سعد رضوی سے کچھ باتیں


پاکستان میں توہین مذہب کا کوئی بھی معاملہ ہو اس کو فوری اور وہ بغیر کسی تصدیق یا ثبوت کے تحریک لبیک کے ساتھ جوڑنا رواج بن گیا ہے۔ کوئی اندرونی یا بیرونی مذہبی ایشو ہوتو تحریک لبیک کو بڑھاوا دیا جاتا ہے اب نکلو باہر کیوں نہیں نکلتے ڈر گئے ہو؟ ایسے درجنوں جملے تحریک لبیک اور اس کے سربراہ سعد رضوی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لاہور میں بادامی باغ میں مسیحی برادری کے گھر نظر آتش کرنے کا واقعہ ہو، قصور میں دو میاں بیوی کو زندہ جلانے کا واقعہ ہو، یوحنا آباد میں دو مسیحی نوجوانوں کو جلانے کا واقعہ ہو، سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پر نتھیا کمار کو زندہ جلانے کا واقعہ ہو، خانیوال میں ایک ذہنی مریض کو تشدد کر کے مارنے کا واقعہ ہو یا ننکانہ میں وارث کو مذہب کے نام پر تشدد کر کے قتل کرنے کا واقعہ ہو۔

ان سب واقعات میں تحریک لبیک کسی ایک واقعہ میں بھی ملوث نہیں پائی گئی۔ اس دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر وزیر آباد میں حملے کا واقعہ ہوا۔ واقعہ میں مبینہ طور پر جو ملزم نامزد کیا گیا اس کا تعلق بھی زبردستی تحریک لبیک سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جن کا مشن صرف ایک مخصوص طبقے یا جماعت کو منفی چہرہ ہی عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔ چاہے وہ لبرل طبقہ ہو یا ٹی وی سکرینوں پر بیٹھا طبقہ ہو۔

جب ان کو پروپیگنڈے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ملتا تو اپنی توپوں کا رخ تحریک لبیک کی طرف کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب آیا یہ سب لوگ منظر سے ہمیشہ کی طرح غائب تھے بس سوشل میڈیا پر لیکچر دینے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ سعد رضوی نے سب سے پہلے تونسہ اور راجن پور پہنچ کر ان سب زبان درازوں کو طمانچہ مارا۔ سعد رضوی نے ان دونوں علاقوں میں باقاعدہ خیمہ بستیاں قائم کیں۔ جس میں ہر فیملی کے لئے دو چارپائیاں، گیس سلنڈر، بچوں کا دودھ، ڈائپرز، رس، کپڑے، جوتے سمیت پندرہ کے قریب ایک پیکٹ میں ایک خاندان کے لئے اشیاء تھیں۔

اسی طرح سعد رضوی نے سوات، بلوچستان اور سندھ کے متعدد اضلاع کے دورے کیے جو سیلاب سے متاثرہ تھے۔ گو کہ جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن اور جمعیت علماء اسلام کی انصار اسلام نے بھی سیلاب متاثرین کی دل کھول کر مدد کی۔ مجھے ان دونوں نجی تنظیموں کی کارکردگی پر کوئی شک نہیں۔ لیکن تحریک لبیک کا وجود ان دونوں تنظیموں کے بعد قائم ہوا پھر بھی اپنے محدود وسائل اور اپنی جماعت کے لوگوں کے تعاون سے سعد رضوی نے ان سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کی۔

سعد رضوی پر جنرل فیض حمید کے اشاروں پر چلنے کا بھی الزام لگتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے مجھے بتایا کہ جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میری جماعت نے اس وقت اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہوا تھا۔ میرے لوگوں پر مریدکے میں گولیاں چلائی گئی جس سے ہمارے 44 کارکن شہید ہوئے۔ اس دوران مجھے جیل سے نکال کر لاہور کے ایک ہوٹل میں لے جایا گیا۔ جنرل فیض اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ جنرل فیض نے مجھے کہا اپنے لوگوں کو واپس بلائیں اور مارچ ختم کریں۔

جواباً سعد رضوی نے کہا ہمیں گولیاں مارنی ہیں تو بھارتی گولیاں ماریں ہمارے ٹیکس کے پیسوں کی پاکستانی گولیاں کم از کم مت ماریں۔ اس ملاقات میں سعد رضوی کی جنرل فیض سے اچھی خاصی تلخی ہوئی اور جنرل فیض بغیر کسی نتیجے کے واپس چلے گئے پھر سعد رضوی کو اسلام آباد لے جایا گیا۔ جمعے کے روز سعد رضوی صاحب سے میری تقریباً پانچ ماہ بعد ملاقات ہوئی۔ آخری بار میں ان کے ساتھ سیلاب کے دوران تونسہ شریف گیا تھا۔ سعد رضوی سے میں نے پوچھا آپ نے حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کے لئے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے تو کیا پھر لانگ مارچ کرنے کا پلان ہے؟

انہوں نے جو اباً کہا ہم تین دن کا انتظار کریں گے پھر ہم وہ کام کریں گے جو اس سے عام شہری متاثر نہ ہوں لیکن جن کو ہم نے ٹائم دیا ہے پھر وہ تنگ ہوں گے ۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ نے نہیں سمجھتے کہ موجودہ ملکی معاشی حالات میں حکومت کے پاس اور کوئی آپشن نہیں بچی؟ وہ تھوڑے سے تلخ لہجے میں بولے وزیراعظم اپنی سو رکنی کابینہ کم کریں۔ کفایت شعاری کے نام پر پانچ لاکھ لوگوں کو مفت پیٹرول دیا جا رہا ہے۔ مریم نواز ڈپٹی وزیراعظم بنی ہوئی ہیں ان کا پروٹوکول کم کریں۔

ساری قربانیاں صرف عام آدمی نے دینی ہیں؟ کیا اشرافیہ کی قربانی جائز نہیں ہے؟ میں نے سوال کیا عمران خان نے صدر پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں جنرل باجوہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں یہ تحقیقات ہونی چاہیں۔ سعد رضوی نے کہا جس نے بھی آئین پاکستان اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا ابھی بھی کسی جماعت سے الیکشن میں الحاق کا پلان بنایا نہیں؟ وہ مسکراتے ہوئے بولے سیف آپ کتنی بار یہ سوال مجھ سے پوچھ چکے ہیں لیکن نہ میرا جواب تبدیل ہوا نہ میرا مائنڈ تبدیل ہوا۔ ہم کسی جماعت سے الحاق نہیں کریں گے ہاں جو جماعت ہمارے موقف کو تسلیم کرے گی اس کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS