اب ارسطو بھی پریشان ہے


سرد جنگ کے دوران استعمار کی طرف سے انسانی دنیا کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس تقسیم کے تحت لوگ پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کے انسان کہلائے۔ استعماری مفادات کے حصول کے لئے یہ تقسیم ناگزیر تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دنیا کے تین ٹکڑے کیے گئے۔ ایک ٹکڑا امریکہ اور اس کے اتحادیوں (نیٹو فورسز) کا تھا۔ اسے پہلی دنیا کہا گیا۔ دوسرا ٹکڑا روس اور اس کے اتحادیوں کا تھا، اسے دوسری دنیا کہا گیا جبکہ تیسرا ٹکڑا ان لوگوں پر مشتمل ہے، جو نیٹو فورسز میں بھی شامل نہیں ہو سکے اور کمیونسٹ بھی نہیں بن سکے، نیز دنیا کو کوئی معیاری نظام بھی نہیں دے پائے۔ ایسے لوگوں کی دنیا کو تیسری دنیا کا نام دیا گیا۔ تیسری دنیا کے ممالک وہ ہیں، جو ہاتھیوں کی لڑائی میں کھیت کا کام دیتے رہے۔

سردجنگ ختم ہوئی تو طاقت کے نکتہ نظر سے دوسری دنیا کا بلاک منہدم ہو گیا اور تیسری دنیا حسب سابق باقی رہی۔ اس وقت ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کی ایک نئی تقسیم متعارف کرائی گئی۔ نئی تقسیم کے باوجود دوسری دنیا کا بلاک طاقت کے اعتبار سے منہدم تو ہوا جبکہ اپنے وجود کے اعتبار سے وہ پہلی یا تیسری دنیا میں ضم بھی نہیں ہوا۔ یعنی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر سے ہٹ کر عملاً تین دنیائیں آج بھی موجود ہیں۔ تیسری دنیا والوں میں زیادہ تر دنیا و مافیا سے بے خبر لوگ بستے ہیں۔ ان کے نزدیک کچھ بھی اس لئے درست یا غلط ہے، چونکہ ارسطو کے نزدیک درست یا غلط ہے۔ یہ درست یا غلط کو سمجھنے کی زحمت کرنا گوارا نہیں کرتے۔ ان کے ہاں خود تحقیق کرنا اور مسائل کو سمجھنا ایک فضول کام ہے، لہذا جو ارسطو نے کہہ دیا ہے، وہی حرف آخر ہے۔

پہلی دنیا اور دوسری دنیا کے لوگ ہماری اس تیسری دنیا کے لوگوں سے یکسر مختلف ہیں۔ ان کے سارے جھگڑوں کی وجہ ان کا مفاد اور فائدہ ہے۔ ان کے لئے جمہوریت صرف اس لئے اچھی نہیں ہے، چونکہ ارسطو نے اسے اچھا کہا ہے اور نہ ہی آمریت اس لئے بری ہے کہ فلاں نے اسے برا کہا ہے۔ ان کے نزدیک جمہوریت یا آمریت اس لئے اچھی ہے، چونکہ ان کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔ چنانچہ اپنے آپ کو جمہوریت کا علمبردار کہلانے والی ریاستوں کے نزدیک خلیجی ممالک کی آمریتیں نہایت ہی اچھی ہیں، چونکہ خلیجی ریاستیں ان کے مفادات کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتیں۔ سارے ممالک کے لئے جمہوریت کا معنی و مفہوم یکساں نہیں۔ برطانیہ کی جمہوریت چین کی جمہوریت سے اور ہندوستان کی جمہوریت ایران کی جمہوریت سے، اسی طرح طالبان کی جمہوریت پاکستان کی جمہوریت سے قطعاً مختلف ہے۔ یہاں نہ صرف جمہوریت کی تعریف مختلف ہو جاتی ہے، بلکہ جمہوری عمل میں اختلاف بھی واضح ہے۔

پہلی دنیا اور دوسری دنیا کے ممالک اپنے مفادات کے تعین، ان کے حصول کے لئے سفارتکاری، جدید نظریات کے بارے میں مکالمہ، پیچیدہ مسائل پر مذاکرات، نیز مطالعات اور مطالعات کے بعد تحقیقات اور تحقیقات کے بعد ایجادات کے راستے پر گامزن ہیں۔ اب رہ گئے تیسری دنیا کے لوگ تو۔ یہ تو ابھی تک ان بحثوں سے نا آشنا ہیں۔ یہ اپنے دوست اور دشمن نیز اپنے مفادات کو بھی نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے۔ اس نہ پہچاننے اور نہ جاننے کا نتیجہ یہ ہے کہ استعماری حلقے تحقیقات و ایجادات کرتے ہیں اور تیسری دنیا کے لوگ صرف خریدتے اور خرچ کرتے ہیں۔

تیسری دنیا کے لوگ آج تک اپنے مشترکہ دوستوں اور دشمنوں کی شناخت، اپنے لئے مناسب نظام حکومت اور سیاسی عمل کا تعین، اپنے عوام کے لئے مطلوبہ نظام تعلیم، اپنے ہاں انسانی حقوق اور عدل و انصاف کا معیاری نظام بھی وضع نہیں کرسکے۔ یہ اپنے مشترکہ مفادات کا حصول بھی نہیں جانتے۔ یہی سب کچھ ان کی عقب ماندگی کی دلیل ہے۔

استعماری طاقتوں کے نزدیک تیسری دنیا کے باشندے چونکہ عقب ماندہ ہیں، لہذا یہ صرف برائے نام انسان ہیں۔ قدرتی وسائل اور سائنس و ٹیکنالوجی نیز جدید تعلیم کے اوپر بھی انہیں صرف اتنا ہی حق حاصل ہے، جتنا ایک دکان میں خریدار کو ہوتا ہے۔ اسی لئے ان کے ہاتھوں میں قدرتی وسائل اور سائنس و ٹیکنالوجی کو بھی نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وہ سوچ ہے، جو پاکستان اور ایران جیسے متعدد ترقی پذیر ممالک پر پابندیوں کا پیش خیمہ ہے۔

یہ سوچ استعماری طاقتوں کی مشترکہ سوچ ہے، لہذا اسے آسانی سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اس وقت ترقی پذیر ممالک اور تیسری دنیا کے لوگوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے نظام حکومت، نیز تعلیمی نظام، خود کفالت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے اعتبار ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے لوگ ایرانی مقاومت اور پیشرفت و ترقی کے راز کو سمجھنے کے بجائے صرف بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس راز سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے لوگ صرف بھیک مانگتے، خریدتے اور خرچ کرتے ہیں۔

بس یوں سمجھ لیجیے کہ دنیا بھینس سے دودھ، دودھ سے دہی، دہی سے لسی اور لسی سے مکھن بنا کر بیچ رہی ہے اور ہمارے ہاں مکھن کو بھینس ثابت کرنے کے لئے دلائل لائے جا رہے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو کبھی اپنے ہاں جمہوریت کے موضوع پر ہی لوگوں کی گفتگو سنئے گا۔ بس ارسطو نے جو کہا، وہی ٹھیک ہے۔ اب خود نہ سمجھنا اور ارسطو ارسطو کی رٹ لگائے رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اسے اب ارسطو بھی حل نہیں کر سکتا۔ یقین جانیے کہ سمجھنے اور سوچنے کے بجائے ہماری اس ”ارسطو نے کہا، ارسطو نے کہا“ کی رٹ سے اب ارسطو بھی پریشان ہے۔

Facebook Comments HS