وراثت (افسانہ)
کوٹھی کے لان میں امرود کے ایک درخت کی ایک شاخ پر ایک چڑا اور چڑیا بیٹھے اپنے خاندان کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ چڑے نے چڑیا کے پر کو ایسے ہولے سے سہلایا جیسے کبھی کبھار عبدالودود شام کو لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی بیگم کا بازو سہلاتا تھا اور چڑیا کی جھیل سی آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے اتنی گمبھیرتا اور سنجیدگی سے پوچھا جیسے عبدالودود کے بوڑھے والد عبدالغفور کبھی کبھار اپنی مرحومہ بیگم سے بات کیا کرتے تھے کہ ’نیک بخت، کیا تیرا دل نہیں چاہتا کہ ہمارا بھی کوئی وارث ہو، جو بڑھاپے میں جب ہماری سانس پھولنے لگے اور بازو نڈھال ہوجائیں، چلنا پھرنا دشوار اور کھانا پینا محال ہو جائے تو ہمارا خیال رکھے۔ جب ہم دانہ دنکا جگنے کے قابل نہ رہیں تو اسی طرح ہمارے منہ میں چوگا ڈالے جیسے ہم اپنے بوٹ سے بچوں کے منہ میں ڈالیں گے، اگر خدا نے چاہا، تمہاری گود ہری ہوئی اور ہمارے بچے ہوئے‘ ۔
چڑیا نے بھی ایسی ہی متانت نما بیزاری سے جواب دیا، جیسے بوڑھے عبدالغفور کی بیگم بیزار ہو کر بولتی تھیں، ’اے ہے، تم تو بالکل ہی باؤلے ہو گئے ہو۔ وارث تو ان کے ہوتے ہیں جن کی وراثت ہو۔ ہم چڑا چڑیا کی کیا وراثت۔ ہماری کون سے دولت جائیداد ہے جس کے ضائع ہو جانے کا ہمیں کھٹکا ہو۔ ہمارا نام لینے والے لاتعداد چڑے چڑیاں سلامت رہیں ہمیں اپنی نسل یا نام زندہ رکھنے کے لیے کسی وارث کی ضرورت نہیں۔ پھر خدا نہ کرے ہم ایسے آہستہ آہستہ اذیت سہتے ہوئے تھوڑی مریں گے جیسے بابا عبدالغفور کی بیگم مر گئی یا جیسے وہ خود مرنے والا ہے۔ ہم تو بس جب موت آئے گی، پٹ سے گریں گے اور مر جائیں گے۔ نہ ہمارے لیے کسی کو رونے کی ضرورت، نہ کفن دفن کا جھنجھٹ اور نہ عذاب ثواب کا کھٹکا۔ ہمیں تو خدا نے ایسے ہی بنایا ہے کہ ہمیں بڑھاپے میں کسی خیال رکھنے والے کی ضرورت نہیں۔
چڑے کو چڑیا سے ایسے سمارٹ جواب کی توقع نہ تھی۔ وہ اسے اب تک بے وقوف اور تھڑ دلی ہی سمجھتا آیا تھا، جیسے بابا عبدالغفور اور ان کا بیٹا عبدالودود اپنی اپنی بیگمات کے بارے میں گمان کرتے تھے۔ تھوڑا سوچ کر بولا کہ بھلی مانس تیری بات ٹھیک سہی لیکن سوچ کہ جب تک ہمارے آنگن میں بچوں کی چوں چوں نہ ہو تو یہ دنیا کتنی ویران ہے؟
چڑیا بولی کہ اس میں تو مجھے اعتراض نہیں میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ بلاوجہ انسانوں کی طرح امیدیں نہ پالو، یہ آگے جا کر اکثر اپنے ہی گلے کا پھندا بن جاتی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بابا عبدالغفور کی بوڑھی اور بیمار بیوی کی طرح برامدے میں پڑے پڑے جان دے دو اور تمہارا وارث اس دن دھوکہ دہی کے مقدمے میں عدالت میں تمہاری وراثت کی حفاظت کے لیے گیا ہوا ہو۔ وارث کی خواہش تو تمہیں ہوگی لیکن ذرا بوڑھے عبدالغفور سے بھی پوچھ لو جو اپنی وراثت تو منتقل کر بیٹھا ہے، جس کا جوان جہان وارث بیٹا بھی ہے، ایک صحت مند اور نخرے والی بہو بھی ہے لیکن اب سارا دن اپنے کمرے میں اکیلا پڑا کھانستا رہتا ہے، خود ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دو اؤں کے پھکے مارتا ہے اور جب درد سے بے حال ہو جائے تو خود ہی بیٹھ کر اپنے پاؤں دباتا ہے، اور مرنے کی دعائیں کرتا ہے کہ اس اذیت سے نجات ملے۔ اسے پوچھنے والے تو ہیں لیکن پوچھتا کوئی نہیں۔ اس نے اپنے وارث سے کون سا سکھ پایا ہے؟ بتاؤ؟
چڑا یہ سن کر لاجواب ہو کر اپنا سر کھجانے لگا تو چڑیا بولی کہ اگر ہماری وراثت ہے بھی تو یہی لمس ہے جو ہمارے پنجوں نے اس شاخ پر چھوڑ دیا، لیکن وہ بھی کب تک۔ تھوڑی ہی دیر میں جب اس شاخ تک نیا پانی اور نئی ہوا پہنچے گی تو یہ بھی کہیں ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔ ہاں اگر ہماری کوئی اصل وراثت ہے تو وہ چہچہاہٹ ہے جو اس فضائے بسیط میں پھیل کر تمام سننے اور محسوس کرنے والوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ہمیں بھلا کسی وارث کی کیا ضرورت؟ ہم تو اس کائنات میں بس اپنی خوشبو، اپنی معصومیت اور اپنی چہچہاہٹ چھوڑ جائیں گے۔ پھر جس کے دل میں گداز ہو گا، جس کو پھول، پتے، درخت اور سبزہ اچھا لگے گا، جسے ندی، نالوں اور پہاڑوں سے لگاؤ ہو گا، جس کے دل میں نغمے گونجتے ہوں گے اور جس کو معصومیت پر پیار آئے گا اس کو یہ وراثت مل جائے گی۔
چڑے نے اس کے بعد یہی مناسب جانا کہ بولنا بند کرے اور چڑیا کو اپنے بازوؤں میں بھر لے اور فرض کرے کہ یہ دنیا ان کے پیار کے لیے ہی تو بنی ہے۔
(رشاد بخاری، 27 جون 2022)


