مبالغہ آرائی


فحش ناول لکھنے والے یا نیلی فلموں کے سکرپٹ رائٹرز عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح کی جنسی محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے اس احساس کمتری کا بدلہ وہ پورن میں مبالغہ آرائی کر کے لیتے ہیں۔ پورن میں مستقل اور بارہا دکھائے جانے والے زیادہ تر مناظر وہ ہوتے ہیں جن کا حقیقی جنسی عمل سے کوئی واسطہ نہیں مگر بار بار دکھائے جانے کے باعث عوام کے ذہنوں پر ان کا اثر ایسا پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ اسے حقیقت سمجھتے ہیں اور اپنی جنسی زندگی کے ساتھ اصلی زندگی کی بھی بیخ نکال دیتے ہیں۔

وہ اپنے جنسی ساتھی سے پورن میں دکھائی جانے والی غیر حقیقی پرفارمنس اور جذبات کی امیدیں پوری نہ ہونے پر شدید مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنا یا اپنے ساتھی کا بڑا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ نے بالکل درست کہا تھا کہ جن جذبات کو اظہار کے مناسب مواقع میسر نہ آئیں تو وہ بعد ازاں نہایت بھونڈے طریقے سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ فحش نگار بھی جنسی آسودگی سے محروم لوگ ہوتے ہیں۔ اپنی کوتاہ ہمتی اور جنسی کج رویوں کا ازالہ وہ فحش نگاری میں مریضانہ خیال آرائی سے کرتے ہیں۔

انسانی نفسیات کے ماہرین کے مطابق انسان کی تحریر و تقریر میں اس کا شعور و لاشعور جھلک مارتا ہے۔ اس کی حرکات و سکنات اور فیصلوں میں بھی اس کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔ نو دولتیوں کی اصطلاح آپ نے اکثر سنی ہوگی۔ یہ ایسے لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے جنہوں نے کئی نسلوں تک ماڑے دن دیکھے ہوں اور یک لخت ان کا کوئی جگاڑ انہیں تونگری کی نگری میں پہنچا دے لیکن تب بھی وہ اپنی نیچ حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ ابھی کل کا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ اسلام آباد کے ایلیٹ سیکٹر ایف سکس میں ایک لونڈے نے فٹ پاتھ پر بیٹھے موچی سے خوب اچھی طرح جوتا پالش کرایا اور تھوڑی بہت کانٹ چھانٹ بھی۔

موچی نے پچاس روپے معاوضہ مانگا جس پر لونڈا بحث کرنے لگا اور کافی ردوکد اور تلخی کے بعد تیس روپے دے اور چار کروڑ کی کروزر میں بیٹھ کر زور سے دروازہ بند کر کے غصہ ایکسلیریٹر پر اتارا۔ یہ وہ غبار ہے جو فرائیڈ کے بقول بچپن سے جوانی تک اس لونڈے کی زندگی میں موجود بے چینی اور خلفشار کا غماز ہے۔ وہ غیر شادی شدہ لڑکیاں جو کسی بھی وجہ سے شادی نہیں کر پاتیں اور بیٹھی رہ جاتی ہیں آپ ان کی اکثریت کو بعد از تیس مرد دشمن پائیں گے۔

آپ نے اکثر سوشل میڈیا پر ایسی مریض عورتوں کی قے جو وہ نفسیاتی مریض مردوں کی آڑ میں ہر ایک مرد پر کرتی پھرتی ہیں اور ”آل مین آر ٹریش“ جیسے ٹویٹ کرتی ہیں ضرور دیکھی ہوگی۔ یہ دراصل ان کی جنسی محرومی کا اعلان ہوتا ہے۔ اس نفسیاتی بیماری کو اینڈرو فوبیا کہا جاتا ہے۔ یہ بات مردوں پر بھی صادر آتی ہے۔ کسی ادھیڑ عمر یا بوڑھے کنوارے سے عورت ذات کے متعلق گفتگو کر کے دیکھ لیجیے۔ زہر اگلے گا۔ اسے گائنو فوبیا کہتے ہیں۔

تو بات ساری یہ ہے کہ احساس محرومی، احساس کمتری، احساس برتری، کج روی یا ایسا کوئی بھی نفسیاتی عارضہ مبالغہ آرائی کو جنم دیتا ہے۔ یہ مبالغہ آرائی ڈر پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے مثلاً قدیم یونان میں سوفوکلیس کے ایک شاگرد نے ایک ایسی دستاویز کا کھوج لگایا تھا جو ایک بوڑھا اپنے ماتحتوں کو دھمکانے اور اپنا غلام رکھنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ اس میں ایک ایسے فرضی بادشاہ کا ذکر کیا گیا تھا جس کا ایتھنز کی سلطنت میں تو کوئی وجود نہ تھا مگر بوڑھے انہیں یقین دلایا تھا کہ یہاں سے ہزاروں میل دور فلاں پہاڑوں کے دامن میں اس کی عظیم الشان سلطنت ہے۔

بوڑھا خود کو اس کا نمائندہ ڈکلیئر کرتا تھا۔ اس نے کمال ہوشیاری سے اپنے ارادت مندوں کے دماغوں میں یہ رانگ نمبر ٹھونس رکھا تھا۔ اس میں لکھی سزائیں نہایت غیر انسانی تھیں جنہیں سن کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے۔ مثلاً مردوں اور عورتوں کو آگ کے کنوؤں میں جنسی اعضا کے بل الٹا لٹکا دینا اور پھر انہیں سیخوں پر پرو کر دھیرے دھیرے بھوننا مگر اس بات کا خیال کرنا کہ اس عمل کے دوران ان کی جان نہ نکلے تاکہ انتہائی ایذا کوشی کی جا سکے۔

دستاویز کا دوسرا حصہ ان انعامات کے متعلق تھا جو اس بادشاہ کی جانب سے بوڑھے کی اطاعت کرنے پر ان غلاموں کو دیے جانے تھے۔ ان میں طویل زندگی، مثالی دنیا، طلسماتی اور غیر حقیقی آسائشیں، بے پناہ قوت رجولیت اور ہمہ وقت جنسی تشنہ دہن عورتیں جو اس سلطنت میں ان کی راہیں تکتی ہیں۔ کئی کئی سو فرسخ پر مشتمل زمرد کے محلات جن کی دہلیز پر شیر و عسل کی نہریں ہیں جن میں وہ ڈبکیاں لگائیں گے۔ دارو کے حوض ان کے حماموں میں جن میں سے تیر فگن مژگان معشوق پیالے پر پیالہ پلائیں گے۔

یہ دستاویز قدیم یونان میں ایک مدت تک زیر بحث رہی اور قدیم یونانی تحاریر میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔

Facebook Comments HS