ٹم ہارٹن کا اناج اور ہمارا اناج
ٹم ہارٹن مشہور کینڈین آئس ہاکی پلیئر تھا یہ جب کھیل سے ریٹائر ہوا تو اس نے اپنے دوست جیکو کے ساتھ مل کر ٹورونٹو کے قریب ہملٹن سے کافی شاپ کا آغاز کیا شروع میں یہ کافی ڈونٹ کا ہی کیفے تھا۔ ٹم ہاڑٹن کیفے وقت کے ساتھ ساتھ جدید بھی ہوتا گیا اور اپنے مالکان بھی تبدیل کرتا گیا۔ سب سے پہلے تو ٹم ہارٹن کے پارٹنر دوست نے ہی ٹم کی وفات کے بعد اسے خرید لیا جس کے بعد ٹم ہارٹن کیفے جس کا نام اس وقت ٹم ہارٹن ڈونٹس تھا دوسرے اور ممالک تک پھیل گیا۔ اب اس ریستوران میں کافی، ڈونٹس کے ساتھ فاسٹ فوڈ بھی دستیاب تھا پھر اس کا مالک برگر کنگ ہوا اور اب برگر کنگ ایک اور کمپنی ریسٹورنٹس برانڈ انٹرنیشنل میں ضم ہو گیا ہے۔
اپنے مقابلے کی دوسری فاسٹ فوڈ کمپنیز میں سستی، اور تیز ترین سروس والی خوبیوں کے باعث ٹم ہارٹن صارفین میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں یہ میکڈونلڈ سے بھی زیادہ سیل ہونے والا برانڈ ہے اور غالباً یہی وجہ تھی کہ لاہور میں اس کے آغاز پر وہی صارف جو دوسرے انٹرنیشنل فوڈ چین کی مہنگی چیزوں سے تنگ تھے انہوں نے یہاں رش کر دیا اور پھر یہ رش زدہ قطار سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی حالانکہ دیکھا جائے تو اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ رش مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے صارفین کا تھا
تو سوشل میڈیا اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ بیک وقت دوطرفہ ہے کہ کسی حد تک دوطرفہ اظہار کی آزادی بھی دیتا ہے اور جب ہی ہم معاشرے میں ہونے والی کسی بھی اجتماعی یا انفرادی گھٹن یا جبر کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہمیں سوشل میڈیا کی صورت میں ہی میسر آتا ہے اور اس تک بلا تفریق اور بلا تخصیص باآسانی رسائی ہی کسی بھی خبر یا خبر کے ردعمل کو صحیح جانچے بغیر اسے ٹاپ ٹرینڈ بنا دیتے ہیں اور یہی اس معاملے میں ہوا ہے ویسے اس سے خاصا فرق بلکہ فائدہ کہے تو تو ٹم ہارٹن کو ہی پہنچا ہے جس کے نام سے لاکھوں لوگ بنا کسی مہنگے اشتہار کے واقف ہو گئے
یہ فوڈ / کافی چین اپنی کافی کے لیے ایرابیکا بینز استعمال کرتی ہے جو کینیڈا میں نہیں ہوتے اس کافی بینز کو بارہویں صدی میں یمن میں دریافت کیا گیا تھا اور اس کی بہترین پیداوار برازیل، گوئٹے مالا اور ایتھوپیا سے حاصل کی جاتی ہے۔ ٹم ہارٹن والے اپنا یہی اناج لے کر پاکستان لے کر آئے ہیں بیچنے، جہاں کا اناج، اناج اگانے والوں کی پہنچ سے بھی دور ہو رہا ہے اور اس کمپنی کے آنے سے تو یہاں کے لوگوں کے لیے تھوڑا ہی سہی مگر روزگار میں اضافہ ہوا ہے جو مزید ہو گا کہ ٹم ہارٹن مزید کیفے کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس نے ہرگز آپ کے محب الوطنوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب راغب نہیں کیا جو اناج بھر زمینوں میں کنکریٹ کا عذاب اتار رہے ہیں اور ان عذاب اتارنے والوں پراپرٹی ڈیلروں کی عفریت کے سامنے کوئی حکومت کوئی ادارہ نہیں ٹھہرتا۔
وہ انڈسٹریز جو زمین سے حاصل ہونے والی فصلوں کی مرہون منت تھی بھلے وہ ٹیکسٹائل ہو فلور و رائس ملز ہوں یا شوگر ملز والے وہ بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز والے کاروبار میں شامل ہو رہے ہیں کہ اس کاروبار میں راتوں رات امیر کردینے کی گھناؤنی صلاحیت موجود ہے۔ پچھلے سال کے ایک اندازے کے مطابق پنجاب اپنی بیس سے تیس فیصد زرعی زمین کنکریٹ دیوتا کی بھینٹ چڑھا چکا ہے اور بھینٹ چڑھنے کا یہ سلسلہ کہیں رکتا نظر نہیں آ رہا کہ اس روکنے والے ہی اس کے بینیفشریز بنتے جا رہے ہیں۔
تو اگر ملک میں کچھ بہتری چاہیے تو روزگار بڑھانا ہو گا جس میں اور سکیٹر کے ساتھ ساتھ یہ انٹرنیشنل برانڈز بھی معاون ہوں گے جو عالمی سطح پر نا صرف ہمارے امیج کو بہتر کرتے ہیں بلکہ ملک میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کے راہ بھی ہموار کرتے ہیں


