امجد اسلام امجد: سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے


امجد اسلام امجد کی پوری زندگی اردو ادب کی خدمت میں گزری۔ اس نے جو کچھ لکھا وہ سماجی حقائق ہیں ان کا ادب اور ان کی شاعری بڑے ہی فکری بصیرت اور گیرائی لئے ہوئے ہے۔

امجد اسلام امجد ان شعراء اور ادیبوں میں سے ہیں جنہیں عوام اور خواص میں ہی نہیں بلکہ وقت کے معتبر اور مستند شعراء اور ادیبوں میں بھی سند کا درجہ حاصل تھا بقول احمد ندیم قاسمی:

امجد ان چند شعرا میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی آزاد نظموں کو بھی اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کے ساتھ نہایت حسن اور سلیقے سے وابستہ رکھا۔

امجد نوجوان نسل کے سبھی حساس اور ذہین شعراء کی طرح باغی ہے، مگر ان شعراء کے برعکس اپنی بغاوت کی باگیں اس کے اپنے شعور اپنی قوت فیصلہ اور اپنی دیانت کی گرفت میں ہیں۔

امجد نے ادب کو جس شاعرانہ بصیرت کے ساتھ برتا اس نے شاعری کا مستقبل متعین کیا۔
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ:

امجد اسلام امجد نے ہر صنف میں اپنا لوہا منوایا، بہت لکھا اور بہت اچھا لکھا ہے۔ ان کا ہر نقش، پچھلے نقش سے بہتر ہوتا ہے۔

دھول جیسے قدم سے ملتی ہے
زندگی روز ہم سے ملتی ہے
آج دنیا میں ایسے کتنے ہیں
جن کو شہرت قلم سے ملتی ہے۔

امجد کی شاعری نہایت ہی سادہ مگر دلکش ہے انہوں نے بہت کم وقت میں پورے سماج اور ادبی محافل کو متاثر کیا۔

کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
انہوں نے جس چیز کو دیکھا بڑی گہری نظر سے دیکھا اسی لیے وہ کہتے نظر آتے ہیں۔
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں
میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستاں
جسے تم ہنسی میں اڑا گئے

امجد اسلام امجد زندگی سے بہت مطمئن تھے، وہ خود کہا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں کبھی بہت بڑی آزمائش میں نہیں ڈالا، ساری تمنائیں ایک ایک کر کے پوری ہوئیں۔ البتہ انہوں نے جس سماج کی تبدیلی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں، اس کا اثر سماج پر نظر نہ آیا تو وہ بول پڑے۔

گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ
یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں

امجد اسلام امجد ایک آئینے کا نام تھا مگر ان کی تلقین یہ تھی کہ اشک بہانے کی بجائے اسے بھول کر آگے کی جانب قدم بڑھانا ہی دانشمندی ہے۔

کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا
کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا
امجد نے اپنے قوم کے مزاج کی جو عکاسی کی ہے وہ دیکھیں کتنی مبنی پر حقیقت ہے۔
تیر آیا تھا جدھر یہ مرے شہر کے لوگ
کتنے سادا ہیں کہ مرہم بھی وہیں دیکھتے ہیں
وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسی وجہ سے ہمارا ملک اس گھمبیرتا کا شکار ہے۔
سائے لرزتے رہتے ہیں شہروں کی گلیوں میں
رہتے تھے انسان جہاں اب دہشت رہتی ہے
اس وقت ہمارا دیس جس تباہی کی جانب گامزن ہے، اس کی وجہ امجد نے یہ بیان کی ہے۔
ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی
مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے

امجد پہلے لیکچرار تھے پھر قلم اٹھایا تو ایک معتبر شاعر، ڈرامہ نگار، مکالمہ نویس، کالم نگار اور بہترین نقاد بن گئے۔ ہر میدان میں چمکے، اور اپنا لوہا منوایا۔ وہ اپنے وقت کے ان چند شعراء میں سے تھے جنہیں ان کی زندگی میں وہ بلندی ملی جس کی لوگ تمنا کرتے کرتے مر جاتے ہیں۔

امجد دنیا سے کوچ کر گئے، ادبی دنیا اس روشن ستارے کی جدائی میں سوگوار ہے، ان کا قلم ان کی وراثت ہے خدا کرے کہ کوئی بے باک ادیب و شاعر اس کو اٹھا کر ان کی روایت آگے بڑھائے۔ موت ہر ایک کو آنی ہے، مگر ادیب کی عمر کا پیمانہ ماہ و سال نہیں بلکہ اس کا قلم ہوتا ہے اسی لیے امجد کہتے ہیں کہ:

ہم کو معلوم ہے مرنے کے لیے آئے ہیں
پھول ہیں اور بکھرنے کے لیے آئے ہیں
ہم کو کس کام میں الجھائے ہوئے ہے یہ دنیا
ہم تو کچھ اور ہی کرنے کے لیے آئے ہیں
اپنے ہم سخنوں کو حصول عزت کا یہ نسخہ بتا کر گئے۔
شہر سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے
سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے

ادب کی دنیا میں امجد اسلام امجد کی معتبر آواز پروقار انداز میں گونجتی رہی اور لاکھوں سننے والوں کو اپنا ہم خیال بنا کر ہمیشہ کے لیے چپ ہو گئی۔ اور یہ ایسا زخم ہے جو قحط الرجال کے اس عہد میں کما حقہ بھرتا دکھائی نہیں دیتا۔

زخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شاید نہ بھرے
ہجر میں ایسی ملی اب کے مسافت ہم کو

امجد اسلام امجد کی شخصیت ایسی ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان کے چاہنے والے ان کی یادوں کی کہکشاں سجاتے ہوئے نہ صرف انہیں یاد کر رہے ہیں بلکہ ان کی دائمی جدائی کو ادبی دنیا کا نقصان قرار دے رہے ہیں

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمھیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے

امجد اسلام امجد نظم اور غزل کے خوبصورت شاعر کی حیثیت سے نسل نو میں خاصے مشہور اور مقبول رہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات میں ان کی رومانوی شاعری زبان زد عام ہے۔ یقیناً ان کی وفات سے شاعری کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے ان کا مقبول ڈرامہ ’وارث‘ جب آن ائر ہوتا تو سڑکوں پر ویرانی چھا جاتی تھی۔ وارث کی طرح دہلیز اور سمندر جیسے ڈرامے بھی عوام میں خاصے مقبول ہوئے۔ ان کی بیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں سفرنامہ، تراجم اور کئی شعری مجموعے شامل ہیں۔

ساتواں در، ذرا پھر سے کہنا، خزاں کے آخری دن، برزخ اور فشار جیسے شعری مجموعوں نے ان کے شعری سفر کو جلا بخشی ہے۔ معلم کے پیشے سے وابستگی کے ساتھ ساتھ وہ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اور چلڈرن کمپلیکس جیسے اہم سرکاری اداروں کے انتظامی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ان کی خدمات کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ( 1987 ء) اور ستارۂ امتیاز ( 1998 ء) جیسے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

ادب میں منفرد اور نمایاں مقام نام اور حیثیت کے باوجود وہ نئے آنے والوں کے لئے اپنے گھر اور دل کے دروازے ہمیشہ وا کیے رکھتے۔ نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے، ملکی اور غیر ملکی مشاعروں کی جان ہوتے اور دوست احباب کی محفلیں بھی خوب لوٹتے۔

تو سمندر میں ساحلوں کی ہوا
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

امجد زندگی کے رویوں کی عکاسی کرنے اور زمانے کی قدروں کو اجاگر کرنے والے شاعر کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ افسانے ہو جاتے ہیں
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں خواب پرانے ہو جاتے ہیں

4 اگست 1944 ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے امجد اسلام امجد 10 فروری 2023 ء کو لاہور میں ہی راہی عدم ہوئے۔ ان کی موت علمی و ادبی حلقوں کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان اور ایک عہد کا خاتمہ ہے لیکن ان کی شاعری اور ان کی یادوں کے چراغ آنے والوں کے لیے نہ صرف امید کی کرنیں ہیں بلکہ نسل نو کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ زندگی میں جہد مسلسل کا دامن تھامے رکھنا زندگی کی بے ثباتی میں امید آس اور خوشیوں کا ایک در ہمیشہ کھلا رکھتا ہے جو کامیابی کا زینہ بن کر رہتا ہے۔

Facebook Comments HS