چھپائی گئی تاریخ میں مستنصر حسین تارڑ کی نقب ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ ۔ ناول۔ مستنصر حسین تارڑ
تاثرات۔ راشد جاوید احمد
ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی سلطنت سپت سندھو جو کہ آج کا پنجاب ہے، صدیوں سے اس الزام کا سامنا کر رہا ہے کہ پنجاب نے ہر حملہ آور کو خوش آمدید کہا ہے اور کبھی مزاحمت نہیں کی۔ یہ درست نہیں۔ تاریخ ہم سے چھپائی گئی ہے۔ پنجاب کی تاریخ اور پاکستان کی پیدائش کے بعد سے ہی پنجاب کی اصل تاریخ پر دبیز پردے ڈال دیے گئے۔ مزاحمت انسانی فطرت کا وصف ہے۔ زندہ رہنے کی خواہش بذات خود ایک مزاحمتی عمل ہے۔ پنجاب میں مزاحمت کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی سپت سندھو کی تاریخ۔ انگریزوں کے قبضے سے لے کر آج پنجاب میں پنجابی زبان کا عدم نفاذ۔ تاریخ کا جاری جبر ہے۔
مزاحمت کی تاریخ بھگت سنگھ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ بھگت سنگھ بارے میری نسل کے لوگ تو تھوڑا بہت جانتے ہی ہوں گے لیکن نئی نسل تو اس کے نام سے بھی آشنا نہیں۔ ادب کے طالبعلم کی حیثیت سے، اپنے ساتھی ادیبوں کی طرح، بھگت سنگھ کے بارے میری معلومات شاید عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہوں لیکن یہ مکمل ہوئیں اس ناول کے مطالعے کے بعد ۔
گزشتہ آٹھ دس برس میں بھگت سنگھ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ان سب تحریروں کا مطالعہ کریں تو سوائے بھگت سنگھ کے جنم دن اور موت کی تاریخ کے کچھ بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا۔ ہاں آم اور بیری کے درختوں کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ تاریخ پڑھنے کا مزہ تو انہیں ہی آتا ہے جو تاریخ کے شیدائی ہیں ورنہ تاریخ کا مطالعہ خاصا مشکل کام ہے۔ خاص طور پر طالبعلموں کے لیے جن کو سن بھی یاد رکھنے پڑتے ہیں۔
بھگت سنگھ کون تھا، کیا کرتا تھا، اس نے کیا کارنامہ انجام دیا، بہت سے مضامیں میں یہ سب پڑھنے کو مل جائے گا اس لیے میں مستنصر حسین تارڑ کے ناول تک ہی محدود رہوں گا۔ یہ ناول پڑھ کر مجھے میری ساتویں کلاس کے تاریخ کے استاد قاضی ہدایت اللہ یاد آ گئے جو تاریخ کے بور نصابی باب، بغیر کوئی کتاب ہاتھ میں پکڑے، کہانی کی طرح کلاس میں سناتے تھے اور گھر پہنچنے تک یہ کہانی ہمارے ذہنوں میں ایسا بسیرا کرتی تھی کہ رٹے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔
” میں بھناں دلی دے کنگرے“ بھی تاریخ کی ایک داستان گوئی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صرف معلوم تاریخ تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ بھگت سنگھ کی جنم بھومی، بنگہ، جڑانوالہ، چک 105 گ ب تک گئے۔ اس کی حویلی دیکھی اور وہ سکول بھی دیکھا جہاں اس کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔
” میں بھناں دلی دے کنگرے“ ناول کا نام، پنجاب کے ایک اور ہیرو، دلے بھٹی کی وار سے لیا گیا ہے۔ یوں تارڑ صاحب نے پنجاب کے دو سورماؤں کو خراج پیش کیا ہے۔ ناول کی کہانی کے مطابق بھگت سنگھ سو سال کے بعد اپنے گاؤں، یعنی اپنی جنم بھومی دیکھنے جاتا ہے۔ سو سال کے بعد تاریخ کے کسی ورق کو اس طرح سے پیش کرنا کہ وہ آج کی کہانی لگے، کوئی آسان کام نہیں۔ جو لوگ بھگت سنگھ اور دلا بھٹی کے ناموں سے آشنا ہیں ان کے لیے یہ ناول بہت لطف کی چیز ہے۔ مجھے تو ناول پڑھتے ہوئے یہی لگتا رہا کہ میں بھگت سنگھ اور مستنصر کا ہمرکاب ہوں، بنگہ سے لاہور تک۔
ہماری تاریخ جہاں نو آبادیاتی جبر سے بھری پڑی ہے وہیں مزاحمتی سورماؤں کی بھی کمی نہیں۔ ناول نگار نے بڑی دلیری کے ساتھ ان لوگوں کے نام لیے ہیں جو بھگت سنگھ کے بم پھینکنے کے وقت اسمبلی سے بھاگ گئے، جو بنچوں کے نیچے چھپ گئے اور جو استقامت سے کھڑے رہے۔ ظاہر ہے کوئی بھی فکشن رائٹر تاریخ کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا۔
بھگت سنگھ انقلابی تھا اور انقلاب سے اس کی مراد تھی، انسانوں کے لیے بہتر زندگی کی کوشش۔ وہ جانتا تھا کہ انقلاب کی روح، انسانوں کے اندر بہت دور تک اتر جاتی ہے اور اسی لیے انقلاب دشمن طاقتیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ بھگت سنگھ کی انقلاب کی یہ تعریف اس ناول میں پوری طرح نظر آتی ہے۔ عام طور پر ناول کا ذکر ہوتے ہی دھیان کسی رومانوی قصے کی طرف چلا جاتا ہے۔ مستنصر نے بھی اسے رومانی ناول بنایا ہے لیکن یہ دو انسانوں کی بجائے بھگت سنگھ اور آزادی کی دیوی کا رومان ہے۔
ناول میں کتے کے ایک پلے کا بھی بھرپور ذکر ہے۔ یہ ایک علامتی کردار ہے۔ بنگہ کی ایک گلی میں کچھ بچے اس پلے کے گلے میں کپڑا باندھے ادھر سے ادھر کھینچ رہے تھے۔ ناول نگار نے پلے کے گلے میں پڑے کپڑے اور بھگت سنگھ کی گردن پر پھانسی کے رسے کی رگڑ کو عمدہ طریقے سے منطبق کیا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ نے بہت پہلے پنجابی زبان کا ایک ناول ”پکھیرو“ کے نام سے لکھا تھا جس کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ہمسایہ پنجاب کے کالج اور جامعات کے نصاب میں شامل رہا۔ بہت عرصے کے بعد ان کا یہ پنجابی ناول شائع ہوا ہے۔ جس لکھاری کا آبائی گاؤں چناب کے کنارے جوکالیاں ہو اور وہ لاہور میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا ہو، وہ پنجابی لکھے بغیر کیسے رہ سکتا ہے۔ مستنصر صاحب کی اردو کتابوں میں بھی پنجاب کی رہتل بہتل بہت نمایاں نظر آتی ہے۔
کتاب سنگ میل پبلیکیشنز نے شائع کی ہے۔ رابطہ کے لیے 37228143۔ 042


