عورتوں کا عالمی دن
جو کہتے ہیں نہ کہ عورت کی خوبصورتی اس کے پردے میں ہے وہ اسی عورت کے سامنے بیٹھ کر دوسری نیم برہنہ عورت کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے مکھی میٹھے پر منڈلاتی رہی ہو۔ جیسے ان کی آنکھوں کی ذمہ داری اسے گھر تک چھوڑ کر آنا ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے لوگوں کو اپنی بیویوں کو چادروں میں لپیٹے ساتھ لیے بازاروں اور شاپنگ مالز میں دوسروں کی عورتوں کو گھورتے ہوئے۔ ایسے میں جو عورت آپ کے ساتھ باحجاب چل رہی ہوتی ہے اس کے ذہن میں کیا سوالات آتے ہیں۔
عورت ہر صورت اپنے مرد کو لبھانا چاہتی ہے جس طرح ہر مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی عورت کسی دوسرے مرد کی طرف نہ دیکھے اسی ہر طرح عورت بھی یہی چاہتی ہے کہ اس کا محور وہی عورت ہوں جو اس کی زندگی میں بیوی کے روپ میں موجود ہے۔ مرد کا یہ دوہرا معیار گھریلو عورتوں کو بے حیائی کی طرف راغب کرتا ہے کیونکہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر وہی کرنا چاہتی ہے جو ان کے مرد کو پسند ہے۔ مردوں کے قول و فیل کا یہی تضاد آج عورتوں کو نت نئے جدید فیشن اور اسلامی تعلیمات سے دور کر رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے مگر بہت تلخ ہے۔ ہو سکتا ہے اس حقیقت سے آپ میں سے بہت سے لوگ مجھ سے اختلاف کریں۔ جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس دور میں اپنے دین پر قائم رہنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس معاشرے میں لوگ ضرورت سے زیادہ مذہبی بن گئے ہیں ہر انسان کا اپنے لئے دینی نظریہ وسیع و عریض ہے جبکہ دوسروں کے لئے تنگ۔ لوگ اتنے مذہبی ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی محرومیوں کو قسمت سمجھنے لگے ہیں۔ ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں۔ حق کے لیے آواز اٹھانا گناہ سمجھتے ہیں۔ غلامی کو اللہ کی مصلحت اور قتل کو موت کا معین دن سمجھ کر چپ کر جانا بہتر سمجھتے ہیں۔
خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ عورت اور مرد کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں نہ ہی کوئی اختلاف ہے۔ پروردگار نی مرد کا درجہ بلند فرمایا۔
جب درجہ بلند ہے تو اس کے اختلاف کوئی نہیں مگر مسئلہ اس معاشرے کا ہے۔ جو دو نظریاتی بنیاد پر ہمیشہ عورت کو قصور وار اور گناہ گار ٹھہراتا ہے۔ عورت کی جنگ اس معاشرے سے ہے۔
یہ دوہرا معیار رکھنے والا معاشرہ کسی پر رحم نہیں کرتا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں کس لڑکی کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی عجیب عجیب تاثرات چہروں پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہسپتال سے ہی لڑکی کے والد کو ذمہ داری کا احساس دلانے والا یہ معاشرہ ایک باب کو یہ باور کرواتا ہے کہ یہ بیٹی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک باپ ’ایک مرد قدرتی طور پر اللہ نے اسے کردار کا مضبوط‘ فراخ دلی ’اور پر عزم نبھانے والا بنا کر بھیجا تھا لیکن یہ معاشرہ اس کی سوچ کو اپنی تنگ نظری سے بدل دیتا ہے۔
یہی بیٹی جب بڑی ہو کر کسی خاندان کی بہو بنتی ہے تو اس کا شوہر جو اس کے نان نفقہ اور اس کی عزت کا ذمہ دار ہوتا ہے یہ معاشرہ اس مرد کو جس کو پروردگار نے اس عورت کا مالک و مختار بنا کر بھیجا یہ سناتا ہے کہ اس لڑکی کو سر پر نہ چڑھایا جائے اور یہ کہ یہ اپنے والدین سے جہیز کے نام پر ان کی بساط سے زیادہ سامان لے کر آئے اور اگر نہ لا سکے سسرال والے اس مرد کی موجودگی میں اس لڑکی کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ پروردگار نے مرد کو اپنی بہت سی صفات نوازیں مگر بدقسمتی سے ہمارا معاشرے نے خدائی احکامات سے بڑھ کر دنیاوی رسم و رواجوں میں پڑھ کر مرد کی عزت و تکریم میں کمی کے ساتھ ساتھ اس کی مردانگی بھی نکال دی۔
یہی عورت جب بوڑھی ہوتی ہے تو اگر اس کا مرد اس کے سر پر نہ رہے تو اس کا بیٹا جو کہ ایک مرد ہے قدرتی طور پر وہ خاندان کو جوڑنے والا اور بڑے دل کا مالک ہونا چاہیے یہ معاشرہ اس کو اپنی ماں کو بوجھ سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آج کے دور میں مہنگائی ’اخراجات اور ذمہ داریاں پوری کرنا اور خاص طور پر ایک بوڑھی عورت جو وقت کے ساتھ تھوڑی چڑچڑی بھی ہو گئی ہو کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آئے دن اخبارات ایسے واقعات سے بھرے رہتے ہیں جن میں بیٹے نے اپنی بیوی اور سسرالیوں کے کہنے پر اپنی بوڑھی ماں پر تشدد کر کے گھر سے نکال باہر کیا۔
یہاں بھی یہ معاشرہ اس بیٹے جو کہ ایک مرد بھی ہے کو یہ بھلا دیتا ہے کے اس کی صفات کیا ہیں۔
غرض کہ مرد اپنی مردانگی کس صفات سے مرد کہلاتا ہے۔ یہی مرد اگر کسی عورت کو اس کی سوچ ’نظریات اور دلچسپیوں کو بدلنے پر مجبور کرے تو عورت دوسرا رستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ہمارا دین اتنا مشکل نہیں نا ہی مرد اور عورت کا کوئی مقابلہ ہے یہ جنگ ہے اس سوچ کے ساتھ جو ہم نے اپنے معاشرے کو دو مختلف جنس کے افراد کے درمیان کھڑا کر کے بنا لی کئی ہے اور اپنی اور خصوصاً خواتین کی زندگیوں کو مشکل ترین کر کے آج عورتوں کا دن منانے پر مجبور کر دیا ہے۔ جو فیصلے گھر کی چار دیواری میں ہونے تھے۔ آج وہ فیصلے سڑکوں پر کھڑی نیم برہنہ عورتیں جو اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہیں۔ جن کے سر پر کوئی نہیں بڑی بے باکی سے ان چار دیواری میں بیٹھیں باعزت عورت کو اپنے تجربات سے گزاری زندگی کو سامنے رکھ کر ان کے لیے حق مانگنے نکل کھڑی ہوئی ہیں جو کہ نہ صرف اپنا تماشا بناتی ہیں بلکہ ان عورتوں کے لئے بھی مزید مشکلات کھڑی کرتی ہے جو اس معاشرے سے تربیت لیے مردوں کے خود ساختہ دینی اصولوں کی قید میں ہیں۔
عورت کی آزادی کا مقصد اس کی تعلیم و تربیت ’نظریاتی آزادی اور اس سے بڑھ کر ان کی ضروریات زندگی کو تسلیم کرنے کی ہے۔
اس تحریک میں جب تک مرد ہمارا ساتھ نہیں دیں گے عورت کچھ بھی نہیں۔ باپ ’بھائی‘ بیٹا ہماری پہچان ہے اور ہم ان کی شان۔


