نورِ باطن کی تجلی حرصِ دنیا میں کہاں

"دنیائے فن و ادب میں ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو نہ دلِ سنگ میں رقصِ بتانِ آزری کو دیکھ سکتا ہے اور نہ اصولِ فن سے کماحقہ واقفیت رکھتا ہے”. (علی عباس جلال پوری)
دورِ حاضر میں اگر دنیاۓ ادب و فن سے ایک محدود احاطے کا خطہ مراد لیا جاۓ تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ تیسرا گروہ ہی مجملاً فن و ادب کا ترجمان ہے۔ علی عباس جلال پوری نے ان آبِ زر سے قلعی کیے گئے اذہان کو برساتی کیڑوں کے مماثل قرار دیا ہے جو چند روز ادھر ادھر بھٹک کر فنا ہو جاتے ہیں۔ مگر یہاں قابلِ غور نکتہ یہ ابھرتا ہے کہ ایسے لوگ کس طرح عرصۂ طویل تک عصبیت کے کرتب دکھا دکھا کر کشکول بھرتے رہتے ہیں۔ کیا یہ وہی انسانی اقدار کا دائرہ ہے جو عروج کی لکیروں سے ہوتا ہوا تنزل کو تنزل سے ملا دیتا ہے اور سماج ایک لامتناہی گردش کا اسیر رہ جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناً ادب یا فن کے نامعقول پیمانوں کو الٹنے پلٹنے کی تگ و دو لایعنی ہے۔ برعکس اس کے، اگر انہی اقدار کے سیاق و سباق کو ہم پلہ ٹھہرا کر مثالیت پسندی کے ناقابلِ بصیرت افق پر سے نگاہیں ہٹا لی جائیں تو شاید ترقی و تنزلی کے اسباب و محرکات تک رسائی حاصل ہو سکے۔
ادب کی تخلیق میں جتنا کردار رواقیت کا ہے اتنا ہی ماورائیت بھی اس کی نمو میں حصہ ڈالتی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ زینو اور پارمی نائدیس کے نظریات ہمیشہ تصادم کی صورت میں رونما ہوں بلکہ ان میں توازن حلول کر جاۓ تو سوسن کی پنکھڑی اور ایک مبہم سی ناقابلِ فہم مسرت کا ربطِ آہن کئی پوشیدہ اسرار کے در وا کر سکتا ہے۔ اور اگر یہی توازن و توافق بالجبر اپنی ذات پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاۓ تو سسیفس کی طرح لایعنیت ہی کردار و شخصیت کا اصل قرار پاۓ گی۔ فیثاغورس نے جب یونانی سریت کی بنیاد رکھی تو انسانی فہم نے مابعدالطبیعیات کو صوفیانہ روش کی طرف مڑنے ولی قوس کے راستے پر دھکیل دیا۔ اہلِ یونان کے ہاں چونکہ منطقی تفکر کے چشمے ابل رہے تھے چنانچہ ان پانیوں سے تقریباً تمام کرّۂ ارض پہ موجود تشنہ لبوں نے حلق تر کیے۔ اس کے بعد جب شعور کی تہوں کو کھوجنے کا عمل شروع کیا گیا تو انسان غاروں اور جنگلوں میں پناہ گزین ہونے لگا۔ صرف اس لیے کہ مراقبہ اور گیان جیسے دیگر عواملِ تطہیرِ ذات کے ذریعے اس ان دیکھی دنیا تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو جہاں پر تخیل کی حدود سر کی جاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ ایک روایت چل نکلی کہ اگر تن تنہا انسان ویران اور ساکت جگہ پر ایک عرصۂ طویل تک تلاشِ ذات کی مشقت اٹھاتا رہے تو نکتۂ عروج تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اور یہی نکتۂ عروج شاید بقاۓ دوام کا ضامن ہے۔
آج ظاہر ہے کہ ان روایات کو سائنس نے نقش بر آب کی حقیقت کے مترادف قرار دیا ہے لیکن ابھی چند بر خود غلط لوگ قدامت کے ان نقوش کو پاۓ براہیمی سمجھ کر پوجا پاٹ میں مصروف ہیں۔ اور اس احساس کو رنگ اور الفاظ کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں جسے ادب کا نام دیا جاتا ہے۔ بقول نطشے کے:
” شاعر کا جذبہ تماشائیوں کی داد کا ملتجی ہے چاہے وہ بھینس ہی کیوں نہ ہو”.
فقط اس بات پر قیاس کہ ادب انسانی احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتا ہے نصفاً بے معنی ہے۔ اس اظہار کا ایک مہذب اور معیاری درجہ ہے جس سے آگے ہزاروں برس کی طویل مسافت طے کر کے بننے والی تہذیب کے مینار دھڑام سے زمیں بوس ہو جاتے ہیں۔ اور آج کا فنکار، جو کہ اعلیٰ کاریگر بھی نہیں ہے، اس بات پر بضد ہے کہ اسے ان درجات کو پھلانگنا ہی ہے۔ یہاں فرائڈ کے نظریے سے اکتفا کیا جاۓ تو بے محل نہ ہوگا کہ ‘فن کار اپنی جنسی محرومی کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف خود لذتیت کے باعث الفاظ، آواز اور رنگوں کو من چاہے سانچے میں ڈھال لیتا ہے بلکہ اس لذیذ اظہار سے اپنے اردگرد کے ہجوم کو بھی محظوظ کرتا رہتا ہے’۔ آج یہ ہجوم زیادہ تر ان بھینسوں سے بھرا پڑا ہے جن کے آگے رقصِ طاؤس کی محفل سجے یا مغنیہ کا نغمہ سر بکھیرے، انہیں معیاری لذت کی جانچ پرکھ سے کچھ سروکار نہیں ہے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ جب ان کے درمیان اس بات کا اظہار کیا جاۓ کہ فن ہمیشہ خلوص اور بے لوثیت سے پیدا ہوتا ہے تو یہ لامحالہ ایک ہی شکستہ آئینہ دکھاتے ہیں کہ سماج اور تہذیب کے ساتھ ادب و فن کے معیار میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ وقت کسی مہان کو تا ابد سنگھاسن پہ براجمان نہیں رہنے دیتا مگر وہ اصول و قواعد تو واقعی ہیں جن کی عملداری اور تقلید ہی اسے سنگھاسن پہ رونق افروز ہونے کے قابل بناتی ہے۔ پھر مجبوراً اہلِ علم و دانش کو بڑھیا کی اس بات کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ ہاں زمین ایک کچھوے کی پیٹھ پر کھڑی ہے اور تا آخر کچھوا ہی تو ہے۔
مکمل طور پر ادب نہ تو کسی زبان کے تغیر و تبدل کے مرہون منت ہے اور نہ ہی صنعتی ترقی یا پسماندگی کے۔ اگر آلات احساسِ مروت کو کچل دینے پہ آمادہ ہوں تو یقیناً مشینوں کی حکومت دل کے لیے موت ہے۔ مگر چہرہ روشن ہو اور آنکھ سرمگیں ہو تو نہ گلگونہ فروش کی حاجت باقی رہتی ہے اور نہ سرمہ فروشوں کی صدائیں دل کو مائل کرتی ہیں۔ ادب کرشن اور رادھا کے بے پناہ جذبۂ محبت سے پیدا ہوتا ہے اور ہرمزد اور اہرمن کے تضاد سے بھی۔ گوہر کی قیمت کے اتار چڑھاؤ کا پیمانہ جو گوہر شناس مقرر کرتا ہے اس کو کبھی متزلزل نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ وہی موتی تاج پوشی کے وقت زربفت کے تھال میں بھی رکھ کر لاۓ جاسکتے ہیں اور انہی موتیوں کو بھکاریوں کے بچے کنکر سمجھ کر شغل کا حصہ بھی بنا سکتے ہیں۔
اب وہ تیسرا گروہ جس میں باقی دونوں ضم ہو کر رہ گئے ہیں، شاید کبھی ادب و فن کو سماج میں وقتاً فوقتاً رو پذیرہونے والی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ نہ رکھ سکے۔ انسانی تاریخ میں ایسے واقعات بھی رونما ہوۓ ہیں جن کے باعث اقوام و ملل نے عروج و زوال کا وہ حصار توڑ کر ایک مثلث کو تشکیل دیا ہے جس میں تنزل ، عروج اور تنزل کے تمام زاویے برابر ہوتے ہیں۔ مگر ان میں ایسے جواں مرد اور جفا کش پیکر موجود تھے جنہوں نے کبھی سماج کی پست اقدار کو سلامی نہیں پیش کی۔ نطشے کا ہی کہنا ہے کہ ‘ جو زندہ ہے، وہ تابع ہے’۔ وہ کون سی قوت ہے جو اسے اتباع پر اکساتی ہے، اس کے جواب میں درجنوں نام لیے جاسکتے ہیں۔
موجودہ ادب کو مژدہ ہو کہ ابھی اس دیجور شب میں، کہ جہاں ہاتھ پڑی چیز سجھائی نہیں دیتی، ایک شمعِ شکستہ نظر آتی ہے جو درخورِ محفل تو نہیں رہی مگر بزم کے جلوہ افروز ہونے کے انتظار میں جل رہی ہے؛
تپشِ دل کہیں ہوتی ہے مجھے اس سے سوا
بیٹھے تو رہیے ابھی آپ نے دیکھا کیا ہے
Facebook Comments HS

