میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے


جرمن فلاسفر آرتھر شوپن ہاور نے کہا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک غریب نہیں ہوتا، صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔

شوپن ہاور کی یہ بات مجھے اس وقت یاد آئی جب لاہور میں کینیڈا کی مشہور کافی کی دکان ٹم ہارٹنز کا افتتاح ہوا۔ سینکڑوں پیسے والے لوگ قطار میں لگے ہوئے تھے اور اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک کافی اور ڈونٹ کم از کم ایک ہزار روپے سے کم نہیں ہو گا۔ پہلے دن ہی اس دکان نے سب سے زیادہ کاروبار کرنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس کافی شاپ نے پہلے دن اتنا کاروبار نہیں کیا جتنا لاہور کی اس دکان نے کیا۔

میں اس ریکارڈ کو سراہتا اگر دوسری طرف آٹا لینے کی قطار میں غریب عوام کو مرتا اور کچلتا ہوا نہیں دیکھتا۔ ایک ہزار روپے یومیہ کمانے والا مزدور اور غربت میں زندگی گزارنے والا شخص اس دکان کے سامنے سے صرف گزر سکتا ہے اور حسرت بھری نگاہوں سے لوگوں کو اندر جاتا اور کافی پیتے دیکھ سکتا ہے۔ کاروبار کرنا اور بین الاقوامی فرنچائزوں کا پاکستان میں آنا خوش آئند بات ہے۔ اس سے حکومت کو ٹیکس اور لوگوں کو ملازمت ملتی ہے لیکن اب تک جتنے پیزا ہٹ، مکڈونلڈ اور اس طرح کے دیگر کاروبار کھلے ہیں، کیا واقعی اس سے وطن عزیز کو کوئی ترقی ملی؟ ان چیزوں سے صرف امیروں کی دولت بڑھی ہے اور معاشرہ تقسیم در تقسیم۔

مغربی ممالک ہم سے اس لیے آگے ہیں کیونکہ ان کے معاشرے میں امیر غریب کا فرق مٹ گیا ہے۔ وہاں پر ہر کوئی ٹم ہارٹنز، اسٹار بکس، پیزا، مکڈونلڈ اور اس طرح کے دیگر کھانے اور مشروبات خرید سکتا ہے۔ ہر شخص کے پاس اپنی گاڑی ہوتی ہے۔ امیر ہو یا غریب ہر کوئی اپنے علاقے کے مفت اسکول میں جائے گا جہاں کا معیار انتہائی اعلی ہو گا۔ امیر ہو یا غریب ہر کسی کو اسپتال اور علاج کی ایک جیسی سہولیات میسر ہیں۔ مغربی ممالک میں لوگوں میں نفرت نہیں ہے۔ وہ آپ کے گھر، گاڑی یا آپ کی حیثیت سے مرعوب نہیں ہوتے۔ یہاں آپ کی عزت آپ کے کام سے ہوتی ہے۔ یہاں خاکروب سے لے کر ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل یا جج ہر کسی کی یکساں عزت ہوتی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ آپ کتنا کماتے ہیں یا آپ کس علاقے میں رہتے ہیں۔

اس کے بر عکس ہمارا معاشرہ نفرت، تقسیم، دولت اور طاقت پر کھڑا ہے۔ یہاں ٹم ہارٹنز کھلے گا اور ریکارڈ کاروبار کرے گا اور دوسری طرف آٹا لینے کی قطار میں لوگوں کو موت ملے گی تو سوال اٹھے گا۔ سوال اٹھنا چاہیے۔ یہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ آپ غریب کو ٹم ہارٹنز کی کافی مت دیں مگر آٹا ڈال تو اس کا حق ہے۔ کتے کے کھانے کا سامان امپورٹ کرنا اس وقت صحیح ہے جب غریبوں کے بچوں کو گندم، دال اور چاول مل جائیں۔ ورنہ یہ ٹم ہارٹنز اور اس طرح کی دیگر دکانیں صرف اشرافیہ کے لئے کھلتی ہیں۔

اشرافیہ اور ان کے بچوں کے لیے یہ ملک بنا ہے۔ جس طرح سندھ کے ایک چیف سیکرٹری نے پچھلے ہفتے اپنی بیٹی کی سالگرہ پر کراچی چڑیا گھر کا مغل گارڈن بند کروایا۔ چڑیا گھر کا ٹکٹ لے کر ہر آدمی مغل گارڈن آ سکتا ہے لیکن اس بڑے افسر نے پولیس اور گارڈز کے ذریعے عوام کا داخلہ ممنوع کر دیا کیونکہ اس افسر کی بیٹی کی سالگرہ کی تقریب یہاں منعقد ہونی تھی۔ لوگوں کے مشتعل اور میڈیا پر خبر چلنے کے بعد فوراً ہی یہ تقریب منسوخ کر دی گئی۔

مجھے اس واقعے کا زیادہ افسوس اس لئے ہوا کیونکہ یہ افسر دو سال کالج اور چار سال انجنیئرنگ یونیورسٹی میں میرے ساتھ تھا۔ انتہائی ذہین لڑکا تھا۔ میں امریکہ آ گیا اور یہ سول سروسز کے امتحان میں بیٹھ گیا۔ حکومتی خرچے اور وظیفہ پر آکسفورڈ سے بھی ڈگری لے لی۔ مجھے توقع تھی کہ اتنا پڑھنے کے بعد شاید یہ سرکاری بابو عوام کو ریلیف فراہم کرے گا اور اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی بھی ہم پاکستانیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اسی طرح کے افسران جب ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں تو داڑھی رکھ کر مسجد کی پہلی صف میں بیٹھ جاتے ہیں۔ کاش یہ داڑھی والے افسران اپنی زندگی اور سرکاری نوکری کے دوران لوگوں کو انصاف مہیا کر دیتے تو آخری وقت میں خدا کو دھوکا دینے کے لئے داڑھی نہ رکھنی پڑتی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2017۔ 2018 کے سال میں سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، سرکاری بابووں اور فوجی اشرافیہ نے 13 بلین ڈالر کی مراعات وصول کی ہیں۔ جی ہاں، 13 بلین ڈالر اور ہم آئی ایم ایف سے صرف 1 بلین ڈالر کی قسط پر الجھے ہوئے ہیں۔

ہم کو معلوم ہے کہ سیاستدان، فوجی جرنیل، جاگیردار، کاروباری شخصیات اور اشرافیہ کتنا انکم ٹیکس دیتی ہے۔ کراچی میں میرا ایک بینک میں سینیئر مینیجر دوست اپنی آٹھ لاکھ ماہانہ تنخواہ پر شاید عمران خان، زرداری اور نواز شریف سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اور آپ نے ان لوگوں کا طرز زندگی دیکھا ہے کہ کس طرح دس دس پولیس موبائل اور پچاس پچاس پولیس والے ان کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہی لوگ جب باہر کے ملک جاتے ہیں تو ان کو کوئی منہ نہیں لگاتا۔ کوئی شہباز شریف ٹیکسی میں گھوم رہا ہوتا ہے، کوئی عمران خان نیو یارک کی ٹرین میں لٹک رہا ہوتا ہے تو کوئی جرنل باجوہ دبئی کے سگنل پر اکیلا کھڑا ہوتا ہے۔

یہی اشرافیہ جب ریٹائرڈ ہو جاتی ہے تو ان کی پنشن لاکھوں میں، خدمت کے لئے اردلی، مفت علاج دنیا کے کسی بھی ملک میں، مفت ہوائی جہاز کے ٹکٹ، بلٹ پروف گاڑی؟ یہ دنیا کے کسی ملک میں ہوتا ہے بھائی!
جرمن فلسفی شوپن ہاور نے کہا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک غریب نہیں ہوتا، صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے!

Facebook Comments HS