دوستوں کے درمیان وجہ دوستی پروفیسر محمد اکرم سعید
کسی عاشق صادق نے نشیب و فراز کی کئی منزلوں سے گزرنے کے بعد غم عاشقی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کی بدولت ان منزلوں کی مسافت نصیب ہوئی، سچ پوچھیں تو یہ غم عاشقی اور روگ محبت تو بعض جگہوں پر محض زیب داستان کے لیے بھی پیدا کر لیے جاتے ہیں لیکن تیسری دنیا میں ایک اور بھی غم ہے جو مستقل ہے اور شاید مستقل ہی رہے گا اور اس غم کا نام ہے غم روزگار۔
غم روزگار غلط کرنے کے لیے ہمیں بھی ماہ و سال کا سفر، قریہ قریہ اور بستی بستی کرنا پڑ رہا ہے اور اس سفر سے ہی زیست کی ڈور وابستہ ہے اور یوں ہنسی خوشی یہ سفر بھی طے کرنا ہی پڑے گا۔
اس سفر کا ایک فائدہ یہ ہے جس بھی بستی فقیر کا پڑاؤ ہوتا ہے، اس بستی کے لعل و گہر قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع میسر آتا ہے۔
شیخوپورہ ویسے تو ہمارا ہی علاقہ ہے اور 2005 تک ہمارا ضلعی صدر مقام رہا لیکن 2005 میں ننکانہ صاحب کو ضلع کی حیثیت ملنے کی وجہ سے اس شہر سے کچھ خاص رابطہ نہ رہا۔ رزق روٹی کے گول چکر نے ہمیں جون 2019 کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر میں شیخوپورہ جانے پر مجبور کیا اور سرتسلیم خم کرتے ہوئے جا پہنچے۔
انسانی فطرت ہے کہ بندہ اپنے مطلب اور مزاج کے لوگوں کو ڈھونڈتا ہے اور ان کی مجلس اختیار کر کے خوش ہوتا ہے۔ راقم اپنے بارے میں قلم کار، ادیب، صحافی یا دانشور ہونے کا تو دعویدار نہیں لیکن قلم، ادب، صحافت، دانش اور قلم کار، ادیب، صحافی اور دانشور کا محب اور متلاشی ضرور ہے۔
یہی تلاش راقم کو پروفیسر اکرم سعید کے آستانے پر لے گئی ، ان کے ملنے کے بعد میں نے انہیں مثل تعویز پایا کہ جنہیں ملنے سے شفاء ملتی ہے اور دکھ دور ہوتے ہیں۔
محمد اکرم سعید 15 اپریل 1949 کو شیخوپورہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 173 رسول پور جٹاں میں محمد علی جٹ کے گھر پیدا ہوئے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور سائنس ٹیچر سروس کا آغاز کیا، کچھ عرصہ میرے آبائی شہر ننکانہ صاحب میں بھی فرائض سرانجام دیتے رہے، بعد میں سائنس کی بجائے اردو زبان و ادب کی طرف مائل ہوئے اور لیکچرر اردو کے طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہوئے اور 14 اپریل 2009 میں بطور صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج شیخوپورہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔
آپ کی دو درجن کے قریب کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جن میں دل اک دریا (شاعری ) ، چنتا (نثری مضامین) ، شاعری پنڈ تے شہر ( تنقید) ، چرخے دی گھوک (لوک گیتوں کا تذکرہ) ، پچھ پرتیت (پنجابی ناول کے بارے میں تنقیدی مضامین) ، اک شاعر، اک نظم (پنجابی نظم کے بارے میں تنقیدی مضامین) ، ٹانوا ں ٹانواں تارا (منشاء یاد کے ناول کا تنقیدی جائزہ) ، رہگزر (اخباری کالموں کا انتخاب) ، آبھو سٹے (خاکے ) قابل ذکر ہیں۔
اکرم سعید صاحب بڑی بارعب اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں، ہم لکھنے والے کسی بھی عامی یا نامی شخصیت کے ساتھ صفاتی سابقے اور لاحقے اتنی دریا دلی سے استعمال کرتے ہیں کہ سابقے لاحقے بھی شرمندہ شرمندہ سے پھرتے ہیں اور ہمارے ممدوح جن کے لیے قیمتی الفاظ کو بے آبرو و بے توقیر کیا جاتا ہے وہ بھی سوچ سوچ کر حیران اور پریشان ہوئے جاتے ہیں کہ ہمارے مداح نے ہمارے بارے میں جو خوبیاں بیان کیں وہ آج تک انہیں یا ان کے گھر والوں کو نظر کیوں نہ آئیں؟
میری تحریر کے محور اور ممدوح واقعی اس قابل ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ ملنسار، وضع دار، حلیم الطبع، بذلہ سنج، صاحب اسلوب، دوستوں کے درمیان وجہ دوستی، عالم ادیب، دانشور اور اس قبیل کی تعریفات اور صفات نہ صرف جچتی ہیں بلکہ ان صفات کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔
ٓاکثر دیکھا یہ گیا کہ کسی نجی مجلس میں کسی بھی شخصیت کی تعریف کریں تو سننے والے اثبات کے فوری بعد چونکہ، چنانچہ، لیکن، پر وغیرہ لگا کر نفی بھی ساتھ ہی کر دیں گے، مثلاً وہ بندہ تو بڑا تخلیقی ہے لیکن تھوڑا مغرور ہے، فلاں صاحب شاعر بڑے اچھے ہیں پر نرگسیت سے لتھڑے پڑے ہیں۔ ہم ان کی خوبیوں کا تو اعتراف کرتے ہیں لیکن وہ بڑے زود رنج ہیں، چنانچہ ان سے دوری میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
پروفیسر اکرم سعید سے میں اس لیے بھی متاثر ہوں کہ میں نے جب بھی کسی جگہ ان کا ذکر کیا تو مجھے محض تعریفیں اور دعائیں ہی سننے کو ملیں۔
ان کے ادبی کام اور شخصی خوبیوں کا تذکرہ اور احاطہ میرے جیسے طالب علم کے لیے ممکن بھی نہیں اور اخباری صفحات بھی اس کے متحمل نہیں۔
ان کی حال ہی شائع ہونے والی کتاب آبھو سٹے کا کچھ اجمالی حال بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آبھو سٹے، گندم کے ادھ کچے، ادھ پکے خوشوں کو کہا جاتا ہے، دیہاتوں میں لوگ ان کچے پکے سٹوں یا دانوں کو بھون کر بڑے شوق سے کھاتے ہیں، ان دانوں کا ذائقہ بہت ہی منفرد، لذیذ اور فرحت بخش ہوتا ہے۔ محمد اکرم سعید کی کتاب آبھو سٹے جو کہ پنجابی زبان میں تخلیق کردہ خاکوں، اظہاریوں یا انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ یہ تمام مضامین کسی نہ کسی شخصیت کی خوبیوں اور کمالات کا احاطہ کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ماہرین ان تحریروں کو خاکوں کے ضمن میں ہی شمار کرتے ہیں۔
اردو زبان و ادب کے مایہ ناز استاد اور محقق پروفیسر قاضی عابد مرحوم جنہیں ہم سے جدا ہوئے تقریباً ایک برس ہو چکا ہے، انہوں نے صاحب اسلوب قلم کار سجاد جہانیہ کی کتاب، ”ادھوری کہانیاں“ کی تقریب پذیرائی منعقدہ ملتان ٹی ہاؤس، ملتان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا، کہ بڑا قلم کار وہ ہوتا ہے جو اپنی تحریر سے ادبی اصناف کی تکنیک خود بناتا ہے وہ بنے بنائے رستوں یا لکیروں کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ اس کا انداز تحریر ہی تکنیک اور حدود کا تعین کرتا ہے۔
کتاب میں مختلف ادبی شخصیات کے بارے میں 32 مضامین شامل ہیں، یہ مضامین زیادہ تر مختلف شخصیات کے متعلق منعقد ہونے والی تقریب میں پڑھنے کی غرض سے لکھے گئے اس لیے اس میں شگفتگی اور سلاست ہر ایک جملے سے جھلکتی نظر آتی ہے۔ پروفیسر اکرم سعید کے کتاب میں شامل ممدوحین اکثر داعی اجل کو لبیک کہ چکے ہیں، اس لیے وہ کتاب کے پیش لفظ میں اس بات پر اظہار تاسف کرتے ہیں کہ کتاب اگر ان دوستوں کی زندگی میں آجاتی تو بہت بہتر ہوتا، لیکن میرے خیال میں اچھے اور نیک کام میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ ان کی کتاب کی اشاعت سے ہم جیسے قارئین تک اس دور کا، جس میں یہ مضامین رقم ہوئے، کچھ ادبی منظر نامہ، کچھ ماضی کی یادیں، کچھ تابندہ روایات، کچھ ہستیوں سے تعارف اور بہت سا گیان حاصل ہو گا۔
پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی خاکوں کی کتاب بازدید میں اپنے استاد محترم ڈاکٹر صوفی محمد ضیاء الحق کے والد گرامی موالا اصغر علی روحی، (جنہیں انہوں نے نہیں دیکھ رکھا تھا) ، کا خاکہ رقم کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ”انسانی ذہن پیکر محسوس کا خوگر ہے، چنانچہ جن شخصیات کو کبھی دیکھا نہیں ہوتا ان کے بارے میں صرف سن کر یا پڑھ کر ان کے قدوقامت اور خط و خال کی بھی ایک فرضی تصویر ضرور بنا لیتا ہے“ ۔
پروفیسر محمد اکرم سعید کے بھی اکثر ممدوحین جنہیں دیکھنے یا جن سے ملنے کے شرف سے راقم محروم رہا، ان کے بارے میں اکرم سعید کے قلم سے نکلے مضامین پڑھ کر ان کی جو خیالی تصویر ذہن میں قائم ہوتی ہے، اس سے متانت، صداقت، محبت، ایثار، ادب، علم، اگہی اور شعور کے پھول کھلتے ہیں۔ پروفیسر اکرم سعید کو اردو، فارسی اور عربی کے ممتاز عالم، شاعر، ادیب پروفیسر مظہر محمود شیرانی کی مصاحبت میں بھی کام کرنے کا موقع ملا، وہ ان کے بارے میں اپنی تحریر میں اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہیں۔
گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں موجود بزم ادب کو پروفیسر مظہر محمود شیرانی کے نام سے موسوم کر دیا گیا تو ڈاکٹر اکرم سعید کو اس بزم کی سرپرستی سونپی گئی، انہوں نے اتنی لگن اور جانفشانی سے کام کیا کہ رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی، آج گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں نئے اساتذہ یا طلباء انہیں اکرم سعید کے نام سے کم اور پروفیسر بزم شیرانی کے نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ وہ 2009 میں اپنی ریٹائرمنٹ سے لے کر آج تک گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں بلامعاوضہ خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں، کالج میں آتے ہیں پڑھاتے ہیں، شعبہ اردو کے استادوں، پروفیسر ڈاکٹر اکرم سراء، پروفیسر خرم ورک اور دوسرے دوستوں کو مکمل سرپرستی اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پروفیسر بزم شیرانی کو تادیر سلامت رکھے کہ ان کے گھنے سائے میں دوستوں کے درمیان دوستی کے پودے پروان چڑھ کر تناور اور چھتنار پیڑوں کا روپ دھارتے ہیں، کیونکہ دوستوں کے درمیان وجہ دوستی ضروری چیز ہے۔ حال ہی میں عظیم شاعر امجد اسلام امجد صاحب کی وفات پر کسی دوست نے بیان کیا کہ ایک وقت تھا کہ عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد یک جان دو قالب کی عملی مثال تھے لیکن بعد میں ان کے درمیان تعلقات میں ویسا تسلسل اور گرمجوشی نہ رہی، اس کی وجہ یہ بنی یہ احمد ندیم قاسمی جیسی بڑی شخصیت نہ رہی، جن کی صحبت اور برکت جدائیوں کو زائل کر دیتی تھی۔





