ترک وطن: مجبوری یا ضرورت؟


بے سکونی ایسی کیسی خوفناک کیفیت کا نام ہے جو انفرادی اور اجتماعی طور پر انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ اس کی زد میں فرد واحد ہو یا معاشرہ، دونوں ہی اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ اگر امن اور شانتی ہو تو پھر ہر قسم کے طوفانوں کا سامنا کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر بے سکونی کی تیز ہوائیں چل رہی ہوں تو پھر چھوٹا ہو یا بڑا، محفوظ پناہ کی تلاش میں گھر سے راہ فرار اختیار کر تا ہے۔ آج بھی ایسی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ ”فلاں بچہ“ گھر سے بھاگ گیا۔

کہاں گیا، کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔ پھر اس کی نعش کہیں سے ملتی ہے۔ ایسے واقعات گھریلو بے سکونی کی بدولت جنم لیتے ہیں۔ زیادہ تر وجوہات اندرونی مسائل ہوتے تھے، ان میں سب سے بڑی وجہ غربت، مالی تنگی ہوتی تھی۔ مالی تنگی سے جنم لینے والے مزید دیگر مسائل بھی ہوتے تھے۔ جن میں ایک خودکشی بھی ہے۔ بھوک و غربت کی وجہ سے خودکشیوں کے واقعات آئے روز اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اسی طرح سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ کے مظالم، ماں باپ کی آپس کی ناچاقی، روز روز کے لڑائی جھگڑے گھروں سے بھاگنے کی بنیادی وجوہات ہوتی تھیں۔ اب معاملہ گھر سے نکل کر ملک سے بھاگ جانے تک پہنچ چکا ہے۔ موجودہ حکمرانوں اور اشرافیہ کا کردار سوتیلے ماں باپ جیسا ہو چکا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ،
جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ

 انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے

گھروں کے بعد اب پاکستان کے طول و عرض میں بے سکونی کی لہر جنم لے چکی ہے۔ جو تیزی سے پاکستانیوں کو نگل رہی ہے۔ اس کی ایک مثال اٹلی کے ساحل پر حالیہ کشتی کا حادثہ ہے۔ اس حادثے میں بہت سے پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں ہیں۔ کشتی ڈوبنے والوں میں پشاور چھاؤنی کا ایک چودہ سالہ لڑکا اذان آفریدی بھی شامل تھا۔ پانچ دن لاپتہ رہنے کے بعد تیسرے آپریشن میں اس کی نعش ملی۔ لڑکے کی ماں کی حالت غیر ہو چکی ہے۔

اذان ساتویں کلاس کا طالب علم تھا اور یورپ پہنچ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے انجینئر بننا چاہتا تھا۔ اسی حادثہ میں سابق پاکستانی ہاکی ٹیم کے سٹار کھلاڑی شاہدہ رضا کی بھی ہلاکت ہوئی جنہوں نے اپنے تین سالہ بیٹے کے علاج اور اس کی زندگی بچانے کے لئے یہ غیر قانونی اور پرخطر راستہ اختیار کیا، کیونکہ ان کو پیسے کی ضرورت تھی اسی کوشش اور خواہش میں موت کی وادی میں اتر گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور بچے کا علاج پاکستان میں کیوں ممکن نہ تھے؟

پاکستانی غیر قانونی طریقے سے یوں ملک سے بھاگنے پر کیوں مجبور ہو رہے ہیں؟ اس کے لئے ناجائز اور خطرناک ترین راستے کیوں اختیار کیے جا رہے ہیں جو موت کی وادیوں سے گزرتے ہیں۔ یہ ہماری واحد ترقی ہے جو گزشتہ 75 سالوں میں ہم نے اجتماعی طور پر کی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے ہسپتالوں، اداروں، اعلیٰ کلیدی پوسٹوں، تھانوں، تعلیمی اداروں سبھی پر چوہدریوں و وڈیروں، سیاسی خاندانوں سمیت بگڑی اشرافیہ اور طاقتوروں کا قبضہ ہو چکا ہے۔

غریب، مسکین، کمزور کے لئے کہیں بھی کچھ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ معاشرہ میں اگر محض کفر ہوتا تو شاید ایسا برا حال نہ ہوتا لیکن ظلم اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہر طرف موت کا رقص ہی دکھائی دیتا ہے۔ بدحالی کے سیاہ سائے ہر سو پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مایوسی کی باتیں نہیں ہیں بلکہ کڑوے حقائق ہیں جن کا سامنا ہے۔ جس سے سبھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان کو اسلامی ملک کے نام سے پہچانا جاتا ہے جب کہ معمولی سے بھی اسلامی جھلک کہیں دکھائی نہیں دیتی، فرقہ بازی کے نمونے جا بجا ملتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی خوشحالی اور سالانہ اربوں ڈالر کی پاکستان ترسیل سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی اور پاکستانی اسلامی معاشرے میں کیا اور کتنا فرق ہے۔ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ مغربی معاشرے میں مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری مل جاتی ہے۔ اسلام خود غرضی پر یقین نہیں رکھتا لیکن آج یہ مرض پاکستان کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ پس مذہبی امتیازی قوانین، مذہبی منافرت، سیاسی انتقامی کارروائیوں کے بعد غربت، سماجی نا انصافی اور عدل کا فقدان اہم وجوہات ہیں، جو پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ نیلسن منڈیلا کا قول ہے کہ غربت کو عدل سے ختم کیا جا سکتا ہے اور عدل کا تو ہمارے ہاں کہیں نام و نشان نہیں ہے۔

Facebook Comments HS