سب خدا کے وکیل ہیں لیکن آدمی کا کوئی وکیل نہیں
کچھ دن پہلے میں نے ایک جگہ ایک بہت دلچسپ بات پڑھی جس میں زندگی اور اسکول کا موازنہ کیا گیا تھا۔ ہم اسکول جاتے ہیں اور سبق سیکھتے ہیں۔ اس کے بعد سال کے آخر میں اس سیکھے ہوئے مواد کے بارے میں امتحان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زندگی ایک ایسا اسکول ہے جس میں ہمیں امتحان پیش آتے ہیں اور ان کو حل کرنے کی کوشش سے ہم سیکھتے ہیں۔
دنیا کے تمام نظام انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں کئی نظام ان لوگوں نے بنائے ہیں جن کے پاس طاقت تھی اور وہ اپنا فائدہ چاہتے تھے۔ اگر ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہو یا ہماری مدد نہ ہو رہی ہو، تو ہمارے لیے اس نظام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت سارے ایسے جبری قوانین اور نا انصافیاں نظاموں میں موجود ہیں جن کے بارے میں پسا ہوا طبقہ جانتا ہے اور جن لوگوں کا کچھ نقصان نہیں نکلتا، وہ ان کی موجودگی سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ الٹا آپ کے ساتھ بحث میں الجھتے ہیں کہ کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔ ان نظاموں کی مثالوں میں خواتین کے حقوق سے متعلق پاکستانی قوانین کے علاوہ نارتھ امریکہ کی ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کے اصول و ضوابط بھی شامل ہیں۔
ہیلتھ انشورنس کے نظام کا مقصد بدقسمتی سے ایسا بن گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جائے اور مریضوں پر کم سے کم خرچ کرنا پڑے۔ آپ جہاں بھی ہوں اور جس طرح کی بھی بے انصافی ہو رہی ہو تو آپ کو نظام کو اندر سے باہر تک سمجھ کر خود اپنا وکیل بننا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
پچھلے بلاگ میں سانٹا فے نیو میکسیکو کے قصے کے بعد مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا جس میں میں نے ایک ہیلتھ انشورنس کمپنی سے ایک دوست کے لیے پھنسے ہوئے پیسے نکلوائے تھے۔ اس کہانی کو شیئر کرنے کے لیے میں نے ان دوست کی اجازت لے لی ہے اور ان کی شناخت چھپا دی گئی ہے۔ ان کا نام فرضی طور پر فرضی صاحب رکھ لیتے ہیں۔
فرضی صاحب نے کئی بار میٹنگ میں ذکر کیا کہ کس طرح ان کی انشورنس کمپنی جوڑوں کی سرجری کے لیے پیسے نہیں دے رہی ہے اور پچیس ہزار ڈالر کا ہسپتال کا بل بن گیا ہے۔ آپ اپیل دائر کریں۔ میں نے ان سے کہا۔
وہ ہم نے کی تھی لیکن پھر سے منع ہو گیا۔ انہوں نے کہا۔
وہ کیوں اس اہم سرجری کے لیے ہسپتال کو ادائیگی نہیں کر رہے ہیں؟ میں نے ان سے پوچھا۔
انہوں نے مجھے انشورنس کمپنی سے بھیجا ہوا خط ای میل کیا جس کو میں نے توجہ سے پڑھا۔ اس کے علاوہ ان کے میڈیکل ریکارڈ دیکھے۔ بنیادی طور پر مسئلہ یہ بنایا گیا تھا کہ سرجری سے پہلے میڈیکل علاج کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، جیسا کہ اپنے فیملی ڈاکٹر سے اس تکلیف کے بارے میں بات چیت، جسمانی چیک اپ، عام درد کی اینٹی انفلامیٹری دوائیں یا فزیکل تھیراپی وغیرہ پر مبنی علاج، اس لیے انہوں نے کہا کہ شاید اس سرجری کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس کے علاوہ ریکارڈ میں ایسے فزیکل ایگزام کے ساتھ لکھے ہوئے شواہد نہیں ملتے جن سے یہ تشخیص ثابت کی گئی ہو جس کی سرجری ہوئی ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ جس بیماری کی سرجری ہوئی ہے، وہ موجود بھی تھی یا نہیں۔ مختصراً وجہ یہ لکھی ہوئی تھی کہ آپ نے پہلے سے طے شدہ ضروری اقدامات نہیں کیے اس لیے ہم اس سرجری کے پیسے نہیں دیں گے۔
ٹھیک ہے، آپ مجھے ہفتے کے دن فون کریں جب میری چھٹی ہوگی تو میں آپ کا تفصیلی انٹرویو کروں گی۔ میں نے ان سے کہا۔ مندرجہ ذیل خط میں نے ان کے انٹرویو کے بعد ان کے لیے لکھا۔
”مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے کہ ہسپتال اور سرجن کو میرا اچھا خیال رکھنے کے بعد فیس کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔ میں دو ہزار آٹھ تک بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ سن دو ہزار آٹھ میں میں اپنی فیملی کے ساتھ گھومنے گیا جہاں ایک جھولے میں میرا بازو پھنس گیا جس سے مجھے شدید تکلیف محسوس ہوئی۔ میں نے اگلے کئی دن تک درد کی گولیاں کھا کر گزارا کیا۔ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ہم واپس آئے تو میرا درد کچھ بہتر ہو چکا تھا۔ اس دوران میں نے خود سے ہلکی پھلکی ورزش جاری رکھی۔ میرے فیملی ڈاکٹر ایک دل کے ڈاکٹر ہیں جن سے میں سال میں ایک مرتبہ ملتا تھا۔ میری زیادہ شکایت کرنے کی عادت نہیں ہے اور وہ میرے دوست بھی ہیں تو اس ایک ملاقات میں زیادہ تر ادھر ادھر کی سماجی اور دل کی بیماری، کولیسٹرول اور وزن کو نارمل رکھنے وغیرہ کے بارے میں بات چیت ہوتی تھی۔ ان سے میرے جوڑوں کی تکلیف کی شکایت کرنے کا خیال میرے ذہن سے نہیں گزرا۔ اس لیے انہوں نے بھی اپنے کسی چارٹ کے نوٹس میں اس بات کا ذکر نہیں کیا۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن اس وقت حالات بدل گئے جب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ پھر سے سن دو ہزار اٹھارہ میں چھٹیوں پر گیا ہوا تھا۔ وہاں ہم کھیل رہے تھے۔ میں نے اپنے پوتے کو اوپر اٹھایا ہوا تھا۔ اس نے ایک طرف چھلانگ لگائی تو اس کو گرنے سے بچانے کے لیے میرے بازو اور بری طرح سے کھنچ گئے۔ اس سے میرا درد پھر سے تازہ ہو گیا۔ واپس گھر پہنچ کر میں نے اپنے دوسرے دوست سے بات کی جو آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ ہم ساتھ میں ہفتے میں ایک بار لنچ پر جاتے ہیں۔ انہوں نے مجھے فون کالز اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے کچھ مشورے دیے جن کا ریکارڈ میں اس خط کے ساتھ شامل کر رہا ہوں۔ اس دوران کو رونا کی وبا کی وجہ سے ہم کلینک یا ہسپتال جانے سے بھی گھبراتے تھے۔ میں نے ان کے کہنے کے مطابق دوا اور ورزش جاری رکھی لیکن میرا درد بڑھتا گیا۔ انہوں نے مجھے اپنے آفس بلایا، میرا ایم آر آئی کیا اور اگلے دن میری سرجری کی۔
میں نے نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ویب سائٹ پر جا کر کچھ طبی جریدوں میں چھپے آرٹیکل پڑھے ہیں اور ان میں فلاں جگہ یہ بات صاف لکھی ہوئی ہے کہ ایم آر آئی اس بیماری کو تشخیص کرنے میں چھیانوے فیصد تک حساس ہیں۔ اس لیے میرا دعویٰ ہے کہ میری تشخیص درست کی گئی تھی۔ یہ جرنل میں چھپے آرٹیکل اور اپنی ایم آر آئی رپورٹ بھی میں اس خط کے ساتھ شامل کر رہا ہوں۔
آرتھوپیڈک سرجن نے یہ رپورٹیں دیکھنے کے بعد اگلے ہی دن مجھے ہسپتال بلایا تھا اور آپریشن روم میں لے جاکر یہ سرجری کی تھی۔ اس سرجری کے بعد میری تکلیف نوے فیصد کم ہو گئی۔ اس سرجری سے پہلے مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب ہم جہاز میں بیٹھ کر چھٹی سے واپس آ رہے تھے تو میں اپنا بیگ تک اٹھا نہیں سکتا تھا۔ اس کو اٹھانے میں میری بیوی نے میری مدد کی تھی۔ میں اپنے دوست آرتھوپیڈک سرجن کا نہایت مشکور ہوں اور ان کی میڈیکل ٹیم کا بھی نہایت مشکور ہوں جن کی بدولت میری صحت اور زندگی بہتر ہوئے۔
میری انشورنس کمپنی سے پرزور اپیل ہے کہ آپ یہ بل ضرور ادا کر دیں۔ خاص طور پر کو رونا کی وبا کے زمانے میں ان محسن ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات کا معاوضہ ادا نہ کرنا ایک کوتاہی ہو گی۔ شکر یہ۔
فقط فرضی صاحب
اس کے علاوہ میں نے اپنے نام سے بھی ایک خط لکھا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ہم ان صاحب سے ہفتے میں ایک بار تو میٹنگ میں ملتے ہیں۔ انہوں نے زبانی اس تکلیف کا ذکر کیا تھا اور میں نے بھی ان کو یہی مشورے دیے تھے۔ ان فرضی صاحب سے کہا کہ پچھلے دس پندرہ سال کی کہانی پر مشتمل یہ خطوط اور آرتھوپیڈک سرجن سے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے کی گئی گفتگو کا ریکارڈ اپنے فیملی ڈاکٹر کے کلینک بھیج دیں تاکہ یہ آپ کے میڈیکل ریکارڈ کا حصہ بن جائیں۔ اور یہ سب کاغذات اپنے وکیل کے دستخط کے ساتھ انشورنس کمپنی کو ارسال کر دیں۔
پہلی جنوری سن دو ہزار اکیس پر مجھے اپنے اچھے دوست فرضی صاحب کا ٹیکسٹ میسج موصول ہوا۔ انہوں نے لکھا، ”نیا سال بہت مبارک ہو ڈیر لبنیٰ۔ میں آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو ایک خوشیوں، خوشحالی اور صحت سے بھر پور نئے سال کی مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ میں آپ کا شکر یہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ایک بے لوث دوست ہیں جو ہر کسی کی مدد کرتی ہیں۔ کل دوپہر مجھے خبر ملی کہ انشورنس کی کمپنی نے یہ بل ادا کر دیا ہے۔ اگر آپ میری رہنمائی نہ کرتیں تو شاید میں یہ کام اکیلے نہ کر پاتا۔ مے گاڈ بلیس یو اینڈ یور فیملی۔
بیٹ اینڈ سوئچ فراڈ – دکھاؤ کچھ بیچو کچھ


