عورت گنہگار نہیں


دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر ریسرچ اور سروے کیے جاتے ہیں جن کو بنیاد بنا کر معاشرتی تبدیلیوں کو پرکھا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان وہ ملک ہے جہاں پورن سائٹس کو سرچ کرنے کا رجحان نوجوانوں میں پایا جاتا ہے اس کے ساتھ پچھلے چند سالوں میں ہمارے سامنے ریپ کیسز کی بھی بڑھتی ہوئی تعداد سامنے آ رہی ہیں ہم ان باتوں کو سوچنا اور سمجھنا کیوں نہیں چاہتے ہیں؟

یہاں پر مختلف فورمز پر کئی موضوعات پر دھواں دھار تقاریر ہوتی ہیں مگر ان موضوعات پر بات نہیں کی جاتی حتی کہ ہم اس معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں پر اب میں آگے آپ کو وہ باتیں بتاؤں گی جو ایک عورت ہونے کے ناتے میرے سینے میں کھبتی ہیں کہ کیوں میرے وجود کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا؟ کب تک مجھے صرف ایک کھلونا کی طرح سمجھا جائے گا؟ میں کب تک بھیڑیوں کی ہوس کا نشانہ بنو گی کیونکہ ان بھیڑیوں کو کسی شیر کا ڈر نہیں ہو گا؟ چلیں پڑھیں میرے معاشرہ کی تلخ حقیقتیں

1) پیڈز کو چھپا کر بیچنا

حیا بے شک میرے مذہب کا حصہ ہے مجھ پر ایک عورت کے ناتے پردہ بھی فرض ہے میں وہ بھی کر لو گی مگر اگر میں کسی اسٹور پر جاؤں اور مجھے اپنی ضرورت کی چیز لینی ہوں تو اس کے لیے مجھے چاروں طرف نظریں گھما کر ایک خاکی لفافہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جس میں میں وہ رکھ سکوں میں وہ بھی کرنے کو تیار ہوں مگر جب میں کاؤنٹر پر جاتی ہوں اور سیلزمین وہ پیکٹ نکال کر اس پر درج رقم کمپیوٹر پر ڈالتا ہے اور پھر مجھے ان نظروں سے دیکھتا ہے جیسے میں نے کوئی گناہ کیا ہوتو پھر شاید میرا خاکی لفافہ ڈھونڈنا اور اس میں میری ضرورت کی چیز رکھ کر لانا بے معنی ہوجاتا ہے کیونکہ یہ تو میں جانتی ہوں کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

2) پی ٹی اسٹرپ خریدنا

ماں کے قدموں تلے جنت ہے ماں اپنے آپ میں ایک ایسا لفظ ہے جو قربانیوں کا مجموعہ ہے مگر یہ جاننے کے لیے کہ ایک عورت ماں بننے والی ہے اس کے لیے بھی اسے اسٹور جاکر پی ٹی اسٹرپ خریدنی ہوگی وہ بھی خاکی رنگ کے لفافہ بھی دی جائے گی مطلب کمال ہے اب ماں بننا بھی ایسا ہو گیا جس کو چھپایا جائے تو ہی اچھا ہے ویسے ہم نے تو ہمیشہ سنا ہے گناہ چھپایا جاتا ہے تو کیا ماں بننا گناہ ہے؟

3) مباشرتی عمل کے بارے میں گفتگو پر ممانعت

میرے مذہب میں میاں بیوی کے درمیاں خلوت کے لمحات کو کسی کو بھی بتانا گناہ کے زمرے میں آتا ہے مگر میرے ہی مذہب میں میرے ہی نبی نے مباشرتی عمل کے تمام قواعد و ضوابط واضح کیے ہیں مگر افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرہ میں اس عمل کو ہنسی مذاق کا نشانہ بنا دیا گیا ہے جہاں دولہا کے دوست اول فول بک رہے ہوتے ہیں اور دلہن کی دوستیں بھی آئیں بائے شائیں کرنے میں مشغول ہوتی ہیں اس کا نقصان ہم آج مختلف انداز میں معاشرہ میں دیکھتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اس معاملے پر اپنے نوجوانوں سے مثبت انداز میں بات کریں اس عمل کو گناہ بنا کر پیش نہ کریں لڑکوں بھی یہ بات سمجھائی جائے کہ نکاح ایک بابرکت عمل ہے اس کے تقاضوں کو سمجھو اور لڑکیوں کو تو حقوق اور فرائض بچپن سے ہی ازبر کروائے جا رہے ہوتے ہیں تاکہ ہمارے معاشرہ میں جو حلال میں حرام کی حلاوت ہو رہی ہے وہ ختم ہو۔

4) جسمانی خد و خال پر تبصرے

ایک عورت نو مہینے بچہ کو کوکھ میں پالتی ہے اور ان نو مہینے میں وہ جس درد اور تکلیف سے گزرتی ہے وہ یا وہ خود جانتی ہے یا پھر اللہ مگر ہم اس معاشرہ کا حصہ ہے کہ جہاں پر ایک زچہ کو چند دن بعد ہی کہا جا رہا ہوتا ہے ہائے! تمھارا وزن کتنا بڑھ گیا ہے، بھدی ہو گئی ہوں، جلدی کم کرو، مرد ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں وہ بچارے جو راتوں کو سو نہیں پا رہی ہوتی، شدید کمزوری محسوس کر رہی ہوتی ہے وہ شوہر کے دور جانے کے خوف سے ہی کھانا پینا چھوڑ کر خود کو درد اور تکلیف کا شکار کر لیتی ہے خدا کا واسطہ ہے اس ماں بننے کی خوشی محسوس کرنے دو ماں بننے کے احساس سے زیادہ دنیا میں اور کچھ بھی خوبصورت نہیں اور جس مرد کو صرف عورت کا جسم چاہیے وہ مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں ہے اس لیے عورت کا ساتھ دے نہ کہ ہوس پجاری مرد کا۔

5) دودھ پلانا

کہنے کو ہم مسلمان ہیں مگر یہاں چند ایک مال کے علاوہ کہیں بھی عورتوں کے لیے ان کمروں کا تعین نہیں جہاں وہ نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلا سکے عورتیں کونے کھدرے ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں جہاں پر وہ اپنے روتے ہوئے بچے کو چپ کروا سکے اور ایسے میں اگر کیمرے لگے ہوئے ہوتو وہ خود کو اور بے بس محسوس کرتی ہیں اور پھر اگر کونا مل جائے اور کسی مرد یا پھر عورت کی بھی نظر پڑ جائے تو وہ نظریں بھی عجیب ہوتی ہے سوال یہ ہے کیوں؟ وہ عورت ایسا کیا کر رہی ہے جس پر اسے ایسے دیکھا جائے کیوں اس عورت کو عزت نہ دی جائے اور اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ ایک جنتی عورت ہے جو اپنے بچہ کا حق ادا کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کر رہی۔

آپ یہ سب پڑھنے کے بعد یقیناً تھوڑے سے پریشان ہوں گے کیونکہ میں نے شروع میں پورن اور ریپ کی بات کی جس میں صرف مردوں کا شمار ہوتا ہے ور پھر یہ سب لکھا جس میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں اور پھر آپس میں بھی کوئی گٹھ جوڑ محسوس نہیں ہو رہا مگر ان سب کا ہی گٹھ جوڑ ہے اگر ہمارے معاشرہ میں سب کچھ اتنا چھپا ہوا ہے عورت کی ماہواری، حمل ٹھہرنا، میاں بیوی کی ہمبستری، ماں بننا یا پھر دودھ پلانا سب کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ اگر یہ سب غلطی سے سامنے آ جائے تو عورت کہ کردار پر بات آجاتی ہے تو پھر ہمارے معاشرہ میں کیوں پورن اور ریپ ہیں؟

وجہ صاف ظاہر ہے جس کو جتنا چھپایا جاتا ہے اس کی اتنی کرید ہوتی ہے اس لیے وہ وقت آ گیا ہے جب ہم عورتوں سے زیادہ مردوں کو عورتوں کی ان باتوں کے بارے میں بتائے جو ان کی زندگی کا اہم حصہ ہوتی ہے اور جب انھیں نہیں سمجھا جاتا تو وہ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتی ہیں اس لیے اگر ہمارے باپوں کے بعد بھائی اور شوہر ہمیں سمجھنے لگے اور عورتیں ہی عورتوں کا ساتھ دینے لگے تو شاید زندگی آسان ہو جائے۔

Facebook Comments HS