آئی ایم ایف کی شرائط


کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

افتخار عارف نے پاکستان کے پچھتر سال کی کہانی اس شعر میں بیان کردی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں کہانی ایسی الجھائی گئی ہے کہ سرا ہاتھ نہیں آ رہا اب عقدہ کشائی کب ہوتی ہے اس کا انتظار ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹالینا کو بھی پاکستان کی معاشی حالت زار پر بولنا پڑا ہے کہ متمول طبقات معیشت کی بحالی میں حصہ ڈالیں، حالات زیادہ بگڑے تو ہمیں ہر چیز دوبارہ بنانا پڑے گی جو ممکن نہیں۔ اس سے بدترین معاشی ابتری پھیلے گی۔ اس لئے ملک بھر میں ٹیکس کی وصولی کا سخت نظام لایا جائے۔ ٹیکس چوری ختم کی جائے۔ مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقوں کے درمیان فرق ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ سبسڈی کی تقسیم بھی منصفانہ بنائی جائے۔ محروم ’پسماندہ اور غریب طبقے کو سبسڈی دی جائے مگر مراعات یافتہ متمول طبقے کے لئے سبسڈی ختم کی جائے۔

اس ملک کا اصل مسئلہ یہی ہے جس کی نشان دہی کرسٹینا لینا نے کی ہے موجودہ معاشی بدحالی کو دیکھا جائے تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان کا بنے گا؟ غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کا سامنا ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ملک کو ان حالات تک پہنچانے میں اگر اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے تو سیاستدانوں نے بھی اس خرابی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ عوام کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنی بے حسی سے عوام کی بڑی تعداد کو مایوس کیا۔

یہ سیاستدان ایک آرمی چیف کی ایکسٹینشن اور دوسرے آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے تو ایک ہو جاتے ہیں، لیکن اس ملک کی معیشت درست کرنے اور غریب کے لئے ایک میز پر ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ معیشت پر سیاست ہو رہی ہے، مقتدرین اپنے مخالفین کو معیشت کی تباہی کا ذمہ داری ٹھہرا رہے ہیں تو اپوزیشن چاہتی ہے کہ معیشت کا ستیاناس ہو جائے لیکن انہیں اقتدار واپس ملے۔

موجودہ حالات میں معیشت کو درست کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کا ایک ہی نسخہ ہے کہ سیاستدان مل بیٹھیں، ایک میثاق پر اتفاق کریں اور یہ تہیہ کر لیں کہ سیاست میں معیشت کو نہیں گھسیٹا جائے گا لیکن ایسا ہونے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آ رہا۔ خواجہ آصف کے بقول ڈیفالٹ ہو چکا لیکن ہمارے حکمران اور اشرافیہ کی عیاشیوں میں نہ کوئی کمی نظر آ رہی ہے نہ ہی شرمندگی۔

حکومتی اخراجات میں کمی کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے سفارش کی کہ کابینہ کی تعداد تیس سے زیادہ نہ ہو لیکن شہباز شریف نے اپنی کابینہ کی تعداد پچاسی ممبران تک پہنچا دی ہے۔ آٹھ دس افراد کمیٹی کی سفارشات کے بعد کابینہ میں شامل کیے گئے۔ اسی کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ ججوں، جرنیلوں، سرکاری افسروں کو ایک سے زیادہ پلاٹ نہ دیے جائیں اور جن کو ایک سے زیادہ پلاٹ دیے گئے ان سے واپس لے کر انہیں نیلام کر کے جمع ہونے والا پیسہ قومی خزانے میں جمع کرایا جائے۔

افسوس کہ ایک طرف اس کمیٹی کی حکومت کو دی گئی یہ سفارشات اخبار میں پڑھنے کو ملیں تو ایک اور خبر یہ بھی شائع ہوئی کہ سپریم کورٹ حکومت کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل سننے جا رہی ہے جس میں ججوں اور وفاقی سیکرٹریوں کو پلاٹ دینے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا گویا اس حمام میں سب ہی ایک جیسے ہیں۔

قومی خزانہ خالی ہے، عوام کے لئے اس میں کچھ نہیں لیکن اشرافیہ اور حکمران طبقے کے پروٹوکول اور مراعات پر جو خرچ ہو رہا ہے اس کا کوئی حساب ہی نہیں بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے غریب کا خون نچوڑ کر حکمران طبقے اور ملک کی اشرافیہ پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

ان سفارشات کو عملی شکل دینے کی ضرورت تھی مگر فی الوقت یہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر، مشیر، ارکان پارلیمنٹ، ججز، جرنیل اور سرکاری افسر خود اپنی اپنی مراعات میں کمی کرنے کا رضاکارانہ اعلان کرتے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق ان سے یہ توقع عبث ہے۔

کمیٹی کے مطابق ان تجاویز پر عمل کر کے ایک ہزار ارب روپے تک سالانہ بچت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ہو جائے تو اس ایک ہزار ارب روپے کی بچت سے پاکستان کے غریبوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی پاکستان میں اب تک کی شبیہ ایک ایسی خونیں چڑیل کی ہے جو ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعے پاکستانیوں کی شہ رگ کا خون پی جاتی ہے۔ پاکستانی حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے 22 بار آئی ایم ایف کے دروازے پر گئے اور ہر بار قرض کی ایک ایسی قسط لے کر آئے جس کے نتیجے میں ایک بچہ ماں کی کوکھ سے جنم لیتے ہی مقروض قرار پاتا ہے۔ آئی ایم ایف کا یہ خوفناک امیج بظاہر اس بار بدلتا نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ خبر ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے نئی قسط کے لئے جو اہم شرائط رکھی گئی ہیں۔

ان میں سب سے اہم سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنا اور احتساب کا نظام قائم کرنا ہے۔ اس ملک میں سارے مصائب کی بنیادی وجہ نظام احتساب کی عدم شفافیت اور کرپشن پر کوئی قدغن نہ ہونا ہے۔ اگر آئی ایم ایف نے ماضی میں پاکستان پراس انداز کی شرائط عائد کی ہوتیں تو آج اس ملک کا معاشی زوال موجودہ انتہا کو نہ پہنچتا۔

پاکستانی منصوبہ سازوں اور حکمرانوں کو قرض کی قسطوں پر عیاشیوں کی لت پڑ گئی۔ احتساب کا نظام ”نظریہ ٔ ضرورت“ کے تابع رہا۔ احتساب کا بھی سیاسی استعمال کیا جاتا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس ملک کے وسائل کو نچوڑنا رواج بن گیا۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے ریاستی سرپرستی میں دولت کو امریکہ، برطانیہ، سویٹزرلینڈ، سنگا پور اور متحدہ عرب امارات منتقل کیا جاتا رہا۔ سیاست دانوں کی دیکھا دیکھی بیوروکریٹس نے بھی منی لانڈرنگ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

واپڈا کے لائن مین، محکمہ مال کے پٹواری سے گریڈ بیس کے افسروں تک کی جائیدادیں کھربوں میں پہنچ گئیں۔ جو سرکاری ملازم محکمہ اینٹی کرپشن کا نام سن کر کانپتے تھے یا اپنے محلے اور گاؤں میں لائف سٹائل کی اچانک تبدیلی پر عوام کے طعنوں اور ہمسایوں کی سراپا سوال خشمگیں نگاہوں سے خوف زدہ ہو کر اپنا دامن صاف رکھتے تھے۔ بالادست طبقات میں کرپشن عام ہو نے پر اسی راہ کے راہی بن گئے، نئے باس کو کھانے پینے کے گر سکھانا بھی فرائض منصبی کا تقاضا سمجھ لیا گیا۔

افسروں کے لئے حکام بالا کے غیر قانونی حکم پر حرف انکار قصہ کہانی ہو کر رہ گیا۔ عہدے اور منصب کا صرف ایک ہی مطلب ”اوپر کی کمائی“ سے اپنا معیار زندگی بلند کرنا رہ گیا۔ معاشرتی روایات و اقدار تبدیل ہو گئیں، بدعنوانی پر مبنی لائف سٹائل معاشرے کا آئیڈیل بن کر رہ گیا۔ پاکستان کے سیاست دانوں فوجی افسران اور بیوروکریٹس کی ایک لاٹ دوہری شہریت کی حامل ہے، ان کی آف شور کمپنیاں الگ ہیں۔ آئی ایم ایف کی طرف سے احتساب اور بیوروکریسی کے اثاثوں کو پبلک کرنے کے مطالبات اگر واقعی کیے گئے ہیں تو یہ بڑی خوش آئند تبدیلی ہے۔

اسی دباؤ سے اگر پاکستان میں کرپشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اسے غنیمت سمجھا جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی شرط کی بات سامنے لا کر کچھ ناموں کی تشہیر سے صرف بیوروکریسی کو قربانی کا بکرا بنایا جانا مقصود ہو۔ کرپشن صرف سرکاری ملازمین تو نہیں کرتے اس میں سیاست دان جرنیل، ججز اور دوسرے افراد اور بھی شریک ہیں۔ یہ ملک کسی ایک پیہم، منظم اور اجتماعی کوشش کی سزا بھگت رہا ہے۔

ایک طرف یہ خبر ہے اب عالم یہ ہے کہ دس روز تک پاکستان کی وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ آئی ایم ایف نئی سے نئی شرائط پیش کرتا رہا۔ حکومت 20 سے 33 فیصد تک بجلی کے نرخ بڑھانے پر رضامند ہوئی مگر اس سے بھی بات نہ بنی۔ حکومت جنرل سیلز ٹیکس بھی 17 سے 18 فیصد کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ وزارت خزانہ 170 ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کے لئے بھی رضامند ہو گئی مگر آئی ایم ایف ہل من مزید ’ہل من مزید پکارے جا رہا ہے۔ حکومت 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے غریب لوگوں کو کم قیمت پر بجلی دینا چاہتی ہے مگر اس پر یہ مالیاتی ادارہ معترض ہے اور وہ کسی کو کوئی چھوٹ دینے پر تیار نہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ پرانی شبیہ ہی اس کی اصل شبیہ ہے۔

جب کسی گھر میں اشیائے خورونوش ختم ہو چکی ہوں ’ادویات لینے کے لئے پیسے نہ ہوں اور نہ بچوں کی سکول کی فیس کے لئے رقم موجود ہو۔ اہل خانہ کا بال بال قرض در قرض میں جکڑا ہو اور کوئی عزیز‘ رشتہ دار ’محلہ دار یا کوئی دوست مزید قرض دینے کو تیار نہ ہو تو گھر والوں کو کتنی بے بسی محسوس ہوتی ہے۔ ایسی ہی بے بسی اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان محسوس کر رہا ہے۔ نو کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اب تو ایک وقت کی روٹی بھی انہیں میسر نہیں۔ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، بے روزگاری روز افزوں ہے، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے بوجھ تلے دبے خود کشیاں کر رہے ہیں۔

ویلفیئر اور سوشل ویلفیئر سٹیٹ میں بڑا فرق ہوتا ہے، سکینڈے نیوین ممالک اور کینیڈا اور نیوزی لینڈ وغیرہ فلاحی ریاستیں ہیں۔ یہاں کے شہریوں کے لیے روزگار ’تعلیم‘ علاج معالجہ ریاست کی ذمہ داری ہے اگر روزگار نہ ہو تو بے روزگاری الاؤنس حکومت کی طرف سے ملتا ہے۔ یہ حکومتیں امیر شہریوں سے بھاری ٹیکس وصول کرتی اور غریب شہریوں پر خرچ کرتی ہیں۔ ہمارے حکمران آئی ایم ایف کی ایم ڈی کی اپیل پرہی ٹیکس امیروں سے لیں اور سبسڈی صرف حق داروں کو دینے کے انقلابی اقدامات پر کمر کس لیں تو ملکی معیشت بہتر ہو جائے گی۔ امیروں سے ٹیکس لینے کا اعلان ہوا تو ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے قیامت برپا کر دیں گے کیونکہ انہیں ٹیکس نہ دینے اور سبسڈی لینے کی عادت ہے۔

75 سال سے جی بھر کر ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والے اب کچھ عرصہ غریبوں کے لئے ملکی معیشت کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ان کے لئے ممکن ہے ان کے پاس دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔ غریب کے پاس تو اب کچھ بھی نہیں رہا۔ اس لئے اب ان کی باری ہے کہ وہ غریبوں کو مراعات دیں۔ اگر ملکی معیشت کو واقعی بحال کرنا ہے تو اعتماد و اعتبار قائم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ایک تجویز یہ ہے کہ وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار حکومتی مراعات میں واضح کٹوتی کا اعلان کریں اور دولت مند طبقات پر بوجھ ڈالیں، اس کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں اور دیگر اہل خیر سے مدد کی اپیل کریں وہ دل کھول کر ڈالرز دیں گے بشرطیکہ ان ڈالروں کا انتظام و انصرام ڈاکٹر امجد ثاقب جیسی شخصیات کے سپرد کیا جائے جن کی امانت و دیانت پر لوگوں کو سو فیصد یقین ہو

Facebook Comments HS