سیاست کے ”مفاداتی“ رنگ


رنگ بدلنے کے لیے تو گرگٹ مشہور تھا لیکن اب یہ الفاظ گرگٹ سے زیادہ انسانوں سے منسوب ہو گئے ہیں جو کہ درست بھی لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان بدلتے رنگوں کا مجموعہ ہے اور موقع دیکھتے ہی وہ رنگ بدلے گا اور وار شروع کر دے گا۔ سیاستدان بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایسے ایسے رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ سچ میں جھوٹ کی آمیزش کر لی جاتی ہے یا جھوٹ کو نئے انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے۔

آسمان پر جانے کی خواہش میں کب کون کس کے پاؤں کے نیچے سے سیڑھی کھینچ لے اس کا پتہ نہیں چلتا۔ سیڑھی پر موجود فرد کو اس کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ گر جاتا ہے یا گرنے کے قریب ہوتا ہے۔ ایسے ہی چند حلقوں نے رنگ بدلا تو عمران خان اقتدار کی سیڑھی سے نیچے آ گرے۔ سیڑھی سے گرانے والے بھی وہ ہیں جنہوں نے اس سیڑھی پر پہنچایا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور بارہا ہوتا رہا ہے۔ یہی کچھ نواز شریف کے ساتھ ہوا اور یہی ان سے پہلے والوں کے ساتھ۔

”فیض یاب“ کرنے والے جب رنگ بدلتے ہیں تو اقتدار چھین لیتے ہیں اور ”بے فیض“ ہونے والے رنگ بدلیں تو لانے والوں کو ہی بے نقاب کر نے لگتے ہیں۔ کرسی نہیں صرف کردار بدلتے ہیں، اور جب کردار بدل جائیں تو سب کچھ ان کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کردار کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ پھر وہ ریاست نہیں صرف سیاست دیکھتے ہیں۔

مقتدر حلقوں کے رنگ بدلتے ہی نون لیگ خوشی خوشی نئے رنگ میں ڈھل کر حکومت لینے کو تیار ہو گئی۔ لیکن پھر پچھتاوا غالب آتا صاف دکھائی دیا کیونکہ عوام میں ان کی مقبولیت کم ہو گئی اور وہ پنجاب جو مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا تھا ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اب تو مریم نواز بھی کہتی نظر آتی ہیں کہ یہ حکومت میری نہیں، ہماری حکومت تو تب ہو گی جب نواز شریف پاکستان میں ہوں گے۔ ”ن“ اور ”ش“ میں خواہشات کی محاذ آرائی سے تو سب واقف ہیں دونوں اپنے اپنے امیدواروں کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھانے کے خواہشمند ہیں۔ اس لیے مریم نواز کبھی اپنی حکومت سے مطالبات کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی حکومت ماننے سے ہی انکاری ہوتی ہیں۔

بدلتے رنگوں میں ایک بدلتا رنگ عمران خان کا بھی ہے وہ اب اینٹی امریکا کا رنگ اتار کر ”آؤ پھر سے دوست بنیں“ کا نیا رنگ چڑھانے کی کوشش میں ہیں۔ کیونکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ امریکا کا بھی منظور نظر ہونا حکومت میں واپسی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا جب کسی سے مطمئن نہ ہو تو اس کے لیے مسائل پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ امریکا جس کو عمران خان اپنی حکومت جانے کا ذمہ دار ٹھہراتے تھکتے نہیں تھے اب ان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور حسب توقع ایک بار پھر سارا ملبہ جنرل (ر) باجوہ پر ڈال کر خود کو اس سے بری الذمہ کر لیا کہ شاید قیادت کی تبدیلی اور امریکہ کی خوشنودی ہی ان کی حکومت میں واپسی کی راہ ہموار کر دے۔ ویسے بھی ہر بیان کے بعد یو ٹرن لینا تو عمران خان کا ”اسٹائل“ ہے اور اس پر انہیں کوئی پچھتاوا یا شرمندگی بھی نہیں ہوتی۔

دوسری طرف آئی ایم ایف نے رنگ بدلا تو وہی اسحاق ڈار جو کہتے تھے کہ آئی ایم ایف سے ہدایات نہیں لیں گے انہی کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کی تمام تر سخت شرائط اور ”ڈومور“ کے مطالبات پورے کیے اور خوب ”تعریفیں“ بھی سمیٹیں۔ کیونکہ وہ اپنا جادو منظور نظر قوتوں کے سامنے چلانے میں تو کامیاب تھے لیکن آئی ایم ایف کے سامنے یہ جادو چلانے میں مکمل ناکام نظر آئے۔

اتحادیوں کے بدلتے رنگ تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہر جانے والی حکومت کو چھوڑنا اور آنے والی کے رنگ میں رنگ جانا ہی ان کا کام ہے جس کو وہ بخوبی نبھاتے بھی ہیں۔ وہ ہمیشہ حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں اور حکومتیں بلیک میل ہوتی بھی ہیں یہ ان کی مجبوری ہے۔ کیونکہ اتحادی ادھر ادھر ہوں تو تمام حکومتوں کے تختے الٹ جاتے ہیں اس لیے دونوں کا مفاد اسی میں ہوتا ہے کے ایک دوسرے کے ”مفاداتی رنگ“ میں ڈھل جایا جائے۔

بہر حال تمام رنگوں سے بالاتر رنگ تو انہی کا ہے جو ان رنگوں سے کھیلنے کے ماہر ہیں۔ اور ان کے رنگوں کا جادو تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ رنگ پھیکے پڑھے نہیں کہ نیا رنگ بنانے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے کیونکہ ہمیں تو نت نئے رنگوں سے کھیلنے کی عادت ہے پھر اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ رنگ کس کے لیے خوشی کا سبب بنیں گے اور کس کے لیے غم کا۔

کیا ”کمایا“ اور کیا ”گنوایا“ اس سب سے بالاتر ہو کر ہم صرف مفادات کے رنگوں میں رنگتے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے ریاست کو کیا نقصان ہو رہا ہے بس اپنی من مستی اور نئے نئے تجربات کی وجہ سے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔

اصل خرابی کو نظر انداز کر کے ہم ظاہری طور پر چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور ہے اور اختیارات کسی اور کے پاس ہیں۔ رنگوں کے اتار چڑھاؤ سے نکل کر ہمیں معیشت، سیاست اور ریاست کے بچاؤ کے لیے مستقل حل کا تدارک کرنا ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments