کیا اکیسویں صدی مغرب کی بالادستی کی آخری صدی ہے!
کیا اکیسویں صدی مغرب کی بلا دستی کی آخری صدی ہے اور کیا دنیا پر مغرب کی 500 سالہ اجارا داری کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے اور کیا چین، بھارت اور ترکی وغیرہ دنیا میں مغرب کی جگہ لے رہے ہیں۔ آئے ہم اس حقیقت کا جائزہ تاریخ اور موجودہ صورتحال میں لیتے ہیں
پندرہویں صدی تک عالمی معیشت میں چین، ہندوستان کا حصہ 70 فیصد تک تھا اور دنیا میں سیاسی طور پر طاقتور چین کی منگ سلطنت ہندوستان کی مغلیہ سلطنت اور وسطی ایشیا کی سلطنت عثمانیہ تھیں۔ اسی پندرہویں صدی میں یورپ میں غربت عام تھی۔ لندن، پیرس اور برلن کا بیجنگ، دہلی اور اڈیانا پول ( سلطنت عثمانیہ کا پرانا دارالحکومت ) سے کوئی مقابلہ نہیں تھا یہ مغربی شہر نہایت چھوٹے، گندے اور جرائم کے لحاظ سے آج کے ساوپالو، جوہانسبرگ اور میکسیکو سٹی سے زیادہ خطرناک شہر تھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سولہویں صدی سے یہ طاقت کا توازن مسلسل مغرب کی جانب جھکتا جاتا ہے اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں برطانیہ جیسے چھوٹے ملک نے دنیا کی سب سے بڑی امپائر قائم کی جہاں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے ایک جزیرہ کی زبان انگلش کو دنیا کی۔ بین الاقوامی زبان بنا دیا۔ مغرب کی بالادستی کی راز دراصل درج زیل 6 زریں اصولوں پر ہے جو پندرہویں صدی کے مغربی دانشوروں نے مغربی سوسائٹی کو دیا۔
1۔ مسابقت 2۔ سائنسی ایجادات / انقلاب 3۔ قانون کی حکمرانی 4۔ جدید ادویات 5۔ کنزیومر سوسائٹی 6۔ کام سے ایمانداری
اگر اپ پندرہویں صدی کے یورپ کو دیکھیں تو اس وقت سارا یورپ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا اور جہاں عوام کسی حد تک اقتدار میں شامل تھے اور یہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہر شعبے میں ایک دوسرے سے مسابقت کر رہی تھیں خاص طور بحری جہاز رانی اور سائنسی ایجادات میں۔ اسی زمانے میں یورپ کے جہاز رانوں نے نئی دنیا (امریکہ ) دریافت کیا اور ہندوستان پہنچنے کا نیا راستہ دریافت کیا۔ دوسری طرف نئی ایجادات نے ان مغربی ممالک کی افواج کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں جب اورنگ زیب عالمگیر نے کسی بات پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف کارروائی کی تو کمپنی کے نمائندے نے اورنگ زیب عالمگیر کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ بحری جہاز کے ذریعے حج کو ناممکن بنا دیں گے۔
دوسری طرف چین کی منگ سلطنت، ہندوستان کی مغلیہ سلطنت اور سلطنت عثمانیہ دراصل ایک بیوروکریٹک امپائر تھیں جس میں بادشاہ ان خاندانی بیوروکریٹ کے ذریعے پورے ملک پر حکومت کرتے تھے چونکہ یہ عہدے زیادہ تر موروثی ہوتے تھے لہٰذا ان میں مسابقت نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی لہٰذا معاشرہ میں بھی مسابقت نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی جس کی وجہ سے یہ ممالک سائنسی ایجادات کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گئے جس کا اثر ان کی افواج پر بھی پڑا اور یہ ریاستیں مغرب کے جدید اسلحہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں اور اس طرح آہستہ آہستہ دینا کے نقشے پر مغربی طاقتیں سپر پاور کے طور پر نمودار ہونے لگیں۔
سترہویں صدی کا صنعتی انقلاب جہاں مغرب میں خوشحالی لے کر وہاں پہلی دفعہ عام کسان جاگیردار کے چنگل سے نکل کر صنعتی مزدور بن گیا جہاں وہ اپنی مرضی کا مالک تھا۔ اس آزادی اور خوشحالی نے عوام میں اپنے کام سے ایمانداری کا جذبہ پیدا کیا تو دوسری طرف خوشحالی نے ایک کنزیومر سوسائٹی کی بنیاد ڈالی۔ جدید دواؤں کے استعمال سے مغرب میں اوسط عمر میں بھی اضافہ ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیسویں صدی کے وسط تک عالمی معیشت میں مغرب کا حصہ 80 فیصد تک پہنچ گیا ایک عام یورپی / امریکی ایک عام چینی / ہندوستانی کے مقابلہ میں 25 گنا زیادہ امیر اور 15 سے 20 سال زیادہ جیتا تھا لیکن بیسویں صدی کے آخر میں مغربی اقوام کے اس ماڈل کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں خاص طور پر چین اور بھارت نے اپنا لیا۔
دوسری طرف مغرب میں لوگوں نے کام کم کرنا شروع کر دیا اور مہنگی لیبر ہونے کی وجہ بہت ساری کمپنیوں نے اپنی فیکٹریاں چین بھارت اور ملیشیا جیسے ممالک نے لگانا شروع کر دیا ہے چونکہ مغربی ممالک کے عوام کو خرچ کرنے کی عادت پڑ چکی ہے لہٰذا وہ اپنی امدنی سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یورپ اور امریکہ میں مالیاتی بحران دیکھ رہے ہیں۔ دراصل یہ مالیاتی بحران ہی ہے جو مغرب کی بالا دستی کے خاتمہ کا اشارہ دے رہا ہے۔
آج ایک اوسط امریکی اور چینی کی آمدنی میں فرق 5 گنا رہ گیا ہے اور بہت سے معاشی ماہرین کے مطابق 2030 تک یہ فرق ختم ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سوویت یونین کا خاتمہ ہی مالیاتی بحران سے ہوا تھا لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب کی بالا دستی کا خاتمہ عنقریب ہونے والا ہے اور ایک بار پھر چین، ہندوستان اور ترکی وغیرہ دنیا کے نقشے پر پندرہویں صدی کی طرح سپر پاور کے طور پر نمودار ہونے والی ہیں۔


