پاک بھارت جنگی جنون میں امن پسند ادب کی تلاش
پہلگام واقعہ کیا ہوا کہ دو ہفتے بعد مودی سرکار کی طرف سے پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ شروع ہو گیا جس کا پاکستانی افواج کو ’بنیان مرصوص‘ سے جواب دینا ہڑا۔ اس جنگی جنون سے جہاں امن کی کاوشوں کو ریورس گیئر لگا وہیں دونوں ملکوں کے امن پسند عوام کا پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایک بار پھر ادب، فن اور آرٹ کا سرحدوں سے ماورا ہونے پر یقین متزلزل ہو گیا۔ امن کی فاختہ زخمی ہوئی تو واجپائی کی نظم ’جنگ نہ ہونے دیں گے‘ حقیقت کا روپ دھارنے کے بجائے محض شاعر کا ایک خواب نظر آ رہی ہے۔ رہی سہی کسر بھارتی فلم سکرپٹ رائٹر، نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے پوری کر دی، انہیں نجانے کیا سوجھی کہ ایک متنازع بیان داغ دیا جس سے ہمارے ادیب، شاعر اور فنون لطیفہ سے جڑے لوگ سیخ پا ہو گئے، ہماری دوستی، اور بھائی چارے کی خواہش کو ایک بار پھر نظر بد لگ گئی۔
پہلگام ریاست جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کا مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں 22 اپریل کو بھارت کے مختلف علاقوں سے آئے لگ بھگ 26 سیاح دہشتگردی کے ایک واقعہ میں مارے گئے۔ بھارت نے اس واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا جبکہ پاکستان مسلسل کہتا رہا کہ واقعہ کی آزاد تحقیقات کروائی جائیں مگر مودی سرکار نہ مانی اور دو ہفتے بعد 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر حملہ کر دیا۔ 40 کے لگ بھگ شہادتیں ضرور ہوئیں مگر عسکری حوالے سے ہمارا کچھ خاص نہ بگڑا تاہم بھارت کئی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ اپنے 5 طیارے اور ایک اندازے کے مطابق 78 ڈرونز تباہ کروا بیٹھا۔ خفت اور جگ ہنسائی الگ۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ توڑنے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی اپنے ملک کی فضائی حدود پاکستانی پروازوں کے لئے بند کر دیں۔ اگلے روز پاکستان نے بھی جوش جذبات میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی جہازوں کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔
بھارتی حکومت نے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کو جواز بنا کر پاکستانی نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلز پر بھی پابندی لگا دی۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ہاں بھی ہوا۔
بھارتی حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دینے کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نام اس سرخ سندور کا حوالہ ہے جو بہت سی ہندو خواتین اپنی شادی شدہ حیثیت کی نشاندہی کے لئے اپنے بالوں میں لگاتی ہیں۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دوران کئی خواتین نے اپنے شوہروں کو کھو دیا جنہیں ان کے سامنے مار دیا گیا تھا۔ گویا حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دے کر پہلگام واقعہ کے متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانا تھا کہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے گا۔
جواب میں شروع کیے جانے والے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا مطلب سیسہ پلائی دیوار ہے یعنی لڑنے والی پاکستانی افواج اتنی بہادر اور جری ہیں کہ لوہے کی دیوار کی مانند ہیں۔ ان دونوں آپریشنز نے امن کے متوالوں کو بھی چکرا کے رکھ دیا۔ سب سے زیادہ حیران تو جاوید اختر نے کیا۔ یہ پیرانہ سالی ہے یا کیا ہے کہ کہنے لگے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اداکار جب بھارت آتے ہیں تو انہیں یہاں بہت پذیرائی ملتی ہے لیکن جب بھارتی اداکار پاکستان جاتے ہیں تو اُنہیں وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
یہ بیان دینے پر انہیں کچھ پاکستانی آرٹسٹوں نے آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے یہ بیان دے کر کئی امن پسند پاکستانی ادیبوں، شاعروں کی دکھتی رگ کو چھیڑا اور ان کی امن کی تخلیقی کاوشوں کو نقصان پہنچایا۔ اور جب انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے 7 مئی کے اجلاس میں عابد حسین عابد نے پاک بھارت جنگی جنون بارے قرارداد مذمت پیش کی تو جاوید اختر کا نام لے کر انہیں ترقی پسند، امن پسند شاعروں، ادیبوں کی صف ہی سے نکال دیا۔
جاوید اختر کا ایسا ہی رول 2019 میں پلوامہ واقعہ کے موقع پر بھی سامنے آ یا تھا۔ انہیں اپنی اہلیہ شبانہ اعظمی کے ہمراہ 23 اور 24 فروری کو کیفی اعظمی کی یاد میں صد سالہ تقریب میں شرکت کے لئے کراچی پہنچنا تھا مگر پلوامہ واقعہ ہو گیا اور بھارت میں بیٹھ کر بذریعہ ٹویٹ نہ آنے کی اطلاع دیدی۔ منتظمین اور فن و ادب سے وابستہ نہ جانے کتنے پاکستانیوں میں مایوسی پھیل گئی۔ جاوید اختر نے اپنے ٹویٹ میں 1965 کی جنگ کے بارے میں لکھی گئی کیفی اعظمی کی ایک نظم ’اور پھر کرشن نے ارجن سے کہا‘ کا حوالہ بھی دیدیا جس میں شاعر نے کہا تھا کہ ہم امن پسند ضرور ہیں مگر اس صورت حال میں ہمدردیاں اپنے ملک بھارت کے ساتھ ہی ہیں۔
ایسی اکا دکا مثالیں موجود ہیں کہ اچھے بھلے ترقی پسندی کی چھاپ والے تخلیق کار بھی کڑے وقت میں توازن کھو بیٹھتے ہیں، کچھ کی زبان پھسل جاتی ہے تو کچھ تخلیقی کھسک کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سلام ہے ساحر لدھیانوی کو جنہوں نے ”اے شریف انسانو“ جیسی شاہکار نظم لکھ کر جنگ میں امن پسندی کا علم بلند کیا:
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے۔
یہ جنگ یا جنگی ماحول ہی کا اثر تھا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد نوجوت سنگھ سدھو کو مقبول کامیڈی شو ’دی کپل شرما شو‘ میں امن کی بات کرنے پر کاسٹ سے الگ کر دیا گیا۔ وہی نوجوت سنگھ جو سابق وزیر اعظم عمران خان کا دوست ہے اور جسے کرتار پور راہداری کھلوانے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے۔ ان دنوں کچھ میڈیا رپورٹس ایسی بھی آئیں کہ بی جے پی کے ایک رہنما راجہ سنگھ نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ثانیہ مرزا سے ریاست تلنگانہ کی خیر سگالی سفیر کا اعزاز واپس لے لیا جائے۔ وہی ثانیہ مرزا جسے پاکستانی کرکٹر شعیب ملک بھارت سے بیاہ کر لائے تھے بات جب جنگی جنون کی ہو تو بھلا کہاں ٹھہرتی ہے! بھارتی اداکار سلمان خان نے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کو اپنی فلم ’نوٹ بک‘ کے لئے گانے سے روک دیا، فلم انڈسٹری میں پاکستانی اداکاروں، گلوکاروں اور ٹیکنیشنز کے کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی، پاکستانی اداکاروں سے طے شدہ معاہدے ختم کیے گئے اور پلوامہ حملے کے بعد آل انڈیا سینما ورکرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔ اجے دیوگن نے بھی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ٹویٹر پر اعلان کیا کہ ’ٹوٹل دھمال‘ کو پاکستان میں ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان میں بھارتی چینلز بند ہو گئے اور یہاں کے عوام ٹی وی پر بھارتی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے قاصر تھے۔
یہی کچھ بھارت میں بھی ہوا۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر پابندی کی وجہ سے وہاں کے عوام ہمارے مقبول ڈراموں کو دیکھنے سے محروم ہو گئے۔ ادھر بھی کئی شہروں کے کیبل آپریٹرز نے بھارتی فلمیں اور ڈرامے نہ دکھانے کا اعلان کیا۔ چینلز بند ہونے کا معاملہ نیا نہیں، ایسا پہلے کئی بار ہوا، اڑی واقعہ پر بھی ایسا ہو چکا ہے۔
کچھ برس اور پیچھے چلیں تو نومبر 2008 میں بھارت کے شہر ممبئی میں دہشتگردی کے 8 بڑے واقعات ہوئے جن میں بیسیوں افراد ہلاک ہو گئے۔ بھارت نے ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا۔ اس موقع پر بھی سول سوسائٹی، صحافیوں اور امن پسند شاعروں، ادیبوں نے احتجاج کیا۔ ایک احتجاجی ریلی لاہور مال روڈ پر نکالی گئی جس کی قیادت کرنے والوں میں عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان اور امتیاز عالم شامل تھے اور لاہور کے ترقی پسند شاعر، ادیب بھی اس ریلی کا حصہ تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیر اعظم ہی نہیں، شاعر بھی تھے۔ 1998 میں جب دوستی بس پر سوار واہگہ بارڈر کے راستے لاہور آئے تو ان کا اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے مثالی استقبال کیا۔ واجپائی نے گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے شاندار تاریخی تقریر کی۔ ’لاہور ڈیکلیریشن‘ جاری ہوا جس میں مسئلہ کشمیر سمیت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ، کمرشل اور ثقافتی تعلقات بڑھانے کا خصوصی ذکر ہوا۔ یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک لڑائی سے گریز کریں گے۔ یاد پڑتا ہے کہ واجپائی کے وفد میں آرٹ اور فلم سے وابستہ اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔ اداکار دیو آنند کچھ وقت نکال کر اپنے مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور گئے۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سجدہ ریز ہو گئے اور سب سے پہلے کالج کی مٹی کو بوسہ دیا۔ اندر گھومے پھرے، پرانی یادیں تازہ کیں اور بہت جذباتی ہوئے۔ جنگیں دو ملکوں کے عوام کو تقسیم کر دیتی ہیں اور بڑے سانحات میں بچھڑے لوگوں کو ان کی اپنی یادوں کی مٹی کی خوشبو سونگھنے سے روک دیا کرتے ہیں۔
واجپائی نے گورنر ہاؤس میں اپنی نظم ’جنگ نہ ہونے دیں گے‘ بھی سنائی۔ اس نظم کی چند سطریں دیکھئے :
وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل اگے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
واجپائی آگے چل کر اپنی نظم کا اختتام یوں کرتے ہیں :
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک ہی بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے ہم سنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
مگر پھر کیا ہوا کہ واجپائی کی نظم پیچھے رہ گئی، فوجیں آ گے نکل گئیں۔ 21 فروری 1999 ء کو طے پانے والے معاہدے کو محض تین ماہ بعد کارگل جنگ نے سبوتاژ کر دیا۔ امن کے عمل کو دھچکا لگا اور ’لاہور اعلامیہ‘ غیر موثر ہو کر رہ گیا۔
المیہ یہ ہے کہ بہت سے شاعر، ادیب اور تخلیق کار جنگی ماحول میں شاید حب الوطنی کے زیر اثر تخلیق کار کی سطح سے نیچے اتر آتے ہیں اور اپنا شخصی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ مگر ایک سچا امن پسند اور ترقی پسند تخلیق کار ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ اپنا نظریہ نہیں چھوڑتا اور امن و آشتی کی خاطر تخلیقی اور عملی جدوجہد جاری رکھتا ہے، ترقی پسند اور امن پسند ادب کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔
دونوں ملکوں کے عوام بہرحال دوستی، رواداری اور امن چاہتے ہیں مگر کچھ دیدہ و نادیدہ طاقتیں کچھ کچھ وقفے کے بعد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کر کے امن پسند بیانیے کو شکست دینے پر اتر آتے ہیں۔ ایسے میں پھر واجپائی کی نظمیں صرف ایک شاعر کا خواب بن کر رہ جاتی ہیں۔ امن کی خواہش ایک خواب ہی سہی ترقی پسند اور امن پسند ادیب اپنے اس خواب سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ ایسے خواب ہی ہیں جو امن پسندی کا متبادل بیانیہ تشکیل دے کر عملی اور فکری دونوں محاذوں پر جنگ کو شکست دے سکتے ہیں۔


