یوم بعثت۔ لمحہ فکریہ
«پڑھو خداوند کے بابرکت نام سے جو خالق ہستی ہے، جس نے انسان کو ایک لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو کہ خداوند متعال سب سے زیادہ کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، اور انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا» (سورہ علق: 1۔ 5 ) ۔
آج ستائیسویں رجب المرجب یعنی وہ بابرکت دن ہے جب پیغمبر اسلام ص کی بعثت کے چڑھتے سورج نے اپنی کرنیں افق عالم پر نچھاور کیں۔ جس کے طفیل جہالت و نادانی اور کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے انسان کو قرآنی ہدایت کی نورانی جھلک دکھائی دی۔ غار حرا سے تجلی حق کا آغاز پیغمبر اسلام کے قلب اطہر پر ہوا اور اس تجلی کا نتیجہ وہ پیغام رسالت تھا جس نے دکھی انسانیت کو شفا بخش الہامی سرمایہ عطا کیا۔ شرک کی اندھیر گلیوں سے نکال کر شاہراہ توحید پر گامزن کرنے تک کی تمام نشانیاں اس میں جمع کر دی گئیں۔ اور یوں یہ کتاب ”تبیانا لکل شیئ“ (نحل:89) قرار پائی۔
یہ پیغام جس کتاب میں نازل ہوا وہ سید الکتب کہلائی، آج بھی یہ کتاب سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ (تاہم اس کے اندر موجود پیغام پر کتنا غور کیا جاتا ہے یہ الگ بات ہے ) ۔ یہ پیغام جس ہستی کے ہاتھوں بھجوایا گیا، انہیں انبیاء کی صف میں خاتم الانبیاء کا لقب ملا اور رسولوں کے درمیان سید المرسلین کہلائے۔
بعثت بنیادی طور پر انسان کو جگانے اور متحرک بنانے کا پروگرام ہے۔ یہ کسی بھی با ایمان معاشرے کے اندر معنوی حیات پھونکنے کا الہامی ذریعہ ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اس پیغام کا آغاز پڑھنے لکھنے سے ہوا، اس میں انسانی خلقت کے بعد قلم اور علم الہی کا تذکرہ کیا۔ شاید یہ بتانے کے لیے کہ کسی بھی قوم کو شعور دینے کے لیے سب سے پہلے انہیں علم کی روشنی سے نوازنا ضروری ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قلم کا انسانی معاشروں پر کتنا احسان ہے۔ یہی وہ قلم ہے جس نے انسانیت کے تاریخی تجربات، علمی مکشوفات، مذہبی تعلیمات اور ثقافتی ورثوں کو اگلی نسلوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو علم قلم کی گرفت سے باہر نکل گیا وہ محفوظ نہ رہ سکا۔
اک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سورہ مبارکہ علق جس سے بعثت کا آغاز ہوا، کی ابتدا لکھت پڑھت سے اور انتہا سجدہ پروردگار پر ہوئی۔ شاید یہ پیغام اس میں نہاں ہو کہ علم تبھی آدمی کے لیے مایہ سعادت بن سکتا ہے جب خدا کے سامنے جھکانا سکھائے، ورنہ اس سے فرعونیت یا قارونیت جنم لیتی ہے۔
بعثت کا مقصد کیا ہے؟ قرآن کریم بعثت پیغمبر اسلام کا مقصد تین چیزیں بتاتا ہے۔ تلاوت آیات الہی، تزکیہ نفس اور تعلیم کتاب و حکمت۔
یہاں آیات اور کتاب میں فرق ہے۔ آیات الہی فقط قرآن نہیں بلکہ« سنریھم آیاتنا فی الآفاق و فی انفسھم » (فصلت:53) کی رو سے، کائنات کے اندر پائی جانے والی اشیاء آیت الہی یعنی خدائی نشانیوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ کوئی بھی آیت کسی نہ کسی انسان کی سمجھ میں آ جائے تو وہ ہدایت پا جاتا ہے، اسی لیے تو خداوند متعال بھی مختلف قسم کی آیتیں بیان کرتا ہے، ان فی ذلک لایات للعالمین، ان فی ذالک لایات للموقنین، و۔ لقوم یسمعون، لقوم یتفکرون، وغیرہ
دوسرے مقام پر بعثت کا یہ مقصد عمومی طور پر انبیاء سے متعلق بیان ہوا ہے کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے لیے مشترکہ طور پر اللہ کی عبادت اور طاغوت یعنی جابر و ظالم سے منہ موڑنے کا پیغام لائے ہیں۔ مزید ایک آیت میں یہ مقصد یوں مکمل ہوتا ہے کہ انبیاء لوگوں کو عدل و انصاف کے راستے دکھانے آتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس کتاب اور میزان ہوتا ہے، جس کی روشنی میں عدل و انصاف کا قیام ممکن ہو پاتا ہے۔
رسول اسلام کے پیش کردہ نظام ہدایت کا بہترین اور اولین نتیجہ مدینہ کے اولین اسلامی سماج کے مختلف میدانوں میں الہی اقدار کے نفاذ کی شکل میں سامنے آیا۔ چنانچہ مال و اسباب، گھر، مکان، اپنی زندگی کی تمام تر اشیاء، اخوت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، انصار مدینہ نے مہاجرین کے سپرد کر کے ایثار و قربانی کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ اس سے قبل مہاجرین نے مکہ میں اسلام کی خاطر مختلف قسم کی صعوبتیں برداشت کیں، شکنجوں میں جانیں دے دیں۔ خود کو جلاوطنی پر راضی کر لیا، جسے اسلام نے ہجرت کا نام دیا۔ حبشہ کی طرف خوشی خوشی چل دیے۔ عزیز و اقارب، رشتہ داروں سے کٹ کر رہ گئے۔ یہ سب انہوں نے اسلام کی خاطر بخوشی قبول کر لیا۔
رسول اللہ کا کرشمہ یہ تھا کہ توحید پروردگار کو زبانی کلامی اور عقلی و فلسفی بحثوں سے بچا کر انسانوں کی فردی و اجتماعی زندگی میں اسے مجسم کر دکھایا اور ایمانی حرارت کو رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ان کے دلوں میں جگا دیا۔ چنانچہ قرآن کی گواہی کے مطابق، جب اللہ تعالی کا ذکر ہوتا توان کے دل کانپ اٹھتے اور جب آیات الہی کی تلاوت ہوتی تو ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ (انفال: 2 )
اسی توحید کی بدولت ان کے دلوں میں دنیا کی دولت ہیچ ہو کر رہ گئی اور ایثار و قربانی کا جذبہ اپنے عروج کو چھوتا نظر آیا۔ یہاں تک کے خود بھوکے سو گئے اور اپنا کھانا کبھی یتیم، کبھی مسکین تو کبھی اسیر کے حوالے کر دیا۔ (انسان:8)
اس کے برعکس آج کی مسلم دنیا، بہت سے سماجی اصولوں پر کاربند ہونے میں باقی ممالک سے سے پیچھے رہ گئی ہے۔
ہم بغیر اتحاد و اتفاق کے عزت و اقتدار کے خواہاں ہیں، قرآن کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی باہمی قوت اور نظم و ضبط پر ہے۔ جہاں کہیں ہرج و مرج اور انارکی ہوگی، وہ معاشرہ برباد ہو جائے گا۔ سماجی عمل مختل ہو جائے گا۔ لہذا قرآن نے منازعات سے پرہیز پر بہت زور دیا ہے۔ جبکہ آج مسلم دنیا مذہبی، سیاسی اور سماجی تنازعات کا گڑھ بن چکی ہے۔ اس کی نفسیات میں تنازعہ سرایت کر چکا ہے، اور اس سے نکلنے کی کوئی سبیل ہی نہیں کی جا رہی۔ ہر آئے دن نیا تنازعہ کھڑا کر دیا جاتا ہے اور کوئی نہ کوئی فریق اسے اپنے مفاد میں استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
قرآن ہمیں اہم امور میں باہمی مشاورت کی دعوت دیتا ہے اور ہمارے معاشرے ابھی تک استبدادی نظام پر قائم ہیں۔ قرآن کریم ہمیں شفقت اور محبت کا درس دیتا ہے، جبکہ آج ہم چھوٹے چھوٹے مذہبی اختلافات پر منافرت اور دوریوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ایمان لانے والے ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ہم ایک دوسرے کو ذبح کر رہے ہیں۔ قرآن ہمیں ایک دوسرے کے سامنے متواضع دیکھنا چاہتا ہے، ہمارے متکبرانہ رویے تو فرعون، نمرود اور قارون کو بھی شرمندہ کر رہے ہیں۔
قرآن مومن پر کافر کے تسلط کا مخالف ہے، جبکہ آج ہم اپنی کوتاہ نظری اور کج فکری کے نتیجے میں سامراجی سیاست کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ قرآن کریم ہمیں مال اور نفوس کے ذریعے جہاد کی دعوت دیتا ہے، جبکہ ہم اپنے نفس کی خواہشات کے سامنے ذلیل و رسوا ہیں۔
میں کہاں تک گنواؤں، آپ قرآنی دستورات کا مطالعہ کرتے جائیں، اور اپنی زندگی پر اسے مطابقت دیتے جائیں، پھر معلوم ہو گا کہ ہم خدا کی کتاب، اس کے دین اور اس کی شریعت و قانون سے کس قدر دور ہیں؟
پھر بھی ہم ”سچے اور پکے“ مسلمان ہیں۔


