عمران خان اور قمر باجوہ: بنیادی عقل کی کمی


عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے پر لفظی حملے اور الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ سیاست میں الزامات، اختلافات وغیرہ تو معمول کی بات ہے مگر جو طریقہ کار ان دونوں شخصیات نے اپنایا ہے اس سے یہ سابق وزیر اعظم اور سابق سپہ سالار کے بجائے سابق عاشق و معشوق لگ رہے ہیں جو علیحدگی کے بعد مجلسوں اور محفلوں میں بے وفائی کا نوحہ کرتے ہیں۔

خان صاحب اکثر پوچھتے ہیں کہ اقتدار چلا گیا تو میرا کیا نقصان ہوا، مجھے کیا فرق پڑا۔ خان صاحب اگر آج سے دو سال قبل کی اپنی وہ تقریر سن لیں جس میں وہ کسی دقیانوسی غیرت مند مرد کی طرح آستینیں چڑھا کر اور منہ پہ ہاتھ پھیر کر جنرل باجوہ پر تنقید کرنے والوں کو للکار رہے ہیں تو شاید ان کو یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

جہاں تک جنرل باجوہ کا تعلق ہے تو اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ جنرل صاحب نے کالم نگاری میں جو کہ صحافت کا اہم شعبہ ہے واپس روح پھونک دی ہے اور ان کے انٹرویوز کی وجہ سے کالم اخبارات اور ٹی وی چینل پر موضوع گفتگو بنے ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل صاحب نے اس کام کے لیے انتخاب اس صحافی کا کیا جس کا کالم تو کجا ٹی وی پروگرام بھی انتظار گاہ میں بیٹھے افراد کے علاوہ کوئی نہیں دیکھتا۔

کالم اور جنرل باجوہ کا ذکر چل ہی نکلا ہے تو یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ایک ادبی میلے میں معروف صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے چند سال قبل اپنے کالم میں فواد حسن فواد کے جبکہ وہ گرفتار تھے کچھ اشعار نقل کیے تو جنرل باجوہ نے اگلے دن میر صاحب کو اپنے دفتر طلب کیا اور فواد کی گرفتاری کے متعلق اپنی صفائی دینے کی کوشش کی کہ ان کا فواد حسن فواد کی گرفتاری میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ جنرل صاحب یقیناً سچ بول رہے ہوں گے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر فوج کے سربراہ کو نیب کی جانب سے کی جانی والی گرفتاری پر وضاحت دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ جنرل صاحب بچپن میں ’چور کی داڑھی میں تنکے‘ والی کہانی پڑھ لیتے تو شاید بڑھاپے میں ان کو کالم پڑھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

یہاں میں اپنی انتہائی شدید خواہش کے باوجود دانشوری کی دہلیز پر کھڑے کچھ لکھاریوں کی طرح یہ لکھنے سے قاصر ہوں کہ ’مہنگائی کے اس دور میں اور معاشی تباہ حالی کے زمانے میں عام آدمی کو جنرل باجوہ اور عمران خان سے کیا دلچسپی، وہ تو اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے رو رہا ہے‘ کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے غریب کو جنرل باجوہ اور عمران خان کے اختلاف سے ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی تباہ کن منصوبوں سے لے کر ترکی میں آنے والے زلزلے کے پیچھے پوشیدہ سازشوں تک ہر قسم کی بے بنیاد اور بے سروپا افواہوں میں دلچسپی ہے جس سے اس کا کوئی لینا دینا ہے نہ اس کا کوئی نفع نقصان۔

جس ملک کا غریب اپنے سمارٹ فون کو اپنی غربت کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے حقیقت ٹی وی اور عمران ریاض ایسے سطحی چینلز کو دیکھنے میں استعمال کرے اور جس ملک کا سابق وزیراعظم اور سابق سپہ سالار کے اختلاف کا طریقہ کار کالج کے ناسمجھ بچوں سے مختلف نہ ہو، اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ڈالر کی نہیں، بنیادی عقل کی کمی ہے۔

Facebook Comments HS