت کے اظہار کا دن ہے جو بلاشبہ آغاز میں مرد اور عورت کے ازدواجی رشتے سے منسلک تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ محبت کے اظہار کا استعارہ بن گیا۔ اور بلاشبہ معاشرتی ارتقاء ویلنٹائنز ڈے پر بھی لاگو ہوا اور موقع پرستوں نے اس دن کا جو کہ کئی مغربی معاشروں میں مقدس گردانا جاتا تھا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔
تحریر کا مقصد ویلنٹائنز ڈے کی وکالت ہرگز نہیں، اور نہ ہی رومانیت کی تاریخ اور تشریح بیان کرنا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہم جان سکیں کہ ہمارے شعراء اور ادیب کس طرح رومانی جذبات اور احساسات کو ہماری معاشرتی اقدار اور ثقافت کے تناظر میں اظہار کا جامہ پہناتے ہیں۔
ہمارے نوجوان رومان کو شاعری، ناولز اور افسانوں کے ذریعے سے جانتے ہیں۔ اردو ادب میں برصغیر میں رومانوی تحریک سرسید احمد خان کی اصلاحی تحریک کی مخالفت میں شروع کی گئی۔ اس دور میں جب ادب پر مذہبی، اخلاقی، تہذیبی اور تمدنی رنگ غالب تھا، رومانوی تحریک عقلیت اور منطقیت کے برعکس جذبات اور تخیل کی ابھرتی رو تھی۔ یورپ میں بھی رومانوی تحریک اٹھارہویں صدی کے وسط میں شروع ہوئی۔ رومانوی تحریک صنعتی ترقی کی وجہ سے انسانی استحصال اور عقلیت اور منطقیت (جو احساس اور جذبات کی ضد ہے ) کے ردعمل میں شروع ہوئی۔ علامہ اقبال مغربی رومانی تحریک سے متاثر ہو کر کہتے ہیں کہ
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
رومانوی تحریک کے ابتدائی شعراء میں ایک نام عبدالحلیم شرر کا ہے جنہوں نے معاشرتی گھٹن اور جمود کی دیواروں میں رومانیت کی ضربوں سے دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی تاکہ آسودگی اور تازگی فراہم ہو۔
عبد الحلیم شرر کی غزل کے دو اشعار حاضر ہیں۔
تم اور وفا کرو یہ نہ مانوں گا میں کبھی
اس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو
کیا کیا شررؔ ذلیل ہوئے آبرو گئی
ایسا بھی عاشقی کا کسی کو مزا نہ ہو
ابتدائی رومانوی تحریک کے ایک اور شاعر فراق گورکھپوری رومانیت کا اظہار یوں کرتے ہیں
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
جوش ملیح آبادی کے جذبے کی بے باکی ملاحظہ فرمایے
اے جوشؔ الجھتا ہے کیوں شیخ سبک سر سے
وہ عشق کو کیا سمجھے وہ حسن کو کیا جانے
ڈیجیٹل دور سے پہلے نوجوان اپنے رومانی جذبوں کے اظہار کے لئے پروین شاکر، احمد فراز، محسن نقوی، ناصر کاظمی، قتیل شفائی اور امجد اسلام امجد اور ان کے ہم عصر درجنوں شعراء کی شاعری کا سہارا لیا کرتے تھے۔ اشفاق احمد کے افسانوں کے مجموعے ”ایک محبت سو افسانے“ سے کون واقف نہیں تھا۔ ویلنٹائنز ڈے پر اب بھی پیغامات بھیجے جاتے ہیں، مگر شاید اب کوئی اپنے محبوب یا دوست کو ہاتھ سے خط نہیں لکھتا جذبے کے اظہار کے لیے شعر کا انتخاب نہیں کرتا ناول یا افسانوں سے خیال مستعار نہیں لیتا۔
آخر میں ویلنٹائنز ڈے کی مناسبت سے کچھ شعری انتخاب جس میں رومان بکھرا پڑا ہے۔
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
امجد اسلام امجد
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
پروین شاکر
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
قتیل شفائی
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
محسن نقوی
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
ناصر کاظمی
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز
جہاں ہر دن پر جبر و ہیبت چھائی ہے وہاں ایک دن رومانی لمحوں کی آغوش میں اگر زندگی کی سفاک صورتوں سے چند لمحے فرار مل جائے تو کوئی قباحت تو نہیں۔

