جاوید اختر اور بارڈر کے دونوں جانب متعصب اشرافیہ کے خلاف مزاحمت


جاوید اختر عرصے سے ہندستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی سیاسی ہندوازم ( ہندتوا) کی پالیسی کی کھلم کھلا ہر سٹیج سے مخالفت کرتے آئے ہیں۔ یہ ان کا پرنسیپلڈ سٹینڈ رہا ہے کہ مذہب کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہیے، چاہے کوی بھی مذہب ہو، اور وہ سیاست میں بھارتی آئین پر عمل داری پر اصرار کرتے ہیں جس کی بنیاد سیکولرازم پر ہے اور جو ریاست اور شہری، اور شہری اور شہری کے درمیان مذہب کے بجائے سوشل کانٹریکٹ کے رشتہ پر قائم ہے۔

جاوید صاحب ہندوستان کے اپنے جیسے بہت سارے سیکولر، ڈیموکریٹک، پروگریسو و سوشلسٹ ہندستانیوں کی طرح ترقی پسندی، سماجی عدل و سیاسی برابری کی تحریک کا حصہ ہیں۔ یہ سول سوسائٹی بی جے پی حکومت کی ہندوستانی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین بنانے کی نڈر انداز میں مخالفت کرتے آئی ہے۔

‎پاکستانی مین سٹریم ادیبوں و پبلک دانشوروں میں، چند مستثنیات کو چھوڑ کر، ایسے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں جو پبلک سٹیج پر ریاستی اداروں کی ہندوستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے اقدامات اور ان کی سرپرستی میں پبلک لائف میں زبردستی سیاسی اسلام گھسیڑنے اور سماج میں مذہبی تعصبات پھیلانے مخالفت کی ہمت کرتے ہوں۔

‎بمبئی حملہ، کشمیر میں دہائیوں سے جاری پاکستانی ریاستی پشت پناہی سے جاری دراندازی، سکھ علیحدگی پسندی کی تحریک کی مدد، داؤد ابراہیم کا معاملہ، واجپائی کے 1999 میں مینار پاکستان وزٹ اور لاہور ڈیکلریشن کے بعد یک طرفہ طور پر کارگل پر فوجی حملہ صرف کچھ مثالیں ہیں جن میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ براہ راست ملوث رہی ہے۔

‎کیا کسی مین سٹریم پاکستانی ادیب، دانشور یا سیاسی پارٹی نے یہ جرآت کی کہ ایسے کسی کردار کا نام پبلک فورم پر لے کر اس کے ان اقدامات کی مخالفت کرے اور کہے
” Not in our name“ .

صوبہ ‎سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور یہ خود کو لیفٹ لبرل کہتی ہے۔ سندھ میں دہائیوں سے ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکوں سے شادی کے نام پر زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے، اسی پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناک کے تلے۔ کیا اس نے اس مذہبی جبر کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش کی؟

‎پاکستان کے اکثریتی پڑھے لکھے افراد کی بھی اکثریت کو ہندوستان میں پچھلے دس پندرہ سال سے جاری نہایت زوردار ہندوتوا تحریک کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے جس نے 2014 کے مرکزی الیکشن جیتنے کے بعد سے ہندستان کی پروگریسو اور سیکولر میراث کو وجودی کا خطرہ میں ڈال دیا ہے، اور جو سماج کو ون پارٹی سرمایہ دارانہ مذہبی فاشزم اور زینوفوبیا کی طرف تیزی سے لے جا رہی ہے۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں کہ اس ہندتوا کے بڑھنے میں پاکستانی ریاست نے ہر موقع پر آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔

یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے جس میں ایک قلیل پاکستانی اشرافیہ پرت نے یہاں پاکستان میں اپنی بالادستی و عیاشی کے نظام کو قائم رکھنے کے لئے بیرونی دشمن کا ہوا کھڑا کیا، ہندو نفرت کا پروپیگنڈہ قائم رکھا ہے اور ہندوستان کے غریب مسلمانوں کو پہلے دن سے لے کر آج تک آنے والے ہر لیڈر، ہر شکل کی وردی، بے وردی نوکرشاہی اور سرمایہ دار پارٹیوں کے گٹھ جوڑ پر حکمران جتھے نے اپنے مفاد کے لیے مسلسل قربانی کا بکرا بنائے رکھا۔

آئی ایس پی آر و ہر آرمی چیف کے بیانات، سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہندوؤں کے خلاف پبلک میں ہرزہ سرائی، پاکستانی سکول سلیبس کیا کتابوں میں سرکار کی طرف سے ڈالی ہندو نفرت، سرکاری چینلز پر ہندو کے خلاف تعصب پیدا کرنے والے، سندھ میں ہندو اقلیت پر جبر کے آئے دن واقعات، پنجاب میں عیسائیوں و احمدیوں کے خلاف ایسے ہی واقعات، مولویوں اور مذہبی انتہاپسند تنظیموں کی ریاستی پشت پناہی میں ہندو اور ہندوستان مخالف اشتعال انگریز تقاریر و رسائل و اخبارات میں تحریریں، اسلام آباد کی مین شاہراہ کا نام بدل کر سری نگر ہائی وے رکھنا، الیکشن کمین میں سٹریم سیاسی لیڈروں کی الیکشن تقریروں میں لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے دعوے۔ کتنی مثالیں دیں جن میں یہ مفاد پرست اشرافیہ اپنے طبقاتی و اداراتی مفادات کے لئے ایسے اقدام لیتے ہیں جن کا لازمی نتیجہ ہندوستانی سماج میں وہاں کے مسلمانوں کی شہریت پر سوالیہ نشان پیدا کرتے ہے اور ہندستان کے ہندو شدت پسندوں کو تقویت دیتے ہیں۔

پر جب پاکستان کی اس متعصب و قبضہ گیر اشرافیہ کو اپنے عوام کی حالت زار کی رتی بھر فکر نہیں اور اس کی ساری حاکمیت و عیاشی تو اپنی نچلے طبقے کو غلام رکھن، سماج میں فرقہ وارانہ گینگز تیار کر کے عوام میں کشت و خون کروانے پر قائم ہے، تو اسے ہندوستان کے مسلمان کے مستقبل کی کیا فکر۔

‎اس صورتحال میں یہاں کے اکثریتی مین سٹریم مڈل و اپر کلاسیے جعلی لبرلز میں اتنی کمر کی ہڈی تو نہیں کہ اپنے سماج میں ریاستی پشت پناہی سے پھیلائی مذہبی نفرت کے ناسور کے خلاف اس کے سپانسر کا نام لے کر مخالفت کریں۔ اور ہمسایہ ممالک کے خلاف بھی جعلی حب الوطنی کے پردے تلے ڈائریکٹ اور سماج میں بنائی پراکسی تنظیموں کے ذریعہ پھیلائی جانے والی نفرت کی کھل کر مخالفت کریں۔ یہ تو اتنے جوگے نہیں کہ انگریز سے دیش کی آزادی کی تحریک کے لازوال سپوت اور اسی مٹی کے جنمی شہید بھگت سنگھ کو لاہور کی جس جیل میں پھانسی ملی، اس جیل سے متصل روڈ کو اس کے نام دے سکیں۔

‎تو میری خیال میں ایسے حال میں میڈیا سے مال بنانے والے جعلی پاکستانی لبرلز کے پاس جاوید اختر صاحب کے فیض امن میلہ میں ایک سوال کے جواب میں بمبئی حملہ پر کچھ شکایت نما کمنٹ پر جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ہو، ہا کرنے کا کوئی ہائی مورل گراؤنڈ نہیں ہے۔

میں پچھلے 2 سال سے گہرائی سے بھارتی سیاست کو دیکھ رہا ہوں۔ وہاں کی جاندار سول سوسائٹی مذکورہ فاشزم کے خلاف بڑی دلیری سے مزاحمت کر رہی ہے، اس میں وکیل بھی ہیں، ٹریڈ یونینسٹ اور آدھی واسییوں کے اپنی تاریخی زمین پر حقوق کو بچانے والی ’سدھا بھاردواج‘ بھی ہے جسے ریاست نے غداری کا الزام لگا کر بغیر کسی پیشی 3 سال تک جیل میں رکھا، لیفٹ لبرل، سوشلسٹ، کمیونسٹ سیاسی پارٹیاں بھی ہیں، کمیونسٹ سٹوڈنٹ یونینز بھی ہیں، سیکولرسٹ، سوشلسٹ اور دستور پسند سیاست دان بھی ہیں جیسے ششی تھرور، جگنیش میوانی، کنہیہ کمار، یوگندر یادیو، تاریخ اور پولیٹیکل سائنس سے وابستہ اکیڈمک جیسے ڈاکٹر عرفان حبیب، ڈاکٹر رومیلا تھاپڑ، رام چندر گوہا، پرتاب بھانو مہتا بھی ہیں جن میں سے کئی نے مسلم مخالف قانون کے نفاز پر گرفتاری تک دی، فلم ایکٹرز سوارا بھاسکر، سشانت سنگھ، پراکاش راج بھی ہیں جنہوں نے اپنے فلمی کیریر کو داؤ پر لگایا پر میدان سے پیچھے نہیں ہٹے، ورون گرور جیسے مصنف و شاعر بھی، راویش کمار، محترمہ رعنا ایوب، ’دی وائر‘ چینل کی عارفہ خانم شیروانی، ’ستیا ہندی‘ چینل کے اشوتوش گپتا اور ان کی پوری ٹیم جن سب نے طرح طرح کی ہراسانی کے باوجود میدان نہیں چھوڑا، ”دیش بھگت“ چینل والے اکاش بینرجی جیسے صحافی بھی، سٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرہ، آ کر پٹیل جیسے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ہویمن رائیٹس ایکٹوسٹس بھی جنہوں نے اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریڈ کی ریڈز بھی سہی اور ملک سے باہر جانے پر پابندی بھی۔

یہ پچھلے 8 سال میں ہندتوا کی حکومتی طاقت اور اس کے ’سنگھ پریوار‘ کے ’سٹارم ٹروپرز‘ کی دھمکیوں، حملوں، غداری کے الزامات و مقدمات، جیلیں، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی ریڈز اور اکثریتی میڈیا کے فاشزم کے سپورٹ اور پاکستانی فوج، مین سٹریم سیاسی لیڈران اور مذہبی فوجی پراکسیوں کے ہندو مخالف نعروں اور ہندوتوا کی آگ کو ہوا فراہم کرنے کے باوجود، بھرپور مزاحمت دے رہے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال میں اصلی لبرلز کا، انقلابی لیفٹ کا، محنت کش طبقہ، مرکز کے جبر کا شکار چھوٹی قوموں کی قوم دوست تحریکوں کا اولین ٹاسک یہ ہے کہ اشرافیہ کی نفرت انگیزی و تعصبانہ جعلی حًب الوطنی کا پردہ چاک کریں، اس کی کرپشن، وسائل و طاقت پر قبضہ اور سرمایہ دارانہ استحصال و جبر کے خلاف مزاحمت دے کر عوامی جمہوریت اور سماجی انصاف پر مبنی نظام قائم کریں۔

ہندستان کے ترقی پسند، چاہے وہ مذہبی لحاظ سے مسلم، ہندو، و سیکولر و ایگنوسٹک ہوں، اپنے سماج میں مذہبی انتہاپسندی اور ریاستی جبر و مطلق العنانیت فاشزم کے خلاف نہایت دلیری سے ایک بڑی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دونوں دیشوں کے ترقی پسندوں کو اپنے اپنے حکمران طبقات کے خلاف یہ لڑائی علیحدہ علیحدہ بھی لڑنی ہے اور اپنی طاقتوں کو مجتمع کر کے مشترکہ بھی، جیسے جاوید اختر جیسے نڈر لوگ کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS