ایک شاندار کانفرنس کا احوال جو اس دنیا میں نہیں ہو رہی


ہمیشہ سوچتی ہوں کیا پروین شاکر اب بھی شعر کہتی ہوں گی ۔ پھر خود ہی فیصلہ کر لیتی ہوں کہ آرٹسٹ تو آرٹسٹ ہے کہاں دماغ، دل اور انگلیوں پر کنٹرول رہتا ہو گا۔ جہان بدل جاتا ہے انسان تو وہی رہتا ہے نا؟

پھر سوچتی ہوں پروین شاکر کیسی غزلیں کہتی ہوں گی ؟ سامعین آج بھی ان کی پڑھت کے دلنشیں انداز کے مداح ہوں گے ؟

آج بھی خوشبو کی شاعرہ جہاں جاتی ہوں گی خوشبو پھیل جاتی ہوگی؟
جون ایلیا آج بھی دنیا سے اور اس میں بسنے والوں سے اتنے ہی بیزار ہوں گے ؟

ابن انشاء نے اردو کی آخری کتاب لکھ لی ہوگی یا نہیں۔ وہ جو بہت دور کٹیا بنائی تھی اس میں چین ہے یا اب بھی سب مایا ہونے کا احساس باقی ہے؟

کیا احمد فراز کو بھلی سی شکل والی دوست دوبارہ مل گئی ہے یا اب تک یادوں پر ہی گزارا ہے؟

یہ باکمال آرٹسٹ آسمانوں میں کہیں اپنی بیٹھک سجاتے ہوں گے یا نہیں۔ اب لگتا ہے اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔

یہ شاندار لوگ آسمانوں پر بھی کہیں اپنی محفل سجا لیں گے، ایک بیٹھک ہوگی جہاں آصف فرخی بھی موجود ہوں گے ، انتظار حسین بھی وہی ہیں۔ شاندار سا کچھ تحریر کریں گے اور ضیاء محی الدین سے حوالے کریں گے کہ اسے اپنی آواز کا جادو دیجئے۔

وہی ضیاء محی الدین جن کے لیے مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا
” روز محشر اپنا نامہ اعمال ضیاء محی الدین سے پڑھنے کو کہوں گا۔“

اور جن کے لیے مبشر علی زیدی لکھتے ہیں کہ نور جہاں ملکہ ترنم تھیں اور ضیا محی الدین شہنشاہ تحت اللفظ تھے۔

ابن انشاء، جون ایلیا، پروین شاکر، فیض، احمد فراز، ثروت حسین اور غلام محمد قاصر کے ساتھ ساتھ اب امجد اسلام امجد بھی وہی ہیں۔ انقلاب، جدائی کی اداسی اور دنیا کے رنگوں سے بے زاری اور بے بسی میں کہیں کہیں آپ محبت کے رنگ بھرنے کی کوشش کریں گے۔

سوچتی ہوں امجد صاحب کون سی نظم سنا کر محبت کی کہانی سنائیں گے اور سننے والوں کو دوبارہ سے محبت کرنے پر دل کو مائل کریں گے۔

محبت کی طبیعت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی، جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
ہزاروں طرح سے دلکش، حسیں حالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے!
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے!
محبت کی طبیعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
”کہو مجھ سے محبت ہے!“

یا پھر
محبت ایسا نغمہ ہے
ذرا بھی جھول ہے لے میں
تو سر قائم نہیں ہوتا
محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا
محبت ایسا رشتہ ہے
کہ جس میں بندھنے والوں کے
دلوں میں غم نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے
جو تب بھی سبز رہتا ہے
کہ جب موسم نہیں ہوتا
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
(امجد اسلام امجد)

آپ جو بھی سنائیں گے
مجھے لگتا ہے کامیاب ہو جائیں گے۔
پھر معین اختر اور عمر شریف اپنے انداز میں بیٹھک میں شریک بڑے ناموں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دے گے۔
پھر ملکہ ترنم نور جہاں، فیض کی کوئی نظم اپنی آواز میں سنا کر محفل لوٹ لیں گی۔

افسوس یہ ہے کہ ہم اس بیٹھک پر نہ اعتراض کر سکتے ہیں اور نہ اسے سراہ سکتے ہیں کیونکہ سامعین میں اس بار ہم شامل نہیں

 

Facebook Comments HS