ایک بزرگ شخص کی پریشانی – تحریر برائے بالغان!

وہ پچاس پچپن سال کا بوڑھا آدمی تھا۔ سفید داڑھی کے ساتھ چہرے پہ عجیب قسم کی وحشت لیے میرے پاس آیا تھا۔ کچھ پوچھے بغیر بھی انتشار اس کی آنکھوں سے چھلک رہا تھا۔
”کیا مسئلہ ہوا ہے؟“ میں نے رسمی انداز میں پوچھا
”ڈاکٹر صاحب کیا میں آپ پہ بھروسا کر سکتا ہوں“ اس نے بہت جھجکتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا۔
”جی ضرور کر سکتے ہیں“ میں نے نرم انداز میں جواب دیا
اس نے میرا جواب سننے کے بعد کچھ لمحے اپنے ہاتھ کی انگلیاں مسلیں اور پھر بولنا شروع کیا
”ڈاکٹر صاحب میرا ذہن ٹھیک نہیں، مجھے ہر وقت ایک ہی خیال آتا رہتا ہے۔ میں کوشش کر کے بھی اس خیال سے باہر نہیں نکل پا رہا“ اس کی آواز سے بیچارگی چھلک رہی تھی۔
”کیا خیال آتا ہے آپ کو“ میں نے تفصیل جاننا چاہی تو بزرگ کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔ پھر بڑے ہی دھیمے لہجے میں بولے
” مجھ پہ ہر وقت شہوت طاری رہتی ہے۔ میرا دل کرتا ہے میری بیوی ہر وقت میرے پاس ہو اور میں اس سے اپنی شہوت پوری کرتا رہوں۔“ وہ ایک لمحے کے لیے چپ ہو گیا تھا، پھر بولا
”ڈاکٹر صاحب اب میری عمر اس سب کی نہیں رہی۔ بیوی کے پاس جاتا ہوں تو وہ باتیں سنانے لگ جاتی ہے کہ تم نے کیا تماشا بنایا ہوا ہے۔ میرے بچے مجھے برا بھلا کہنے لگ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تمھاری ہوس ہی نہیں ختم ہو رہی، اپنی عمر دیکھو اور اپنے کام دیکھو۔ اتنی ہی آگ لگی ہوئی ہے تو پہلے بیٹیوں کی شادی کر لو پھر اپنی بھی کر لینا تاکہ تمھارے سینے میں ٹھنڈ پڑ جائے۔“
اب اس کی آواز لرزنے لگی تھی اور اس میں نمی بھی چھلکتی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا، میں اس کی آنکھیں تو نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن مجھے آواز سے لگ رہا تھا اس کی آنکھیں تکلیف اور آنسوؤں سے بھری ہوئی ہوں گی ”
”ڈاکٹر صاحب میں نے اللہ کی طرف پلٹنے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن میں کیا کروں نماز میں بھی کھڑا ہوتا ہوں تو یہی خیال آتے رہتے ہیں۔ اور اتنی شدت سے آنے لگتے ہیں کہ میرا دل کرتا ہے میں نماز توڑ دوں۔ بیوی مجھے اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتی، بچے مجھے منہ نہیں لگاتے۔ خدا بھی مجھے قبول نہیں کرتا اور ان سب خیالات کو ذہن سے نکالنا بھی میرے بس میں نہیں رہا۔ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے دیواروں میں ٹکریں مارنے لگ جاؤں“ اس کی آواز میں اتنی تکلیف اور بے بسی تھی کہ میں خود رنجیدہ ہو چکا تھا۔
” ڈاکٹر صاحب میں کوئی برا انسان نہیں ہوں، میں نے کبھی کسی کی ماں بہن پہ بری نظر نہیں ڈالی لیکن معلوم نہیں یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میرا اپنے اوپر اختیار ہی ختم ہو گیا ہے، میں کچھ بھی کر رہا ہوں یہی خیال آتے رہتے ہیں۔ کھانا کھاتے ہوئے، کام پہ جاتے ہوئے، دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے، اور کچھ ذہن میں آتا ہی نہیں۔ میں چاہ کر بھی اس سب سے نکل ہی نہیں پاتا“ اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئے اور پھر ساری گفتگو کے دوران پہلی بار اپنا سر اٹھایا، میری طرف دیکھا اور بولے
” ڈاکٹر صاحب مجھے کوئی ایسی دوائی دیں کہ یہ سب کچھ میرے ذہن سے نکل جائے، مجھے کچھ دیر کے لیے سکون مل جائے۔ میں ایک حکیم سے بھی دوائی لایا تھا، کئی مہینے استعمال کرتا رہا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میرا کوئی آپریشن کرنا ہے تو کر دیجیے، کوئی دوائی دینی ہے تو وہ دے دیجیے لیکن مجھے اس عذاب سے نکال دیجیے۔ مجھ سے اب یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ایک جنگ میرے اندر جاری ہے اور دوسرا محاذ میرے بیوی بچوں نے میرے خلاف کھول رکھا ہے۔ میں کسی کام کا نہیں رہا، میری زندگی بھر میں کمائی گئی عزت مٹی میں مل رہی ہے۔ مجھے کسی طرح بچا لیجیے۔“
بزرگ کی آنکھ سے کوئی آنسو نہیں ٹپکا تھا لیکن ایسی شعائیں ضرور نکل رہی تھیں جو ان کا کرب مجھ پہ طاری کیے جا رہی تھیں۔ وہ تکلیف میں تھے اور شدید تکلیف میں تھے۔ میں انھیں بتانا چاہتا تھا کہ یہ خیالات کوئی بیماری نہیں ہیں، انھیں سمجھانا چاہتا تھا کہ کسی بھی عمر میں بیوی سے قرب کی خواہش ان کا جائز حق ہے۔ میں انھیں سکون کے لیے دوائی بھی دینا چاہتا تھا لیکن ان کی حالت دیکھ کر میرے لفظ چھوٹے پڑ گئے تھے اور مجھ سے بولا نہیں جا رہا تھا۔

