جاوید اختر سے فیض یافتہ فنکار


حضرت علی کرم اللہ وجہ سے ایک قول منسوب ہے کہ اگر کسی کا ظرف آزمانا ہو تو اسے عزت دو اگر وہ اعلیٰ ظرف ہوا تو آپ کی اور عزت کرے گا اور کم ظرف ہوا تو خود کو اعلیٰ سمجھے گا۔ یہ قول کتنی بڑی حقیقت ہے اس کا اندازہ آپ کو اپنی روز مرہ زندگی میں اپنے آس پاس موجود لوگوں کے رویے سے ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے کسی مہمان یا کسی ایسی شخصیت جس کے فن سے آپ متاثر ہوں اس کو عزت ضرور دیجیے لیکن ایسے نہیں کہ خود اپنی عزت نفس داؤ پر لگادی جائے ورنہ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کب آپ خود دوسروں کے آگے تماشا بن جائیں گے۔ یہی کچھ ہمیں جاوید اختر صاحب کی اس قدر مہمان نوازی کر کے دیکھنے کو مل رہا ہے۔

گزشتہ دنوں فیض میلہ میں مدعو جاوید اختر صاحب کی مہان نوازی کرتے ہمارے فنکار، غالباً ان کے فن یا ان کی بھارتی فلم انڈسٹری میں نام سے مرعوب ہو کر ان کے گھٹنوں پر عقیدت سے سر دھرے دکھائی دیے۔ بعید نہیں کچھ نے مزید فیض حاصل کرنے کی غرض سے ان کے قدموں کو بھی چوم لیا ہو۔ لیکن حاصل اس کا یہ ہوا کہ جاوید اختر پاکستان کے خلاف خوب ہرزہ سرائی کر کے واپس بھارت سرخرو ہوئے جہاں بھارتیوں نے ان کی خوب واہ واہ کی تو وہیں پاکستان کا خوب مذاق بنا۔ ویسے اس تھوڑے عمل سے جاوید اختر صاحب بھارتیوں سے محب وطن ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی پا چکے ہوں گے ۔

اسی طرح کا واقعہ بہت عرصہ قبل بھی ہوا تھا جب بھارت سے پاکستان کے دورے پر بھارتی فنکاروں کے وفد میں شامل مرحوم فیروز خان نے پاکستان کے خلاف منفی باتیں کی تھیں جس کے جواب میں انہیں اسی وقت شدید رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا اور حکومت پاکستان نے ان کی آئندہ آمد پربین عائد کر دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے اس رویے پر ان ہی کے ساتھی ہمیش بھٹ نے بھی ان پر تنقید کی تھی۔

مگر افسوس کہ اس بار پاکستانی میزبانوں میں کیا کوئی ایسا ہوش مند نہیں تھا جو انہیں پچھلے نو سالوں میں بھارت میں مودی حکومت کی مسلمان یا پاکستان مخالفت کی سیاست پر توجہ دلواتا۔ بلکہ انہیں یہ یاد دلاتا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا انتہا پسند نظریے کی سیاست کے دور میں تو خود باحیثیت مسلمان آپ کی وطن پرستی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائی جائے کہ جب پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں بالی وڈ ڈے منایا جا رہا ہو وہاں دوسری طرف بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے بھارت میں پاکستانی فلم مولا جٹ کی ریلیز پر پابندی لگادی گئی ہے۔

خیر فنکاروں سے ہی کیا گلہ، ہمارے ملک میں تو خود ایسے ایسے سچ کی صحافت کے دعوے دار پڑے ہیں جو سارا سارا دن انڈین نیوز اور سوشل میڈیا میں پاکستان کے خلاف بولتے رہنے والوں سے مرعوب ہوئے رہتے ہیں۔ اپنے اپنے یوٹیوب چینلز پر اسلام اور پاکستان مخالف کٹر پندیوں کو بلا کر بڑے معصوم بن کے سوال پوچھتے ہیں کہ سر آپ کو کیا لگتا ہے پاکستان میں کیا غلط ہے؟ جس کے جواب میں وہ اپنا زہر مناسب الفاظ میں اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔

خیر اس پر افسوس کے ساتھ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ بھارتی فلموں یا بھارت سے مرعوب ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن براہ مہربانی ان کی پرستش میں مت جت جائیے۔ ہمارے کچھ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی ہر وقت بھارتی فلموں اور ان کے اداکاروں کا تذکرہ کیا جاتا رہتا ہے۔ کچھ تو باقاعدہ ان کی ڈمیز بھی بنا کے پیش کرتے ہیں ساتھ ان کی فلموں کے اعداد و شمار پر تفصیلی تجزیے بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اداکاری کے ایسے ایسے کرشمے بیان کرتے ہیں جن سے خود بھارت کے لوگ لاعلم ہیں۔ خیر تو سب سے یہی عرض ہے کہ براہ مہربانی کچھ توازن بھی قائم کیجیے۔

Facebook Comments HS