تقسیم اور ”صفر“ کا سفر
ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ میں اداروں اور پارلیمانی روایتوں کی ”تقسیم“ کے بھیانک کھیل کی ابتدا یوں تو جنرل پرویز کیانی کے آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا نے عمران خان کی صورت میں جہادی فکر جنرل حمید گل کے جہادی فلسفے کے تحت کر دی تھی، جس کو بعد میں جنرل ظہیر الاسلام نے اپنی سر کردگی میں پروان چڑھا کر تحریک انصاف کے عمران خان اور ان کے اشرافیائی کزن مولوی طاہر القادری کی مدد کے ذریعے 2014 کا دھرنا کروایا جس کی کمک فراہم کرنے میں اس وقت کے جی او سی برگیڈیئر فیض حمید نے مکمل مدد اور وسائل فراہم کیے ، بظاہر تو اس دھرنے کی وجہ 2014 کے چار حلقوں میں دھاندلی کو بتایا گیا تھا، مگر بعد کے حقائق کے سامنے آنے کے بعد عمران خان کے ان الزامات میں کوئی دم خم نہیں تھا، بلکہ اس دھرنے کے تحت اس وقت کی آئی ایس آئی کے منصوبے میں عمران خان کو ایک ہیرو کے روپ میں پیش کرنا اور ملک کے سیاسی اقدار و روایت کے بر خلاف ایک ایسا ”فیبرک“ تیار کرنا تھا، جو 2000 کے بعد کی نسل کو سیاسی قدروں سے دور کر کے پروپیگنڈے اور جھوٹ کو ہی سچ جانے، اور ملک میں ”عوامی تقسیم“ کا یہ کام اشرافیہ کے تمام نمک خوار سیاستدانوں نے عمران خان کی ہیرور شپ میں کیا اور نئی نسل کو سیاسی و جمہوری تقاضوں سے دور رکھ کر ”شخصی عقیدہ پرستی“ کی لت میں ڈال کر ملک میں انتخابات میں تاریخی دھاندلی کر کے جنرل باجوہ کی سربراہی میں عمران خان کی حکومت بنائی جس نے ملک کو سیاسی اور معاشی ”تقسیم“ کے ایسے مرض میں مبتلا کیا کہ ”ہائبرڈ نظام“ کے زیر اثر ملک میں انصاف فراہم کرنے والی ”عدلیہ“ کو بھی تقسیم کر کے رکھ دیا، عمران خان کی اس بے وجہ ”تقسیم“ میں ملک کا عسکری ادارہ اور عدلیہ بھی اب تک ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
ملک میں اداروں کے اندر تقسیم کے تین اہم کردار فیض حمید، باجوہ اور عمران خان اب تک کسی بھی صحت مند احتساب سے بچتے پھر رہے ہیں، جو کسی بھی طور احتسابی نظام کے قاعدے کے بر خلاف اور عوامی جمہوریت کے خلاف عمل ہے، ملک میں سماج کے تمام اداروں کی تقسیم کے ان تین مجرمان کو انجام تک پہنچانا آج کی اہم ضرورت ہے۔
توشہ خانہ سے اونے پونے دام پر تحائف خریدنے اور انہیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کے خلاف عدالت سے مسلسل غیر حاضری پر ناقابل ضمانت گرفتاری پر عمران خان کی کمرے میں عدم موجودگی اور گرفتاری سے بچنے کی دھوکہ دہی کی کوشش، دراصل عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کی وہ شرمناک عمل ہے جو ملکی قانون کی عملداری کو ایک بار پھر ”تقسیم“ اور طبقاتی فرق کی جانب لے جا رہا ہے، جو کسی بھی طور ’سماج کے‘ تقسیم اور در تقسیم ”کے عمل کو روک نہ پائے گی، لہذا لاہور ہائیکورٹ کو اپنے اوپر“ عمرانی چھاپ ”سے دور رکھنے کی اس سے بہتر کوشش یا انصاف کوئی نہ ہو گا کہ وہ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کو قانون کے مطابق ہونے دیں وگرنہ، ان مذکورہ عوام دشمن، آئین و قانون دشمن اور تہذیب و شائستگی کے دشمن کرداروں سے پورا سماج“ تقسیم ”ہو کر ڈھے جائے گا اور پھانسی دلوانے اور آئین شکن آمر کو بچانے والا لاہور ہائی کورٹ خود اپنی تقسیم سے پھانسی چڑھ جائے گا۔
تاریخ، دانش اور حساب کے قاعدے میں ویسے بھی سب سے ضرر رساں کردار ”تقسیم“ کاہی ہوتا ہے، تقسیم انسانی ہو، سرحدی ہو، خاندانی ہو یا سماج کے مختلف مکتبہ فکر یا سوچ کی، تقسیم کے فارمولے میں ہمیشہ نتیجہ نقصان ہی کی صورت میں نکلتا ہے، حساب کے قاعدے میں تقسیم کا اختتام بالآخر صفر پر ہی ختم ہوتا ہے، لہذا حساب کتاب کے ماہرین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دیوالیہ ہونے کے ہندسے یعنی صفر کی طرف نہ ہی جائیں تو بہتر ہے مگر ہماری معزز عدلیہ ہے کہ اپنے وقار و حرمت کو مسلسل دیوالیہ کرنے کے در پہ ہے، اگر یقین نہ آئے تو عدلیہ کے نظریہ ضرورت کی داستان کا جائزہ 1960 سے لینا شروع کر دیں تو آپ جسٹس منیر کے ایک آمر جنرل ایوب کی غیر جمہوری حکومت کو جائز قرار دینے سے لے کر آج کے جدید دور میں لاہور کے منحرف ارکان کے خلاف وہ فیصلے دیکھ لیں کہ جن میں آئین کی تشریح کے مقابل عدلیہ کی جانب سے آئین کو اپنی خواہش پر از سر نو لکھنا ہے، حالانکہ آئین بنانا اور قانون سازی کا کام جمہوری ریاست میں پارلیمان کا ہی ہوتا ہے اور رہا بھی ہے۔
تاریخ کے اکثر ”دانا“ تو خطوں کی تقسیم کے خیال کو بھی درست عمل نہیں سمجھتے، ان کے خیال میں خطوں کی تقسیم بنیادی طور سے انسان کے خیالات سے لے کر ان کے ادب، تہذیب زبان، رسم و روایت، ان کے دلوں اور احساسات کی تقسیم کا وہ بھیانک حادثہ ہوتا ہے جو صدیوں تک ان کی نسلوں میں احساس محرومی اور ذہنی اپاہجگی کا ذریعہ بنا رہتا ہے، جس سے نسل در نسل چھٹکارا پانا نا ممکن سا عمل بن جاتا ہے۔
ان داناؤں کے خیال میں ایک دوسرے سے جڑت اور دکھ سکھ کا ساتھ ہی بقائے باہمی اور استحصال سے نجات کا وہ عالمگیر نظریہ ہوتا ہے جو انہیں حملہ آوروں کے ظلم و تشدد یا ان کی لوٹ مار سے بچانے کا ذریعہ ہوتا ہے، اسی بنا ہمارے بہت سے تاریخ دان بر صغیر کی تقسیم پر بھی یکسو یا ایک رائے نہیں رکھتے۔ بادی النظر میں ہر سماج میں تقسیم کے ہر اس عمل کی مخالفت کی جاتی ہے جس میں انسانی تقسیم گروہ قبیلہ یا کسی بھی لسانی اکائی کو جنم دے یا تقسیم کا کوئی بھی عمل سماج میں سیاسی یا معاشرتی دوری یا دوئی کا سبب بنے۔
اس دلیل کے تحت ہی دنیا میں ”سوشلسٹ سائنسی نظریے“ کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور انسانی سماج کو جوڑنے کے لئے اٹھارہویں صدی میں ”کمیونزم“ کا ایک ایسا عالمگیر نظریہ لایا گیا جو سماجی اور سیاسی طور سے انسانوں کی جڑت کا کام کرے اور انسانی تقسیم کے تمام منفی نظریوں کا متبادل ہو سکے۔ کمیونزم نے جہاں انسانی سماج میں سیاسی سوچ کو پختہ کرنے کا کام کیا وہیں سوشلسٹ نظریے نے انسانوں میں معاشی برابری اور طبقاتی اونچ نیچ کو بھی یکسر ختم کرنے کا واضح پیغام دیا، مگر انسانی تقسیم کے کھیل میں لالچ سے بھری بے ہنگم سرمایہ داری نے انسانی احساس کے مقابلے میں مارکیٹ معیشت کا پر فریب نعرہ دیا اور دنیا کے انسان کو سیاسی معاشی اور سماجی طور سے تقسیم کر کے دنیا کو ”مفاد پرستی“ کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جہاں علم، تہذیب، ثقافت، اخلاق اور ادب ایک بے وقعت چیز بنا کر رکھ دی گئی ہے اور اس کے مقابلے میں طبقاتی اور گروہی مفاد نے جگہ لے کر پوری دنیا کے عظیم انسان کو تقسیم در تقسیم کے گورکھ دھندے میں دھکیل دیا ہے۔
آج کل ہمارا ملک پاکستان بھی ”تقسیم در تقسیم“ کے ایک ایسے تکلیف دہ عمل سے گزر رہا ہے کہ پچھتر برس سے ہم اب تک سیاسی اور سماجی سمت کا تعین ہی نہیں کر سکے ہیں، ہماری سیاست اور سماج کو سمت فراہم کرنے کا انصاف بر مبنی نظام ایک ایسی ”ؑعمرانی فتنہ گری“ میں مبتلا کر دیا گیا ہے جس کی بدولت ہمارا نظام عدل ازخود ایک سوالیہ نشان بن کر تقسیم کی طرف رواں دواں ہے، حالیہ دنوں میں ہماری اعلی عدلیہ کے فیصلے اور ان کے نتیجے میں عدلیہ کی تقسیم بہت زیادہ زیر بحث موضوع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر سنجیدہ فکر نہ صرف پریشان ہے بلکہ انہیں اس کا ملال ہے کہ عدلیہ کی تقسیم اور انصاف کی منصفانہ فراہمی نہ ہونے سے سماج کی تقسیم نہ بڑھ جائے جو بعد کو اداروں کی تقسیم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہوئی ریاستی تقسیم کے خطرناک کھیل تک نہ پہنچ جائے، اس خدشے کے پیش نظر سنجیدہ حلقون کی کوشش ہے کہ سماج اور ملکی سیاست کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے دور رکھا جائے اور ایک ایسی فضا قائم کی جائے کہ سماجی اور سیاسی تقسیم کا نہ صرف تدارک ہو سکے بلکہ تقسیم کا یہ منفی رجحان جتنا جلد ہو ختم کیا جائے۔
سیاست میں اختلاف ایک صحت مند روایت کے طور پر جانا گیا ہے، اور دلیل کے مقابلے میں دلیل کے ہونے کو ایک امید افزا خیال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر جب سماج یا انسانی جسم میں مرض کی تشخیص کیے بغیر انہیں تجربات کی بھٹی بنا دیا جاتا ہے تو اس سماج یا جسم کا انجام آخر کار موت پر ہی ختم ہوتا ہے، آج کی سیاسی اور معاشی بے ابتری کی صورت حال میں ہمارے سماج کی ہر سمت سسکتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور ”ہائبرڈ نظام“ کی نا تجربہ کار ”عمرانی معاشی تباہی نے وہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ آج عام فرد کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا دشوار ترین عمل بنا دیا گیا ہے۔
اس معاشی اور سیاسی تباہی میں سب سے زیادہ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب 2014 کے دھرنوں کے دوران ریاست کی غیر منتخب طاقتور قوتوں نے اپنے غیر ترقی یافتہ مفادات کے لئے“ ہائبرڈ نظام ”ملک پر مسلط کر کے پاکستان میں“ سی پیک ”کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کو “ عمرانی فتنے اور دھرنوں ”سے نہ صرف تبدیل کرنا چاہا بلکہ دوست ملک چین کے صدر کو اپنے پر تشدد دھرنوں کے ذریعے دورہ نہ کرنے پر مجبور کیا، یہی وہ منافقانہ طرز عمل تھا جب ملک کے“ عدل ”کا نظام خاموش تماشائی کی صورت میں ملک کی تباہی کے ان دھرنوں پر کچھ نہ بولا اور ملک میں رینگتی جمہوریت اور سیاسی آزادی میں“ عمرانی فتنہ ”عدم برداشت، تشدد اور شخصی عقیدہ پرستی کا زہر گھولتا رہا اور اس حد تک نوجوان نسل کو بے قابو کیا گیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایس پی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا مگر ہمارا“ عدل انصاف ”بے پرواہ ہو کر خواب غفلت میں پڑا رہا۔
عدل کے خاموش تماشائی کے کردار کا سب سے بھیانک پہلو 2018 کے عام انتخابات کے نتائج اپنی مرضی و منشا سے لانے اور ملک بھر میں مکمل دھاندلی پر سیاسی جماعتیں اور عوام چیختی رہی مگر ہماری عدلیہ خاموش تماشائی کے طور پر طاقتور قوتوں کے سامنے بت بنی رہی اور سماج“ عمرانی فتنے ”کے سپرد کر کے سماج کی تمام اخلاقی اور سیاسی قدروں کو تہس نہس کر تا رہا، پھر جب“ ہائبرڈ نظام ”اپنی ناکامی پر پہنچا تو ’عمرانی ٹولے“ کو آئینی راستے سے ہٹایا گیا، جس پر حمید گل مائنڈ سیٹ کے تحت برسوں کی محنت سے تراشے گئے ”عمرانی فتنے“ نے ملک کی اخلاقی سماجی، معاشی اور سیاسی چولیں ہلا دیں اور اپنی انا و تسکین کو خوش کرنے کے لئے بد حال معاشی صورتحال میں بغیر کسی سیاسی وجہ یا ابتری کے دو صوبوں کی اسمبلیاں وقت سے پہلے توڑ ڈالیں اور مسلسل ”انتخابات“ کرانے کے مطالبے کو عدلیہ کے در تک پہنچا کر ملک کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال سے پھر کھیلنے کی کوشش کی اور پورے ملک کی عوام نے دن کی روشنی میں عدلیہ کی مدد اور حمایت دیکھی۔
اس دوران ملکی تاریخ میں نئی نسل نے ”عدلیہ کی تقسیم“ کا بھیانک منظر بھی دیکھا کہ عدلیہ نے اپنے ادارے کے سینیئر ججز کے بجائے پنی مرضی و منشا کا نو رکنی بنچ تشکیل دیا جس کی ہیلی ہی سماعت میں چار معزز ججز نے بنچ کی تشکیل اور سوموٹو پر سوال اٹھا دیے، اس دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ نو رکنی بنچ اختلافات کی بنیاد پر پانچ رکن تک محدود ہوا، مگر نجانے ملک کی معاشی اور سیاسی ابتری سے زیادہ وہ کون سی آئینی مجبوری تھی کہ چار روز کی چند گھنٹوں کی سماعت کے بعد دو صوبوں میں انتخابات کرانے کا فیصلہ دیا گیا، جبکہ انتخابات سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا کوئی شخص اپنی انا و مرضی کے تحت پانچ برس کی منتخب اسمبلی کو محض ”ہٹ دھرمی اور ضد“ پر توڑ سکتا ہے، جان بوجھ کر زیر بحث ہی نہ لایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ دو صوبوں میں انتخابات بھی ہو جائیں گے، حکومت بھی تشکیل پا جائیں گی، مگر آئندہ اکتوبر نومبر میں قومی اور دو صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے لئے کس آئین کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگراں حکومتیں قائم کی جائیں گی جو کہ ان مذکورہ صوبوں میں قومی اسمبلی کے منصفانہ انتخابات کرائیں گی؟ کیونکہ آئین میں تو عام انتخابات کے لئے نگراں حکومت کا قیام آئینی ضرورت ہے۔ اس ساری سیاسی اور ابتر معاشی صورتحال میں تقسیم در تقسیم بنی ہوئی عدلیہ آئندہ آنے والے سیاسی بحران پر کیسے قابو پائے گی، اس سوال کا جواب نظام عدل کے موجودہ ذمہ داروں سے جنتا ضرور چاہتی ہے۔


