ہم وطنوں کا ملکی سالمیت سے کھلواڑ
ویسے حد ہی ہو گئی ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی اور پہلے سے بڑھ کر دلخراش واقعہ منظر عام پر آتا ہے۔ کبھی ایک صوبہ میں اور کبھی دوسرے صوبہ میں، گویا ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ 75 سال ہو گئے ہیں آزادی حاصل کیے لیکن لگتا ہے کہ ہم نے سب کچھ ”کھوہ“ میں پھینک دیا ہے۔ اب تو یقین ہونے لگا ہے کہ پاکستان صرف ”طاقتوروں“ کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ غریب، مسکین، کمزور پاکستانیوں کے لئے نہیں۔ عجیب ستم ظریفی ہے کہ دہائیوں سے مسلسل غلطی پر غلطی کرتے آرہے ہیں، اور کرتے جا بھی جا رہے ہیں پھر اس کا نتیجہ بھی بھگتتے ہیں لیکن مجال ہے جو کوئی سبق سیکھ لیں۔
وطن عزیز کی سالمیت سے کھلواڑ اندر سے ہی ہو رہا ہے۔ جمہوری ریاست کے نام پر سفر شروع کیا تھا اور تھیوکریٹک ریاست بنا کر دم لیا اور اب اپنے ہی ملک میں کالعدم تنظیموں سے معاہدے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آج اپنے خطے میں ہم کہاں کھڑے ہیں، یہ جاننے کے لئے زیادہ دور مت جائیں بس اپنے ارد گرد کے پڑوسی ممالک کو دیکھ کر سبق سیکھ لیں یا عبرت پکڑ لیں اور سوچیں کہ وہ ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ایک دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بن گیا اور دوسرے کی گارمنٹس یورپی ممالک کی مارکیٹس میں فروخت ہونے لگی ہیں۔
عوامی زیادتیاں اور مظالم ان ممالک میں بھی ہوں گے لیکن بطور ریاست ان کے کردار کو دیکھیں کہ وہ کیسا ہے۔ ایک ریاست کے اندر عوام اور اداروں کو جوڑ کر رکھنا کامیابی کی ابتداء ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ سمت کا سفر جاری ہے۔ ہمارے ہاں سب سے پہلے مذہبی بنیادوں پر پاکستانیوں کو توڑنے اور بکھیرنے کی جو ابتداء ہوئی تھی، اس کی انتہا سیاست سے ہوتی ہوئی اداروں تک جا پہنچی ہے۔ ہم خیالوں کو کلیدی پوسٹوں تک پہنچانے کا جو مقابلہ مذہبی و سیاسی طبقوں کے مابین جاری ہے اسی کے نتیجہ میں اب اختلافات اور باہمی نفرت کی لہر نے سب کو کو جکڑ لیا ہوا ہے۔
نفرت اور نا انصافیوں کے اندھیرے میں گھری عوام کو کہیں روشنی کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی یہ ”نفرت“ آگ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، تاریخ یہی بتاتی ہے۔ عوام کے درد کو نظر انداز کرنا معمولی غلطی نہیں، ان کے دکھ درد کو مٹی کی ٹوکری میں پھینکنے کی قیمت کبھی نہ کبھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کو شاید مکافات عمل بھی کہتے ہیں۔
لوگ سو جائیں تو رکتا نہیں باتوں کا سفر۔ رات ہو جائے تو آپس میں مکاں بولتے ہیں
بلوچستان میں بارکھان کے علاقے میں ایک وڈیرے کی نجی قید میں تین شہریوں کی لرزہ خیز قتل اور کنویں سے نعشوں کی برآمدگی کی بازگشت پورے پاکستان میں گونج رہی ہے۔ امراء کے قومی کھیل ”الیکشن الیکشن“ کے لئے سوموٹو ایکشن ہو گیا لیکن تین پاکستانی شہریوں کے لئے کسی کی آئینی غیرت جاگی نہ کوئی طاقت حرکت میں آئی۔ جنگل کا قانون ایک محاورہ کے طور پر بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی عملی تصویر موجود ہے جہاں طاقتور خونخوار درندے، بھیڑیے کمزور جانوروں کو کھا کر زندہ رہتے ہیں بلکہ حکمرانی بھی کرتے ہیں۔
قومی اخبارات گواہ ہیں کہ ایسے کیسوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہوگی جس میں طاقتور کمزور پاکستانیوں کو کیڑے مکوڑے کی طرح مار کر پھر بھی باعزت قرار پائے۔ ساغر صدیقی نے کہا تھا کہ ”پاگل ہے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہے“ ۔ حقیقت میں پاگل تو وہ ہے جو یہاں عدل کو ڈھونڈتا ہے۔ پاکستان معاشی دلدل میں تو اب دھنسا اور پھنسا ہے لیکن اس سے کہیں پہلے ”نا انصافی“ کے دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ عدل کو دفن کیا ہوا تھا جس کے اثرات معاشی بحران کی شکل میں سامنے آ یا ہے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ عدل کی بنیاد دو چیزوں پر استوار ہوتی ہے۔ ایک لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن برقرار رکھنا اور دوسرا ہر ایک کو اس کا حق صحیح طریقے سے دینا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس کی بالکل نفی ہو رہی ہے۔ پڑوس کے ملک میں ایک سیاست دان اور معروف کھلاڑی و سیاست دان نوجوت سنگھ سد ہو ایک تین دہائی پرانے مقدمہ میں دوبارہ اپیل پر ایک سال بامشقت سزا کاٹ رہا ہے۔ ہمارے ہاں ایسی کوئی ایک مثال موجود ہے؟ اول تو پکڑے ہی نہیں جاتے، اگر عوامی دباؤ میں پکڑے بھی جائیں تو بیمار ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ کر وی آئی پی پروٹوکول لے لیتے ہیں۔ ملکی سیاسی اور سماجی صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس کو دیکھتے ہوئے نا انصافی کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کرنا ہو گا جو ہر ادارے نے سجا رکھے ہیں۔


