زندگی کا فلسفہ
زندگی ایک پزل ہے۔
زندگی ایک سٹیج ہے۔
زندگی ایک قید ہے۔
زندگی ایک خواب ہے۔
زندگی پھول ہے۔
زندگی کانٹا ہے۔
یہ سب سنتے محسوس کرتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ آپ کیا ہیں آپ کیا چاہتے ہیں آپ کے جذبات کیا ہیں؟ یہ شاید ہم کبھی سمجھا نہیں پاتے یا سمجھ ہی نہیں پاتے۔ یونہی ان سے بحث و تکرار میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہم بطور انسان جو خود کو مضبوط سمجھتے ہیں ہم سے زیادہ کمزور شاید ہی کوئی مخلوق ہو۔ ہم جو ہیں، جیسے ہیں کبھی قبول ہی نہیں کر پاتے ہم ایک خول میں رہتے ہیں اور اس خول کو کبھی توڑ نہیں پاتے نہ کبھی ہمت جٹا پاتے ہیں اور اگر کبھی ہمت کر بھی لیں تو باغی کہلاتے ہیں۔
دیکھا جائے تو معاشرے کے اصول ہم نے اپنی آسانی کے لیے بنائے تھے لیکن یہی اصول آج پھندہ بن چکے ہیں جو آپ کا جینا محال کر رہے ہیں اور آپ آسانی سے اس چکر میں گھومتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم انسان کبھی اپنے جذبات کا بیان ہی نہیں کر پاتے کبھی رونے کا دل ہے تو کسی کے سامنے بیٹھ کے رو نہیں سکتے کیوں کہ کہا جاتا ہے رو مت بزدل لوگ روتے ہیں ’ہنسو‘ اور اگر کبھی غلطی سے ہنس دیا جائے تو کہتے ہیں اتنا ہنسنا اچھا نہیں ہوتا دل مردہ ہو جاتے ہیں۔
کسی سے نفرت ہے تو کھل کے نفرت کا اظہار نہیں کر پاتے منافق بنے رہتے ہیں کسی سے پیار ہے تو کہہ نہیں پاتے انا درمیان میں آ جاتی ہے۔ اگر کسی سے تعلق نہیں رکھنا چاہتے تو زبر دستی نبھاتے ہیں چھوڑ نہیں پاتے۔ دنیا میں دلچسپی نہیں ہے تو مردہ دل کیوں کہلاتے ہیں کیا دل کے مردہ ہونے پہ آپ زندہ رہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں کرنی کسی سے محبت نہیں چاہیے کسی کا ساتھ تو کیوں زبردستی مسلط کیا جاتا ہے؟ اگر رحم دل ہیں تو کیا اس خوبی کا فائدہ ناجائز اٹھانا ضروری ہے؟
کام کا دل نہیں ہے تو دل میں کڑ کڑ کے مر جاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہہ پاتے کہ نہیں کر سکتے اور اگر کام کرنا مصروف رہنا پسند ہے تو کیا لالچی کہلایا جانا ضروری ہے؟ اگر غلطی کر بیٹھے ہیں تو غلطی چھپانے کے لیے سو جھوٹ اور لاد دیتے ہیں۔ سچ بولنے کی طاقت نہیں رکھتے کبھی مروت میں کبھی خوف سے کبھی عادتاً۔ تو کون کہتا ہے کہ انسان ڈر نہیں رکھتا ساری زندگی ڈر میں گزار دیتے ہیں کبھی لوگوں کے رویوں سے کبھی عزت کے چکر میں کبھی انا میں کبھی خود غرضی میں اور اس پر ایک اور ٹھپا لگ جاتا ہے کہ تعلیم حاصل کر کے ادب نہیں آیا کیا جذبات کا اظہار ادب ہے؟
شاید معاشرے کی نظر میں جذبات کا اظہار کر دینا بے ادبی ہے تو اسی ادبی لبادے کو اوڑھے آپ زندگی کو قید بنا لیتے ہیں اور یہ قید اپنی گرفت اتنی مضبوط کر لیتی ہے کہ اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس کرتے ہیں، جینا محال ہو جاتا ہے۔ ایک دن بھی آپ اپنی پسند کا نہیں گزارتے ہیں کبھی اپنی پسند کا دن گزار کے دیکھیں زندگی آپ کو زندگی لگے گی اور ہاں جس کا ڈر رکھنا تھا اس ذات کا ڈر ہی کبھی نہیں رکھا کہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ سب دیکھ رہا ہے اپنی زندگی میں کسی کو اتنا اختیار کیوں دیں کہ وہ آپ کو اپنے مطابق چلانا شروع کر دے۔
زندگی خوبصورت ہے اگر دنیا کے خوف سے پاک گزاری جائے کیوں کہ زندگی میں، لوگوں میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں ذات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اپنا مقصد کھو بیٹھتے ہیں کیوں اس دنیا کو ہی ابدی سمجھ لیتے ہیں زندگی میں سب کو سب کچھ نہیں ملتا اگر نہیں ملتا تو وہ حقیر نہیں ہے بلکہ یہی زندگی کا فلسفہ ہے۔ ادھورے خواب اور خواہشات زندگی کے لمحات کو خوبصورت بناتے ہیں۔ جستجو ہی زندگی کا خاصہ ہے۔
جب خواہشات پوری ہونا شروع ہو جائیں تو زندگی میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے وہ لذت کھو جاتی ہے باقی نہیں رہتی جس پر کہا جائے ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ جب یہ ساری چیزیں، جذبات جنہیں آپ دبائے رکھتے ہیں اکٹھے کرتے رہتے ہیں تو یہ آپ کو اندر ہی اندر نگل جاتے ہیں۔ زندگی خوبصورت ہے آزادی ہے کھل کر جینے کا نام ہے اگر اس کو جینے کی کوشش کی جائے۔ زندگی کسی حد تک ایک پزل ہے اور پزل حل ہو جایا کرتے ہیں۔


