جمہوریت کا سفر اور پاکستان
اٹھارہویں صدی کی ابتدا میں برطانوی پارلیمنٹ، پاکستانی پارلیمنٹ کی طرح جاگیرداروں کے زیر اثر تھی۔ حق رائے دہی صرف 3 فیصد افراد کو حاصل تھا۔ مزدور، کسان اور نچلے طبقے کے افراد کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا تھا۔ انگلینڈ کے صنعتی شہروں مانچسٹر، لیڈز، شفلیڈ، اور بریڈ فورڈ کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ ووٹوں کی خرید و فروخت عام تھی بلکہ دھاندلی دھونس کے تمام حربے استعمال کیے جاتے تھے۔
لیکن صنعتی دور کے آغاز کے بعد جو تبدیلی آئی دیہاتوں اور شہروں کی آبادی کے تناسب میں فرق پڑ گیا۔ کسان جاگیر داروں کی چنگل سے نکل کر صنعتی مزدور بن گیا تھا جہاں کسی حد تک وہ اپنی مرضی کا ملک تھا جس کی وجہ سے اس نئے طبقے کی طرف سے پارلیمان میں اپنی نمائندگی کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
بالآخر 1830 میں محنت کش اور نچلے طبقات کی نمائندگی کا بل منظور ہونا شروع ہوئے لیکن پھر بھی 1836 تک محنت کشوں کو ووٹ کا حق نہیں ملا تھا۔ ان لوگوں کے جدوجہد کی وجہ سے ایک سو سال کے بعد پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کا تناسب بدل گیا۔ 1832 میں انگلینڈ کے صنعتی شہروں مانچسٹر، برمنگھم، اور بریڈ فورڈ کو پہلی دفعہ نمائندگی ملی، پہر یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ 1884 ایکٹ کے تحت یہ نمائندگی 20 فیصد سے 60 فیصد ہو گئی تھی۔ بڑی تبدیلی 1918 کی اصلاحات کی وجہ سے ووٹ دینے والوں کی تعداد 80 لاکھ سے دو کروڑ تک پہنچ گئی۔ 1918 ایکٹ کے تحت خواتین کو بھی حق رائے دہی کا جزوی حق ملا تھا۔ بتائے جا نے کا مقصد یہ ہے کہ برطانیہ کے جمہوریت کے استحکام مرحلہ وار حس اور یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھی۔
ہندوستان اور پاکستان میں یہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہ یوں کے مغلوں کے دور تک جمہوریت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ انگریز جہاں بہت سے اصلاحات لائے وہاں اپنی جمہوری نظام بھی لے کر آئے یعنی انگریزوں کا پکا پکایا پھل ہماری جھولی میں آن گرا. یہاں کے لوگوں کو ان مراحل سے نہیں گزرنا پڑا جن سے انگریز گزر چکے تھے. دوسری طرف صنعتی مزدوروں کا طبقہ جو جمہوریت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے بر صغیر میں نہ ہونے کے برابر تھا جس کی وجہ سے نہ لوگوں سیاسی شعور پیدا ہوا اور نہ ہی سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت پنپ سکی۔
بھارت میں یہ جمہوریت پھر بھی کسی نہ کسی طرح اچھی یا بری صورت میں موجود رہی مگر پاکستان میں مسلسل مارشل لا نے جمہوریت کو کبھی قدم جمانے نہیں دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کے لوگ سیاسی پارٹیوں کے منشور اور کارگردگی سے زیادہ کسی مسیحا کا انتظار میں رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں وہ مسیحا اکر ان کے اور ملک کے تمام مسائل کا حل نکال دے گا حالانکہ تاریخ گواہ ہے قومیں خود اپنی تقدیر بناتی ہیں اور وہ کسی مسیحا کا انتظار نہیں کرتیں. ہماری موجودہ سیاسی حالات دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جہاں سیاسی پارٹی کم اور لیڈر زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔


