بلوچستان واقعہ میں نوجوان لڑکی سمیت تین مقتولین کون ہیں؟

دو روز قبل بلوچستان کے علاقے بارکھان میں کنویں سے ایک نوجوان لڑکی سمیت دو بچوں کی نعشیں برآمد ہوئیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر شور اور مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا، تو دوسری جانب کوئٹہ کے ریڈ زون میں مری قبائل کے لوگ بھی سراپا احتجاج ہوئے
واقعے کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عبدالرحمن کھیتران کو پولیس نے گرفتار کر کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے دس روزہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا
مری قبائل کے احتجاج میں شامل خان محمد مری کا الزام تھا کے مقتولہ خاتون سمیت مقتولین دو بچے محمد نواز اور عبدالقادر ان کے بیٹے ہیں انہوں نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا اس کے اہل خانہ کے افراد ملزم صوبائی وزیر عبدالرحمن کے نجی جیل میں قید ہیں جبکہ پولیس نے مدعی کی اہلیہ اور بچوں کو بازیاب کرنے کا دعویٰ کیا اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کردی گئی یہ بات تو بلاشبہ خان محمد مری کے لیہ خوشی کا باعث بنی ہوگی پر سوالیہ نشان بھی بنی جب پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مری خاندان کے زندہ ظاہر ہونے کے بعد معلوم ہوا کے مقتولہ اہلیہ خان محمد مری کی نعش نہیں بلکہ 17 سے 18 سالہ نوجوان لڑکی کی ہے اور اسے بے دردی سے قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے، اس لڑکی کے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکنے کے ساتھ سر میں تین گولیاں مارنے سمیت لڑکی کا ریپ ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے
ساری صورتحال کے پیش نظر دیکھا جائے تو ملک میں ایسے واقعات سمیت ملیر کے ناظم جوکھیو، میہڑ کی ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ کے تہرے قتل خیبر پختون خواہ میں قبائلی بلوچستان و سندھ میں سرداری نظام سمیت پنجاب میں مخدوم چودھری، اعوان، جٹ، راجپوت سمیت زمینداروں اور جاگیرداروں نے ملک میں بسنے والے نچلے طبقے اور ان کے ہاں ملازمت کرنے والے ملازمین کے ساتھ غلامانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے زمینوں پر قبضے زرعی پانی کی ترسیل قبائلی جھگڑے و خونریزی ہوں یا پولیس تعلیم صحت ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کے ٹھیکے کسی کی گرفتاری پر اثر انداز ہونا ہو یا کسی بھی مقدمات میں کوئی آزاد کروانا ہو۔
ملک کے چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر متعدد علاقوں میں ان تمام گنے چنے با اثر افراد کا سکہ چلتا ہے اور حیرانی کی بات یہ بھی تو ہے کے اس ملک کا بلدیاتی نظام سے لے کر صوبائی و قومی اسمبلی کی سیاست بھی انہیں شامل وڈیروں جاگیرداروں چودھریوں کے شامل ہونے سے چلتی ہیں۔ کسی بھی صوبائی و قومی جماعت پر نظر پھیلائی جائے تو ہر جماعت کے اندر ان کے سوائے جیسے ملک رک جائے انتخابات میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اور وہی لوگ جب نمائندوں کی صورت میں اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی کرتے ہیں، تو کیا ممکن ہے کے خود کا احتساب ہونے والا نظام چاہیں گے؟ اور پولیس احتساب کے ادارے یا کسی بھی متعلقہ محکموں کو مضبوط بنائیں گے؟
ملیر کے ناظم جوکھیو ہوں یا ام رباب چانڈیو کا مقدمہ آپ دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کے کس طرح جگہ جگہ پولیس نے پراسیکیوشن (استغاثہ) اور تفتیش میں خامیاں اور جھول چھوڑے جاتے ہیں تاکہ ان با اثر جاگیرداروں اور وڈیروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اس بات کی گواہی تو یہ بھی ہے کہ سکھر کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس صلاح دین پنہور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کے جاگیرداروں کو سزائیں دی جائیں تو امن امان بحال ہو جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کے کیا واقعہ بارکھان کے ملوث با اثر ان کو سزائیں مل سکتی ہیں یا دیگر مقدمات کی طرح اس کیس میں بھی ملزمان کو عدالتوں سے پہلے ضمانت اور پھر آزاد کروانے کے لیہ پولیس چالان پیش کرے گی یا پولیس تفتیش کرے گی کے ملنے والی نعشیں کس کی ہیں اور ان کا قاتل کون ہے، کیا ان مقتولین کے نشانات بھی عبدالرحمن کھیتران کی طرف جاتے ہیں؟
کیا پولیس روایتی طور پر دیر کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ملزمان کو سزا میں تاخیر اور تفتیش میں کلین چٹ دے گی یا یہ کہہ کر عدالت سے آزاد کروایا جائے گا کہ ان مقتولین کے قتل کا تعلق کھیتران خاندان سے نہیں؟

