کیا آپ مشرقی مردوں کی جنسی نفسیات سے واقف ہیں؟


رضوانہ شیخ کا سوال

’ہم سب‘ پر میرا کالم ’آپ نے محبت کی قوس قزح کے کتنے رنگ دیکھے ہیں‘ چھپا تو بہت سے قارئین نے میری رومانوی نفسیات کی کتاب منگوائی اور مجھے بہت سے کمنٹ اور سوال بھیجے۔ کمنٹ کرنے والوں اور سوال پوچھنے والیوں میں ایک رضوانہ شیخ تھیں جو میری ادبی دوست بھی ہیں اور ’ہم سب‘ کی ایک ذہین اور انسانی اور نسوانی حقوق کی پاسدار کالم نگار بھی۔ انہوں نے اپنے کمنٹ میں مجھے اس موضوع پر ایک اور کالم لکھنے کی دعوت دی۔ فرماتی ہیں

’ڈاکٹر صاحب، ہمارے معاشرے کے مردوں کی کم ظرفی یہ ہے کہ وہ شادی کے بغیر جنسی عمل کو اپنے لئے تو جائز سمجھتا ہے مگر عورت کے لئے نہیں۔ وہ جس عورت سے تعلق قائم کرتا ہے، بعد میں اسے بدکار اور فاحشہ کہہ کر مسترد کر دیتا ہے۔ اس معاملے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میرے خیال میں یہ سوال ایک الگ کالم کا متقاضی ہے۔

دوسری بات، طوائف کے پاس جانے کے لئے ہر مرد تیار ہو گا لیکن اگر کہا جائے کہ وہ اس طوائف سے شادی کر لے تو وہاں اس کی مردانگی جواب دے جائے گی۔ ایسی صورت میں عورت کیسے شادی کے بغیر جنسی عمل انجام دے؟ کیونکہ ہر مرد اپنے لئے پاکیزہ اور باکرہ بیوی چاہتا ہے۔ ممکن ہے میرے سوالات زیر نظر موضوع سے مختلف محسوس ہوں۔ اس پر معذرت ’

ڈاکٹر سہیل کا جواب
۔ ۔
رضوانہ شیخ صاحبہ!

یہ میرے کالموں کی خوش قسمتی ہے کہ اسے آپ ذوق و شوق سے پڑھتی بھی ہیں کمنٹ بھی کرتی ہیں اور سوال بھی پوچھتی ہیں۔

آپ نے جن مشرقی مردوں کی جنسی نفسیات کے بارے میں میری رائے مانگی ہے ان کے بارے میں ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ایسے مرد ایک نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں جو

MADONNA / WHORE COMPLEX
کہلاتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔

ایسے مرد جس عورت کا دل سے احترام کرتے ہیں اسے اتنا مقدس اور پاکباز سمجھتے ہیں کہ ان سے رومانوی اور جنسی تعلقات نہیں قائم کر سکتے اور جن عورتوں سے رومانوی و جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں انہیں وہ بدکار و

بد کردار طوائف سمجھتے ہیں۔ یہ کمپلیکس ان کے مزاج کی شدت پسندی اور شخصیت کی انتہا پسندی کا آئینہ دار ہے۔ ایسے مردوں کے لیے عورت سب کچھ ہے انسان نہیں ہے۔ اسی لیے ایسے مردوں کے لیے مرد عورت کا تعلق دو انسانوں کا تعلق نہیں بن پاتا۔ اسی لیے وہ عورت کے دوست یا محبوب یا شریک حیات نہیں بن پاتے۔ ایسے مردوں کو اپنی شخصیت کی کجی کے لیے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے مرد مشرق میں ہی نہیں مغرب میں بھی پائے جاتے ہیں فرق یہ ہے کہ بہت سے مغربی مرد اپنے مسئلے کے حل کے لیے ماہرین نفسیات سے رجوع کرتے ہیں۔

رضوانہ شیخ صاحبہ!

اس موضوع پر میں نے جن مشرقی ادیبوں اور دانشوروں کی تخلیقات پڑھی ہیں ان میں مجھے سوشلسٹ دانشور ڈاکٹر عزیز الحق نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ پچھلے سال میں نے ان کی سماجی کارکن دختر عظمیٰ عزیز کے ساتھ مل کر۔ لاہور کا سقراط۔ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جو اب ایمیزون پر دستیاب ہے۔ اس کتاب میں میں نے عزیز الحق کے مردوں کی نفسیات کے بارے میں دقیق خیالات اور دشوار و پیچیدہ نظریات کا ان عام فہم الفاظ میں تعارف کروایا تھا۔

’عزیزالحق اپنے مقالے‘ مردانگی کی نفسیات اور انقلابی عمل ’میں مردوں کے نفسیاتی اور رومانوی مسائل کی تشخیص بھی کرتے ہیں اور ان کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔ عزیزالحق اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر مشرقی مردوں کے عورتوں سے رشتوں کے حوالے سے دو اہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنا دوست ’اپنا محبوب‘ اپنا شریک سفر اور اپنا شریک حیات سمجھنے کی بجائے اسے اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ ایک مارکسسٹ ہونے کے ناتے ان کا خیال ہے کہ جب سے انسانوں نے ذاتی ملکیت (پرائیویٹ پراپرٹی) کے تصور کو اپنایا ہے بہت سے مردوں نے

میرا گھر
میری کار
میری کشتی
میرا کارخانہ
میری زمین
کے ساتھ ساتھ
میری بیوی
میرے بچے
کا رویہ بھی اپنا لیا ہے۔
کسی بھی انسان کو اپنی ملکیت سمجھنا اس کی تذلیل و توہین کرنا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت سے ایک حقیقت پسندانہ رشتہ استوار کرنے کی بجائے اس سے ایک تصوراتی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ فینٹسی کا رشتہ ہوتا ہے ایک مثالی و خیالی رشتہ ہوتا ہے ایسا رشتہ جب تلخ حقائق سے ٹکراتا ہے تو چکنا چور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے مرد جب شادی کرتے ہیں تو اپنی بیوی سے غیر حقیقت پسندانہ امیدیں رکھتے ہیں اور جلد ہی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔

جب فینٹسی ختم ہو جاتی ہے تو یا تو مرد طلاق دے دیتے ہیں یا بغیر محبت کے شادی پر صبر و شکر کر لیتے ہیں۔ ان کی بیویاں بھی ان ناگفتہ حالات سے سمجھوتا کر لیتی ہیں۔ اس طرح میاں بیوی دو اجنبیوں کی طرح ایک چھت کے نیچے بقیہ زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کے دل اتنے دکھی ہو جاتے ہیں کہ ان کے بستروں پر کیکٹس اگ آتے ہیں۔

ایسے دو طرح کے غیر صحتمند اور منفی رشتوں کے مقابلے میں عزیزالحق ایک صحتمند اور مثبت رشتے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے رشتے میں مرد اپنے ماضی کے وراثت میں ملے نفسیاتی اور سماجی رویوں پر نظر ثانی کرتے ہیں اور شعوری طور پر انقلابی نظریہ اپناتے ہیں۔ ایسے مرد عورتوں سے حقیقت پسندانہ اور دوستانہ رشتہ قائم کرتے ہیں۔ ایسا رشتہ برابری کا ’احترام کا‘ عزت کا رشتہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ انقلاب کی گاڑی کے دو برابر کے پہیے بن جاتے ہیں اور مل کر اپنے معاشرے کو ایسے خطوط پر تشکیل دیتے ہیں جہاں انسانیت عدل انصاف اور ارتقا کے راستوں پر گامزن ہوتی ہے۔ ’

رضوانہ شیخ صاحبہ!

مجھے ایک اور کالم لکھنے کی تحریک دینے کا اور مجھے سوشلسٹ دانشور عزیز الحق کے خیالات و نظریات کو ’جو 1972 میں صرف بتیس برس کی عمر میں قتل کر دیے گئے تھے‘ پاکستانی عوام سے از سر نو متعارف کروانے کا موقع دینے کا شکریہ۔

آپ جیسی ذہین اور صنفی برابری پر ایمان رکھنے والی نوجوان خواتین ہمیں ایک روشن مستقبل کی امید دلاتی ہیں۔

آپ نے ’ہم سب‘ پر میرے ساتھ ایک کتاب لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
اس کالم سے ہم نے مل کر اس کتاب کا پہلا باب تو رقم کر ہی لیا ہے۔
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل
۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail