اقلیتی بنیاد پر بچیوں کا مذہب تبدیل کیا جاتا ہے
’رات کا وقت تھا، ہم اپنے گھر میں ہی موجود تھے کہ اچانک کچھ مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور اسلحہ کی زور پر میری کم سن بیٹی کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ ‘
یہ کہنا تھا سندھ کے شہر نؤں کوٹ کے رمیش بھیل کا جو کہ پیشے کے لحاظ سے ٹرک ڈرائیور ہیں۔
رمیش بھیل نے 18 فروری کو پیش آنے والے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلحہ سے لیس تین لوگ آدھی رات کو ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور زبردستی میری نوعمر بیٹی رمشا بھیل کو اغوا کر کے لے گئے اور بعد ازاں اس کا جبری مذہب تبدیل کر کے نوعمری میں شادی کردی۔‘
رمیش بھیل نے کہا کہ اغوا کرنے والے لوگ با اثر ہیں جس کی وجہ سے نہ پولیس کارروائی کرتی ہے اور نہ ہی مقامی با اثر لوگ ملزمان پر بچی واپس کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیوں کہ ہم مذہبی طور پر اقلیت میں ہیں اور یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے اسی طرح کے سیکڑوں واقعات ہو چکے ہیں جس میں ہماری کمیونٹی کی بچیوں کو اغوا کر کے ان کا جبری مذہب تبدیل کیا جاتا ہے۔ ’مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکی رمشا کے والد رمیش بھیل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم متعلقہ پولیس اسٹیشن گئے تو وہاں کہاں گیا کہ صبر کریں لڑکی واپس آ جائے گی لیکن اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی کوئی پتا نہیں ہے کہ لڑکی کس کے پاس ہے اور کس حال میں ہے۔
رمیش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی کم سن بچی کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے کیونکہ کہ تعلیمی دستاویزات میں بچی کی عمر 17 برس ہے جبکہ مبینہ اغوا کار سے شادی کے لیے بنائے گئے نکاح نامہ میں اس کی عمر 19 سال بتائی گئی ہے جو کہ واضح طور پر نا انصافی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت کے قوانین کے مطابق لڑکے اور لڑکی کی شادی کے لیے کم کی حد کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔
پاکستان دراوڑو اتحاد کے چیئرمین اور انسانی حقوق کے کارکن فقیر شوا کچھی کا کہنا ہے کہ ہندو برادری کے ساتھ اس وقت تک جبری مذہب تبدیلی اور اغوا کے کم از کم 500 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں جس کی وجہ سے بالخصوص سندھ سے ہندو کمیونٹی ہجرت کر کے بھارت جانے پر مجبور ہے۔
شوا کچھی نے کہا کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس اہم مسئلہ پر توجہ دیتے ہیں اور اگر کوئی کم سن بچی اغوا ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے پسند کی شادی کرلی ہے، لیکن اس کو کم عمری میں کسی دوسرے مذہب کا کوئی علم ہی نہیں تو کس طرح اس کا مذہب تبدیل کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں با الخصوص مسیحی اور ہندو کمیونٹی کے ساتھ اکثر جبری مذہب تبدیلی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی پاکستان پر دباؤ رہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے، حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں اور اکثر جبری مذہب تبدیلی، اغوا سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے اقلیتی برادریوں میں خوف پایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور جبری مذہب تبدیلی جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل مارچ 2022 میں 18 سالہ ہندو لڑکی پوجا کماری کو سندھ کے سکھر ضلع میں اغوا، جبری شادی اور مذہب کی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔ چھ ماہ بعد ستمبر 2022 میں 14 سالہ لڑکی چندا مہاراج کو اغوا کر کے ریپ کیا گیا اور اسلام قبول کرا لیا گیا جس کے بعد عدالت کی مداخلت پر مقدمہ درج کیا گیا۔
بعد ازاں پولیس نے اسے بازیاب کرایا اور اس کی عمر کا تعین کرنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کروایا گیا جس میں وہ نابالغ پائی گئی اور اسے دارالامان بھیج دیا گیا۔
دسمبر 2022 میں سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں لالو کچھی نامی ایک ہندو شخص نے جب اپنی بہن لالی کے اغوا کاروں کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ہجوم نے مارا پیٹا اور بعد میں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسا۔


