کیا پاکستان ”ڈیفالٹ“ ہونے والا ہے؟


(گزشتہ سے پیوستہ) ۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو 2 ء 1 بلین ڈالر کا قرض دینے پر آمادگی کا اظہار تو کر دیا ہے لیکن تاحال ”سٹاف لیول“ پر دستخط کا مرحلہ نہیں آیا آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید شرائط کی فہرست تھما دی ہے جن کو پورا کرنے کے لئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار کوشاں ہیں۔ ان شرائط کو پورا کرنے پاکستان کے بچے بچے کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ جس کے باعث محمد اسحق ڈار کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مہنگائی کا ایسا طوفان برپا ہوا جس نے امیر ہو یا غریب ہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

حکومت کی مہنگائی کے طوفان کے سامنے بند باندھنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی ہر طرف عوام کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بھی کوئی پریشانی نہیں دکھائی دے رہی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھاری بھرکم کابینہ کا حجم تو کم نہیں کیا البتہ اس کی تنخواہ اور مراعات ختم کر دی ہیں۔ کچھ دیگر اقدامات سے 200 ارب روپے کی بچت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس بچت سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان کے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا البتہ ان اقدامات سے قوم کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ حکومت کفایت شعاری بارے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔

میں نے ملکی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے صحافیوں اشرف ملغم، مہتاب حیدر اور عترت جعفری سے ملکی معاشی مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔ سب کی متفقہ رائے ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اشرافیہ، سرکاری ملازمین، کاروباری افراد، زمینداروں اور فوج و عدلیہ کی مراعات ختم کر نے سے حکومت پاکستان کو 2 ہزار بلین روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ اگر زراعت پر ٹیکس لگا دیا جائے اور ”انڈر انوائس“ کا سلسلہ بند کر دیا جائے تو اس مد میں بھی 2 ہزار 700 بلین روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

ہمیں آئی ایم ایف سے 2 ء 1 بلین ڈالر ادھار مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئی ایم ایف کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ نئے ٹیکس لگانے سے قرض خواہ ملک کے غریب عوام کس عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ وہ تو اپنے دیے گئے قرضوں کی واپسی بارے شیڈول دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم پاکستانی آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لئے کھڑے ہوتے ہیں اور اسے گالی بھی دیتے ہیں۔ بہر حال پاکستان کے عوام نے سینیٹر محمد اسحق ڈار کے دور میں پاکستان کو ”ڈیفالٹ“ ہونے کی بھاری قیمت ادا کر دی ہے۔

ممکن ہے مزید قیمت بھی ادا کرنا پڑے۔ خاص طور پاکستان مسلم لیگ (ن) جو ملک کی ایک مقبول جماعت کی دعوے دار تھی۔ کا پورا ”پولیٹیکل کیپیٹل“ تباہ ہو گیا ہے جس کے باعث مسلم لیگ سمیت پوری پی ڈی ایم فوری انتخابات کے انعقاد سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ اگر مراعات یافتہ طبقہ کی مراعات ختم کر دیں تو 4700 ارب روپے جو 15 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ میں سے ساڑھے سات ارب روپ کی بچت کی جا سکتی ہے۔ اگر ایف بی آر ہی اپنا کام قومی ذمہ داری سمجھ کر کرے تو پاکستان کی معاشی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والوں اور باقاعدگی سے بین الاقومی سفر کرنے والوں کے ذرائع آمدنی پر ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے۔ منی بجٹ میں فرسٹ اور بزنس کلاس میں سفر کرنے والوں پر ٹیکس بڑھانے کا مستحسن فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کو ہر سال 60 ارب ڈالر کے لگ بھگ درآمدات کی مد میں ادائیگی کرنا ہوتی ہے جو پاکستان کو برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم سے ادائیگیاں کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کو سات آٹھ ارب ڈالر کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم کو کبھی سعودی عرب کے پاس جانا پڑتا ہے۔ کبھی چین کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے اور کبھی متحدہ عرب امارات سے دو تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں ایک سال کے لئے تک رکھنے کی استدعا کر کے ہم اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب کی بار تو دوست ممالک سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے بھی ہمیں امداد مانگنے سے پہلے آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چین نے پاکستان کو 70 کروڑ ڈال بھجوا دیے یہ رقم ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلنے کے لئے کافی نہیں البتہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے جس ملک کے عوام توانائی کی مد میں 29 ارب ڈالر خرچ کرنے کی عیاشی کرتے ہوں اسے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تو ہو گا۔ اگر ہم منصوبہ بندی کر کے 5 سے 7 ارب ڈالر کی توانائی کی درآمد کم کر دیں تو پاکستان نہ صرف بیرونی قرضوں کے بوجھ سے باہر نکل آئے گا۔ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو جائے گی جس ملک کے عوام اپنے ہاں خوردنی تیل کی پیداوار پر توجہ دینے کی بجائے اربوں ڈالر کا خوردنی تیل اپنے کھانے کو ذائقہ دار بنانے پر صرف کر دیں تو ان کے ہاں گھی مہنگا تو ہو گا۔

ہم ہر سال اربوں ڈالر کی چائے نوش کر جاتے ہیں اور اربوں ڈالر کے پان کھا جاتے ہیں پھر زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ 1947 سے لے کر عمران خان کی حکومت تک تمام حکومتوں نے جتنا قرضہ لیا اس کا 78 فیصد صرف عمران کی حکومت نے لیا بعض معاشی ماہرین کا موقف ہے۔ اگر پاکستان کی سرکاری اراضی کو فروخت کر دیا جائے تو اس سے حاصل ہونے رقم سے 4 بار قرض ادا کر سکتا ہے۔ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لئے سی ڈی اے کو 4 سیکٹرز اوور سیز پاکستانیوں کے لئے مختص کرنے کی اچھی سکیم کا آغاز کیا ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرائن نے بھی تو ڈیفالٹ کیا تھا۔ پاکستان ڈیفالٹ کر گیا تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ پاکستان کے عوام اپنے وسائل کے اندر زندہ رہ کر روس اور یوکرائن کی طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں کاروبار میں کرپشن کا پیسہ 85 فیصد ہے جو کسی حکومت کو آزادانہ فیصلے نہیں کرنے دیتا کرپشن سے کمائی ہوئی رقم سے امریکہ اور یورپ میں جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں۔ سب کو معلوم ہے۔ ”حوالے“ کا کاروبار کس بازار میں ہوتا ہے۔

حوالے کا کاروبار کرنے والوں کی طنابیں کھینچی جائیں تو ڈالر کی غیر قانونی فلائٹ ختم ہو جائے گی۔ تمام تر اقدامات کے باوجود ایک ڈالر کی قیمت 300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ہر سال حج، عمرہ و زیارات پر 2 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس مد میں زرمبادلہ کی بچت کرنے کے لئے صرف ان افراد کو حج، عمرہ اور زیارات پر جانے کی بلا روک ٹوک اجازت دی جائے جن کے اخراجات کی ادائیگی بیرون ملک پاکستانیوں نے ڈالرز کی صورت میں کی گئی ہو۔ طویل عرصہ کے پاکستان میں سپانسر شپ سکیم دوبارہ متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ افغانستان ”کی بلیک اکانومی“ سے پاکستان کو محفوظ کیا جائے پاکستان کو اپنے دوست ممالک سے پاکستانی کرنسی میں کاروبار پر اسی طرح اصرار کرنا چاہیے جس طرح ترکیہ نے کیا اس کی کرنسی کی قیمت اس حد تک گر گئی کہ ایک ڈالر 300 لیرا کے برابر ہو گیا تھا لیکن دو سال میں ایک ڈالر 6 لیرا کے برابر ہو گیا

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مزید کم کر دی ہے اور کہا ہے کہ ”پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو 1998 ء کی طرح 4 سخت شرائط کا سامنا ہے۔ پاکستان کو تاحال چین کے علاوہ کسی دوست ملک سے یقین دہانی نہیں مل سکی۔ امریکی ریاست نیویارک میں مقیم اسد چوہدری جو طویل عرصہ تک پیشہ صحافت سے وابستہ رہے پاکستان میں اکانومی کی ابتر صورتحال بارے خاصے پریشان دکھائی دیے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مسلسل عوام کو“ ڈیفالٹ ”ہونے کے خطرہ سے ڈرا رہے ہیں جب کہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والوں ملک دشمن قرار دیا ہے۔ (ختم شد) ۔

Facebook Comments HS