امجد اسلام امجد، ضیاء محی الدین : پاکستان قیمتی اثاثے سے محروم ہو گیا


سال 2023 اپنے آغاز میں ہی پاکستان کے ادب کے لیے بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ ابھی ہم امجد اسلام امجد کی جدائی کے صدمہ سے سنبھل نہ پائے تھے کہ آسمان شعر و ادب کے درخشاں ستارے اپنی آواز اور لب و لہجے کے لیے منفرد شہرت کے حامل جادو گر اینکر اور مصنف ضیا محی الدین 92 برس کی عمر میں وفات پا گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔

لاہور میں 1944 کو جنم لینے والے امجد اسلام امجد کا شمار پاکستان کے مشہور ادیبوں میں ہوتا تھا اور وہ 20 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔ انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز شعبۂ تدریس سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دو ادوار میں لاہور کے ایم اے او کالج کے شعبۂ اردو سے منسلک رہے۔ یہاں یہ ذکر غیر ضروری نہیں ہو گا کہ لاہور کے نیک نامی سے کوسوں دور ایم اے اور کالج اپنے اندر امجد اسلام امجد، عطا اللہ قاسمی، جناب یونس احقر اور پروفیسر تحسین فراقی جیسے انمول اساتذہ سموئے ہوا تھا۔

امجد اسلام امجد نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں پاکستانی ٹیلیویژن کے لیے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنھوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے جن میں وارث، دہلیز، سمندر، دن، فشار اور ان جیسے کئی ڈرامہ سیریل شامل ہیں۔

ان کا شمار پاکستان میں غزل اور نظم کے ایسے شعرا میں ہوتا تھا جن کی مقبولیت ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی یکساں تھی۔

امجد اسلام امجد کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انھیں سنہ 1987 میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارۂ امتیاز سے نوازا تھا۔

1975 میں پنجاب آرٹس کونسل کے قیام کے بعد امجد اسلام امجد کو اس ادارے کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان ٹیلیویژن سے منسلک رہنے کے علاوہ چلڈرن کمپلیکس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی رہے۔

ضیا محی الدین پاکستان کے پہلے شو ہوسٹ تھے اور اپنے پروفیشن کی جان تھے۔ ان کے الفاظ موتیوں کی مانند ان کی گفتگو میں جڑے ہوتے تھے۔ بے مثال آرٹسٹ۔ تلفظ، زیر زبر کی حرمت کا خیال رکھنے والے استاد۔

انگریزی اور اردو زبان میں لفظوں کے تلفظ کی درست ادائیگی ہو یا تاریخ کے حوالہ جات، ہر موضوع پر ضیا محی الدین کی گرفت مضبوط تھی۔ ان کے منہ سے نکلے الفاظ سند کا درجہ رکھتے تھے۔ جن لوگوں نے مرحوم ضیا محی الدین کو سنا، پڑھا یا دیکھا، وہ ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔

محرم الحرام کے ایام میں ٹی وی پر مرثیہ خوانی کرتے ہوئے ان کا انداز سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ ان کی زبان سے ادا ہوئی کربلا کی ’داستان ظلم‘ لوگوں کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتی۔

ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو پاکستان کے شہر فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ 50 کی دہائی میں لندن کی رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

‏مشتاق احمد یوسفی مرحوم کہتے ہیں کہ روز محشر اپنا اعمال نامہ ضیا محی الدین سے پڑھنے کو کہوں گا۔ آج زمیں ایک اور خزانہ چھپانے کو ہے۔ ‏اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا الوداع سر۔ ہم آپ کے عہد میں ہونے پر ہمیشہ نازاں رہیں گے۔ ضیاء محی الدین کیا گئے، یوں لگ رہا ہے گویا اردو یتیم ہو گئی

ضیا محی الدین ان چند پاکستانیوں میں شامل تھے، جنھوں نے پاکستان سے باہر جا کر بھی تھیٹر اور فلموں میں کام کیا تھا۔ تقریباً 67 سال تک تھیٹر اور فلم انڈسٹری سے منسلک رہنے والے ضیا محی الدین 2005 سے 2021 تک نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) سے بطور بانی اور سربراہ وابستہ رہے۔

پھر وہ اس عہدے سے اپنی مرضی سے سبکدوش ہو گئے اور اپنی خدمات ادارے کو رضاکارانہ طور پر دے رہے تھے۔ اسی دوران ضیا محی الدین نے سنہ 2022 میں شیکسپیئر کے ڈرامے ’رومیو اینڈ جولیٹ‘ کو اردو زبان میں پیش کر کے طالب علموں کو کلاسیکل تھیٹر بھی سکھایا۔ مرحوم ضیا محی الدین کہا کرتے تھے کہ ’پروفیشنلزم میرے نزدیک ایمان کی مانند ہے۔ میرا نہیں خیال کچھ بدلاؤ آیا ہے۔ سٹیج ایکٹنگ پروفیشنل ہے۔ ‘

مرحوم امجد اسلام امجد اور جہان اردو کے بے تاج بادشاہ ضیاء محی الدین پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھے ان کے دار فانی سے دارالبقاء کی طرف چلے جانے سے پاکستان اس قیمتی اثاثہ سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء تا ابد پر نہ ہو سکے گا۔ لیکن جب تک شعر و ادب او ر اسٹیج شوز کی میزبانی، فلم، تھیٹر اور مرثیہ خوانی کی دنیا آباد رہے گی امجد اسلام امجد اور ضیاء محی الدین کی مہک دنیا کو معطر رکھے گی۔ دونوں عظیم شخصیات میں ایک چیز قدر مشترک یہ رہی کہ دونوں اپنے آخری پروگرام میں شریک نہ ہو سکے۔

Facebook Comments HS