خئی : پشتون روایات پر مبنی انتقام کی کہانی

خئی خیبر پختونخوا کے حسین منظرنامے پہ اس زمین کی روایاتی کہانی ہے۔ سید وجاہت حسین کی ہدایت کاری اور سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کے تحت اسد قریشی اور عبداللہ کا دوانی کے پروڈیوس کردہ اس ڈرامے کی مرکزی کاسٹ میں درفشاں سلیم، فیصل قریشی، اسامہ طاہر، خالد بٹ (مرحوم) اور نور الحسن سمیت دیگر شامل ہیں۔

دو بڑے زمین داروں کی زر، زمین اور زن کے درمیان جنگ ہے۔ ، ایک کی قیادت دراب خان (مرحوم خالد بٹ) اور دوسرے کی قیادت درویش خان (نور الحسن) کر رہے ہیں۔ کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ دراب نے درویش کے والد کو قتل کر دیا تھا اور اسے درویش اور اس کے بیٹوں سے انتقام کا خوف ہے۔ تاہم، درویش، جو 25 سال سے زائد عرصے سے بیرون ملک مقیم ہے، واپس آ کر صلح کی پیشکش کرتا ہے۔ تعلیم انسانی مزاج کو دھیما کر دیتی ہے۔ تعلیم یافتہ انسان امن کا خواہ ہوتا ہے اس لیے درویش خان نے کوشش کی کہ سالوں پرانی دشمنی کو بھول کر آگے بڑھ جائے اور علاقہ امن کا گہوارہ بن جائے تا کہ نسلیں تباہی سے بچ جائیں۔

Read more

سیپ کا موتی

یہ کہانی ہے اس لڑکی کی جس کی زندگی خوف اور خدشات سے گھری ہے جس کی زندگی بے بسی کی کہانی ہے جس کی زندگی سوائے محرومیوں کے کچھ نہیں۔ حساس اتنی کے چڑھتے بادل سے ڈر جائے اور کبھی اتنی بہادر کہ تنہا راہوں میں نکل جائے۔ انہیں محرومیوں نے اس کو بالکل بچہ بنا دیا جس کو ہلکا سا ڈانٹ دیا جائے تو گھنٹوں روتا رہے یا پھر اگر پسندیدہ چیز نہ ملے تو وہ کسی چیز

Read more

زندگی کا فلسفہ

زندگی ایک پزل ہے۔ زندگی ایک سٹیج ہے۔ زندگی ایک قید ہے۔ زندگی ایک خواب ہے۔ زندگی پھول ہے۔ زندگی کانٹا ہے۔ یہ سب سنتے محسوس کرتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ آپ کیا ہیں آپ کیا چاہتے ہیں آپ کے جذبات کیا ہیں؟ یہ شاید ہم کبھی سمجھا نہیں پاتے یا سمجھ ہی نہیں پاتے۔ یونہی ان سے بحث و تکرار میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہم بطور انسان جو خود کو مضبوط سمجھتے ہیں ہم سے زیادہ کمزور شاید

Read more

اختر الایمان کی نظم ”مسجد“ ایک جائزہ

اختر الایمان جدید اردو شاعری کے ایسے منفرد و ممتاز شاعر ہیں، جن کی شاعری جدید اردو ادب میں ایک مستقل عنوان کی حیثیت رکھتی ہے۔ نہ صرف ان کے شعری تجربے بلکہ ان کی نظموں کی تکنیک نے بھی پوری جدید اردو شاعری کو متاثر کیا ہے۔ ان کی شاعری کا بنیادی رویہ تہذیب اور معاشرے میں سماجی اور نفسیاتی اقدار کی کشمکش اور تصادم سے عبارت ہے۔ شکست و ریخت اور داخلی و خارجی ہیجانات کے عہد میں اختر الایمان نے انسانی زندگی میں نا برابری، ذہنی دباؤ اور جذباتی تنہائی کے تجربوں کو شعری پیکروں میں ڈھال کر اردو شاعری کو ایک نئے تجربے سے روشناس کرایا ہے۔

Read more

لوگ کیا کہیں گے

لوگ کیا کہیں گے اس جملے کی بازگشت ہر وقت ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ آج انسان اس نہج پر ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کام کا انجام سوچنے کے بجائے یہ سوچتا ہے لوگ کیا کہیں گے؟ یہ جملہ صرف جملہ نہیں رہا بلکہ نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ کوئی اپنے لباس میں تبدیلی چاہتا ہے کوئی اپنا طرز زندگی بدلنا چاہتا ہے اولاد شادی کے قابل ہے والدین پریشان ہیں کوئی پسند

Read more

بدلتے رنگ

محسوس کرنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں کہ سکوت کا اپنا ہی ایک شور ہوتا ہے جیسے کوئی سرگوشیاں کر رہا ہو، ان سرگوشیوں کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا یہ سرگوشیاں گمنام ہوتی ہیں بس انہیں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی تاریکی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے تاریکی کی اپنی ہی ایک جوت ہوتی ہے جو دکھائی نہیں دیتی مگر آنکھوں کو بڑی بھلی لگتی ہے۔ شاید اسی لیے وہ

Read more

ندامت

اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اس پر یہ سوچ قبضہ جمائے رکھتی جب بھی یہ سوچ اس پر حاوی ہوتی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی تیز نوک دار ہتھیار اس کی کھوپڑی میں جا دھنسا ہو اس کا جسم کانپ اٹھتا۔ بدن کے ایک ایک حصے سے پسینے کے قطرے لپک کر باہر بہنے لگتے۔ اس نے سر کو جنبش دی عین اسی وقت اس کے ذہن کی سکرین پہ ایک سالہ نور اور اس کی ماں عالیہ کا عکس ابھرا۔ عالیہ، نور کو سلا نے کی کوشش کر رہی تھی اور نور سونے کے بجائے عالیہ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ اس خیال کے آتے ہی اس کے جسم کا تناؤ بڑھ جاتا۔ میرا وارث میری زندگی کا سہارا یہ خیال اس کے دماغ کو نچوڑ کر رکھ دیتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ سوچوں اور خیالوں سے کیسے پیچھا چھڑا یا جائے اگر انسان پیچھا چھڑا نا بھی چاہے تو نہیں چھڑا سکتا۔ کہیں یہ سوچیں مجھے شکست نہ دے دیں۔

Read more

رحمان کے جوتے: حقیقت پسند افسانہ

راجندرسنگھ بیدی اردوادب کے افسانہ نگاراور ڈرامہ نویس ہیں۔ وہ 1915ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا پہلا افسانہ ”بھولا“ ہے جو 1936ء میں شائع ہوا۔ بیدی کے افسانوی مجموعے ”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دانہ و دوام، گرہن، کوکھ جلی، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے اور مکتی بود“ ہیں۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری کو ایک مضبوط ستون فراہم کیا۔ راجندر سنگھ بیدی ترقی پسند تحریک سے اس

Read more