چین میں بغیر ڈرائیور کے گاڑیوں کا استعمال اعتصام الحق ثاقب (بیجنگ)


14 فروری 2023 سے پلاننگ اینڈ ایڈیٹنگ ڈیپارٹمنٹ چائنا میڈیا گروپ نے ایک سرگرمی کا آغاز کیا جس میں دنیا بھر میں بولی جانے والی کئی زبانوں کے ماہرین اور چینی رپورٹرز، اینکرز اور تبصرہ نگاروں کو بیجنگ اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ زون لے جا کر ”بیدو اپولو پارک“ میں کے بغیر پائلٹ کے ڈرائیونگ کا تجربہ کروایا گیا تا کہ چین کی سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی اور معاشی توانائی کو دنیا محسوس کر سکے۔

بیدو اپولو پارک پہنچنے پر شاندار استقبال کے بعد مہمانوں کو موقع دیا گیا کہ وہ مختلف ماڈلز کی گاڑیاں، ان کی جدتیں، ان کے صلاحیتیں دیکھ سکیں اور ساتھ ہی بیدو میں اس پراجیکٹ کی تاریخ کے حوالے سے بھی جان سکیں۔ سال 2013 میں اس مقام پر اس ٹیکنالوجی پر کام کے آغاز کے بعد سے مختلف ترقیاتی مراحل طے کرنے کے بعد یہ خود کار گاڑیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ اب ان کے کمرشل استعمال کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سفر کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ یہ خود کار گاڑیاں عام سڑک پر دوسری گاڑیوں کی رفتار، ان کی اوورٹیکنگ، ان کے اچانک سامنے آ جانے اور کسی بھی قسم کے حادثے سے لے کر ٹریفک سگنلز تک کو بھی محسوس کر سکتی ہیں جس سے اس گاڑی میں استعمال ہو نے والی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معیار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا آغاز چین میں 1992 میں ہوا تھا۔ آغاز میں ظاہر ہے کہ یہ لیول 1 ٹیکنالوجی پر مشتمل تھا اور اس میں آپ کے ساتھ اہلکار بھی موجود ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

ذہانت کے معیارات کے مطابق خود کار ڈرائیونگ کو ایل ون سے ایل فائیو تک پانچ درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

ایل ون، معاون ڈرائیونگ Assisted driving
ایل ٹو، جزوی خودکار ڈرائیونگ Partially autonomous driving
ایل تھری، مشروط خودکار ڈرائیونگ Conditional autonomous driving
ایل فور، انتہائی خودکار ڈرائیونگ، highly autonomous driving
ایل فائیو، کامل خودکار ڈرائیونگ fully autonomous driving

چین میں خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے بارے میں تحقیق سال انیس سو بانوے میں شروع ہوئی۔ گزشتہ تین عشروں سے چین میں خود کار ڈرائیونگ کی مقبولیت کی شرح اور کمرشلائزیشن کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایل ٹو اور اس سے اوپر کے درجے کی خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر اطلاق کیا جا رہا ہے۔ مخصوص نوعیت کی اعلیٰ سطحی خود کار ڈرائیونگ کا تجارتی شعبے میں بھی اطلاق جاری ہے۔ چین میں خود کار ٹیکنالوجی نہ صرف وسیع پیمانے پر فعال ہو رہی ہے بلکہ حکومتی پالیسی اور مالیاتی امداد کی بدولت خود کار ڈرائیونگ سے وابستہ مختلف شعبوں میں بنیادی تنصیبات اور سہولیات میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ اور اہم بات یہ ہے کہ سوچنے، فیصلہ کرنے اور عمل کرنے جیسے کلیدی شعبوں میں چینی ساختہ خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی فعال ہے۔

خود کار ڈرائیونگ کے لیے تین اہم شعبوں کی ٹیکنالوجی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، یعنی سوچنا، فیصلہ کرنا اور عمل کرنا۔ سوچنے والے سسٹم کو انسانی آنکھوں اور کانوں کی مانند قرار جاسکتا ہے۔ یہ آس پاس کے ماحول سے آگاہی کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ یہ گاڑی کے اطراف کی صورتحال سے وابستہ معلومات اور گاڑی کی اندر کی معلومات جمع کرتا ہے۔ اس سسٹم میں گاڑی میں نصب شدہ ریڈارز اور کیمرے شامل ہیں۔ فیصلہ کرنے والا سسٹم انسان کے دماغ کے طور پر کام کرتا ہے۔

حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق روٹ کی منصوبہ بندی، نیوی گیشن اور فیصلہ سازی اس سسٹم کی ذمہ داری ہے، جس میں اعلیٰ درستگی والے نقشے اور گاڑیوں کے انٹرنیٹ سمیت ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ عمل کرنے والا سسٹم انسان کے سیریبلم اور دیگر جسمانی عضو کی طرح گاڑی کو چلا سکتا ہے۔ جب سامنے کوئی شخص یا رکاوٹ آ جائے تو، گاڑی خود بخود اس سے بچ سکتی ہے

حالیہ وبا کے عرصے میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگوں تک ضروری اشیا پہنچانے کا کام بھی لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس وقت قرنطین اور سماجی فاصلوں کی وجہ سے یہ مشکل تھا کہ ڈرائیورز کی خدمات بھی لی جاتیں اسی لیے اس ٹیکنالوجی اور خود کار گاڑی کا سہارا لیا گیا

خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی نہ صرف آٹوموٹو مینوفیکچرنگ میں زبردست تبدیلی لا رہی ہے بلکہ جدید صنعت کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس وقت، ذہین معاون ڈرائیونگ آٹوموٹو انڈسٹری میں تبدیلی اور ترقی کا مرکزی دھارا بن چکی ہے۔ مستقبل میں خود کار ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگس، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق اور اطلاق بھی آگے بڑھے گا جس سے چینی معیشت کی تبدیلی اور بہتری میں بھی مدد ملے گی۔ چین کی خود کار ٹیکنالوجی سے جڑی صنعتی چین کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ چین، ذہین معاون ڈرائیونگ کی صنعت کاری میں تیزی سے ترقی کرے گا اور ڈرائیور کے بغیر ڈرائیونگ کے عالمی میدان میں ایک شاندار منظرنامہ تشکیل دیا جائے گا۔

Facebook Comments HS