بدلتا ہوا بھارت


ماضی کو ہم ہمیشہ رومنٹسائز کرتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ماضی اچھا تھا یا حال خراب ہے۔ مستقبل کیسا ہو گا اس کے بارے میں غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ گزشتہ چند دہائیوں میں تو ایسا لگنے لگا تھا کہ تقسیم ہند کی دردناک یادیں عوام کی یادداشت سے ختم ہو چلی ہیں اور اب ملک میں نفرت کا وہ ماحول نہیں رہا کہ لوگ ایک دوسرے کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہوجائیں۔ سماج کے کمزور طبقات کے خلاف تعصبات کا اظہار ضرور ہوتا رہا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی روا رکھا جاتا رہا تاہم ایسا نہیں تھا کہ منافرت پر مبنی سوچ اور فکر کا زہر پورے سماج میں پوری طرح سرایت کر گیا ہو، بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ سماج کا چھوٹا سا حصہ ہی نفرت کے اس زہر سے متاثر ہوا تھا؛ لیکن اب جب کہ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں اور ملک کو عالمی چیمپین بنانے کے چرچے رات دن ہو رہے ہیں، ایسے میں اہل وطن کے مابین سماجی رشتوں اور مفاہمتوں میں دراڑیں پیدا کرنے والی گالی نما لفظیات اور نفرتوں پر مبنی نئے بیانیوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ تقسیم ہند کے مخصوص ماحول میں لگائے جانے والے نعروں نے بے حد تلخ تیوروں کے ساتھ واپسی کی ہے۔

آزادی کے پچھتر سالوں بعد ان دنوں نہ جانے کیوں جدید ہندوستان کے وہ معمار بہت یاد آتے ہیں جنھوں نے تقسیم ہند اور آزادی کے بعد ملک میں امن وامان پیدا کرنے کے لیے اور بالخصوص ہندستانی مسلمانوں کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے انتھک محنت کی، ملت کے سیاسی و سماجی اداروں میں سیکولرازم اور لبرل ازم کے رنگ بھرنے کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی اور انسانی اور سماجی رشتوں میں جان ڈالنے کے لیے اپنی ساری قوتیں صرف کر ڈالیں۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی آخری سانس تک اپنے اس شاہ کار اور تاریخی دستاویز کو سینے سے لگائے رکھا جو آئین ہند کہلاتا ہے اور جس کی بہ دولت بلاتفریق جنس و نسل ہر ہندوستانی کے لیے اس کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکا۔ اس وقت گاندھی، نہرو، راجندر پرساد، آزاد اور پٹیل جیسی قدآور شخصیات تھیں جن کے پاس ملک میں سماجی تعلقات کو قائم رکھنے اور تمام گروہوں اور قوموں کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ بھی تھا اور نظریہ بھی تھا۔ ان کی نظر اور دل دونوں بڑے تھے۔ حالاں کہ اس وقت یہ کام ان کے لیے بے حد مشکل رہا ہو گا جب کہ ایک نیا ملک بنا ہو، تقسیم کا زخم ملا ہو اور ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے بیچ میں رابطہ کی لڑی ٹوٹ چکی ہو۔ یقیناً ایسے حالات میں پر امن بقائے باہم کو یقینی بنانے والے کسی پروجیکٹ پر کام کرنا آسان نہیں تھا تاہم یہ تو ان ہی کا عہد تھا جنھوں نے یکسر ٹوٹ چکے رشتوں کے درمیان پل کا کام کر کے دکھا دیا۔ مگر ہماری صدی میں اب نہ تو مختلف قوموں، زبانوں اور عقیدوں کے درمیان پل بنانے والے افراد ہیں اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے پلوں کو جوڑنے والی شخصیات۔ ایسے نازک وقت میں ایک بار پھر ان ہی معماران اول کی یاد آنا فطری بات ہے، خاص کر ان لوگوں کے لیے جو صدق دل سے یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں امن وامان اور پر امن بقائے باہمی کا جھنڈا ہمیشہ بلند رہے۔

ملک میں ایک بار پھر سے تقسیم کے وقت کا وہی گھٹن کا ماحول پوری شدت کے ساتھ لوٹ آیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کی اقلیتوں کا اور بالخصوص مسلمانوں کا وجود ہی اکثریتی طبقے کی نظر میں اور برسراقتدار طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے، وہ صرف ان پر اپنی بالادستی ہی نہیں چاہتے بلکہ اس سے بہت آگے جاکر انھیں بنیادی انسانی حقوق سے ہی محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف روز بروز بڑھتی ہوئی نفرتوں کی انتہا یہ ہے کہ ملک میں موجود سبھی اقلیتوں، ان کی زبان، ثقافت، روایات اور حتی کہ ان کی عبادتوں کے طور طریقوں سے بھی نفرت اور بے زاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ دھیرے دھیرے سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب تو وہ لوگ بھی جن کے لیے فرقہ ورانہ عصبیت محض ایک علمی بحث و مباحثے کا موضوع تھی آج وہ بھی اس خوف کے ساتھ جی رہے ہیں کہ جب وہ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو انہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ شام تک خیرو عافیت کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے، انہیں بھی اپنے جان و مال کے تحفظ کی فکر ستاتی ہے۔ خبر نہیں کہ کون کب اور کہاں کس مصیبت میں گرفتار ہو جائے۔ عوامی مقامات پر ٹہلتے ہوئے، ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے بھی انتہائی احتیاط برتنا اور چوکنا رہنا ضروری ہو گیا ہے۔

اس وقت ملک میں مسلمانوں کی جو تصویر بنا دی گئی ہے اسے بدلنا بہ ظاہر مشکل لگتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں۔ مسلمانوں کو اپنے سیاسی و سماجی شعور کو بیدار اور پختہ کرنا ہو گا۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں کے پاس اس کے علاوہ یا اس سے بہتر شاید ہی کوئی راستہ ہو گا۔ مسلمانوں کو سمجھنا ہو گا کہ فرقہ پرستی کی عبارت لکھی جاتی ہے، اس کی تیاری کی جاتی ہے اور باقاعدہ ایک طبقہ کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ فرقہ ورانہ فسادات خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، انہیں انجام دینے کے لیے بہت پہلے سے تیاری کی جاتی ہے، ذہن سازی کی جاتی ہے اور ایک قوم کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے، انھیں غدار قرار دیا جاتا ہے اور بالآخر انھیں ہر طرح سے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ باور کرا دیا جاتا ہے۔ یہ ایسا خطرناک کھیل ہے کہ اس کے بعد کسی بھی طبقے کو برباد کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی اور نہ ہی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو بہت زیادہ وسائل کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ خواہ کانگریس کی حکومت ہو یا بی جے پی کی، دونوں نے ہی مسلمانوں کو برابر کا نقصان پہونچا یا ہے، چنانچہ فرقہ ورانہ فسادات ان دونوں حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتے رہے ہیں۔

آج نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بہت سے غیرمسلموں کے لیے لفظ مسلم ایک اجنبی چیز ہو گئی ہے۔ مسلمان نام سنتے ہی ان کے ذہن میں کسی کم تر، غیر، قدامت پسند اور دہشت پھیلانے والے شخص کی شکل ابھر آتی ہے۔ انھوں نے اس نام کو بدشگون سمجھ لیا ہے گویا اگر اس نام اور پہچان والا کوئی شخص ان کے آس پاس رہ رہا ہے تو وہ یقیناً ان کو نقصان پہنچائے گا یا اس کا قوی اندیشہ ہے۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ بھلے ہی ان کا زندگی بھر کا تجربہ اس سے مختلف ہی کیوں نہ ہو، مگر وہ افواہوں پر ہی یقین کریں گے اور ایک مسلمان کے بارے میں غلط رائے قائم کر لیں گے، پھر وہ اس بات کو بھی نظر انداز کر دیں گے کہ ہندوستان کی خوبصورتی مختلف قوموں، زبانوں، تہذیبوں اور مذاہب و عقائد کی وجہ سے ہی ہے۔ اس ملک کی تعمیر میں تمام طبقات اور اقوام کا خون شامل رہا ہے اور وہ خون ہندوستانی ہی ہے۔

ان دنوں ایک نئے قسم کی روایت قائم کی جا رہی ہے کہ ملک میں کوئی پریشانی آئے یا کوئی نقصان ہو تو اس کا الزام مسلمانوں کے سر منڈھ دیا جائے۔ یہ دو دھاری تلوار ہے جس سے دو نوں کام ہو جاتے ہیں۔ ایک قوم مزید مایوسی اور پستی میں چلی جاتی ہے اور دوسری طرف حکومت اپنی ذمے داری سے بری ہوجاتی ہے۔ جیسے حال ہی میں یہ واقعہ رونما ہوا کہ کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری میں بھی ہندو مسلم زاویۂ نظر پیدا کر لیا گیا۔ ذمہ داریوں سے بھاگنے اور پہلوتہی کرنے کا اس سے بہتر بہانہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ یہ عجیب روایت ہے اور عجیب المیہ ہے مگر مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے لیے یہ سب سے کارآمد حربہ ہے۔

نفرت اور خوف کی بھی اپنی نفسیات ہوتی ہیں، وہ انسان کے رگ و پے میں اتر جاتی ہیں۔ ان کا علاج آسان نہیں ہے، ان کا علاج یہی ہے کہ جتنی محنت اور شدت سے نفرت کی تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے اتنی ہی شدت اور محنت سے محبت کے پھول اگانے پڑتے ہیں۔ مختلف اقوام کے یہاں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اپرتھائڈ کے بعد جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور ان کے حامیوں نے کالوں کے خلاف گوروں کی عصبیت اور نفرت کو بڑی خوب صورتی سے محبت اور قابل قبول رویے میں تبدیل کر دیا۔ مسلمانوں کو بھی یہی لائحہ عمل اپنانا ہو گا اور اسی نہج کی محنتیں کرنی ہوں گی۔ ہمیں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان قوموں سے سیکھیں جنھوں نے اپنے خلاف ظلم اور نا انصافی پر مبنی حالات کا مقابلہ کیا اور وہ کامیاب بھی ہوئیں۔ ہمیں اس کا مطالعہ کرنا ہو گا کہ انہیں درپیش مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے ان کے کیا طریقے تھے اور جدید علوم و فنون سے ان کی کیا مناسبت تھی؟ جب ہمارے اندر کے حالات ٹھیک ہوں گے تو شاید ہم میں باہر سے آنے والے مسائل کو بھی حل کرنے کا مثبت رویہ پیدا ہو گا۔ خارجی محاذوں پر فتح پانے کے لیے داخلی محاذوں کو فتح کرنا ضروری ہے اور داخلی محاذوں کو فتح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک متحد موقف اور مثبت لائحۂ عمل لے کر آگے بڑھیں۔

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah