خواتین کا عالمی دن اور چند گزارشات


آٹھ مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا گیا۔ سوشل میڈیا پر مردوں اور عورتوں کی طرف سے ملی جلی تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ کچھ مردوں نے اس دن کو منانے کی مخالفت کی تو کچھ مردوں نے اس کے حق میں لکھا۔ خواتین نے بھی حسب استطاعت اپنے اپنے نکتہ نظر سے لکھا۔ میں نے محترمہ آصفہ عنبرین قاضی صاحبہ کی ایک تحریر پڑھی جس میں آج کی عورت کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان مسائل کو بغور دیکھا جائے تو بالکل جائز مسائل ہیں اور ان پر بات بھی کی جانی چاہیے۔

مگر میں ایک مختلف زاویے سے ان مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ خواتین کو درپیش عمومی مسائل کا جائزہ لیں تو یہ بنیادی طور پر دو نوعیت کے ہیں۔ پہلے نمبر پر عورت کو درون خانہ مسائل ہیں۔ جبکہ دوسری نوعیت بیرون خانہ مسائل ہیں۔ جن میں بازار میں یا ورکنگ پلیس پر نامناسب رویے قابل ذکر ہیں۔ میرا موضوع اول الذکر مسائل کے حوالے سے چند نکات کی نشاندہی کرنا ہے۔ عورت کے مسائل میں سے بہت سے مسائل ایسے ہیں جو اس کی انا اور سسرال سے بے جا مقابلہ اور ضد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

عورت کو بطور عورت (چاہے وہ بہو ہے، بیٹی ہے، ساس ہے یا نند) تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اور میں اپنی تحریر پڑھنے والی تمام عورتوں سے التماس کروں گا کہ گھروں میں ہر عورت اپنے دائرہ کار میں رہے اور کسی کے معاملات میں بے جا مداخلت اور الزام تراشی سے گریز کرے۔ اگر آپ بہو ہیں تو ساس کے بارے میں خاوند کو گمراہ نہ کریں۔ اگر آپ ساس ہیں تو بہو کو قبول کریں اور اپنے بیٹے کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں اسے بیوی سے بدظن مت کریں۔ اگر آپ نند ہیں تو یہ بات طے ہے کہ آپ کو میکہ چھوڑ کر سسرال جانا ہے۔ میکے میں اپنے معاملات ایسے رکھیں کہ جب آپ آئندہ میکے میں آئیں تو آپ کو خوشی اور راحت ملے اور آپ کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا جائے۔

جہاں تک خرچہ نہ دینے یا کم خرچہ دینے کی بات ہے تو یہاں مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق گھر والوں کے لیے راحت کے اسباب پیدا کرے۔ خرچہ نہ دینا بالکل جہالت کی انتہا اور ظلم ہے۔ کم خرچے کی بات توجہ طلب ہے اس حوالے سے خاتون خانہ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کے خاوند کی معاشی استعداد کیا ہے کیوں کہ آج کی مہنگائی کے زمانے میں معاشی تنگی انتہا پر ہے اور مرد گونا گوں مسائل کا شکار ہے۔ اس لیے اخراجات کا تقاضا آمدن کے حساب سے رہے تو مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ یہاں خواتین سے یہ استدعا کرنا بھی ضروری ہے کہ کفایت شعاری سے معاملات چلائیں تاکہ مسائل کم سے کم ہوں۔ فضول رسوم اور دکھاوے پر خرچ کرنے سے گریز کریں۔

ایک اور اہم بات جو نوٹ کرنے کی ہے۔ ایک مرد شادی شدہ زندگی میں کم سے کم تین نسوانی رشتوں ؛ ماں، بہن اور بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ تینوں رشتے اس کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں اور تینوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس مرد کے ساتھ تعاون کریں اور ہر ممکن طریقے سے آسانیاں پیدا کریں۔ اگر یہ تینوں رشتے آپس میں کسی کشمکش کا شکار ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ متاثر ان تینوں رشتوں سے جڑا مرد ہوتا ہے۔ اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ عورت جب عورت سے ٹکراتی ہے تو وہ اس بات سے لاتعلق ہو جاتی ہے کہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر کون ہو رہا ہے۔

اگر ایک ساس اپنی بہو سے بلاوجہ بیر پالتی ہے تو نتیجتاً متاثرین میں سب سے زیادہ اسی کا بیٹا متاثر ہو رہا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کے بیٹے کی آئندہ نسل یعنی بچے بری طرح متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان سب واضح حقائق کے باوجود مصالحت پسندی سے کام نہیں لیا جاتا۔ خواتین کی ان چپقلشوں نے مرد کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کم از کم خانگی معاملات میں عورت کی تربیت پر بھرپور توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اچھے خاندان کی بنیاد تربیت یافتہ اور باشعور عورت کے بغیر نا ممکن ہے۔ اس سے میری مراد ہر گز یہ نہیں کہ مرد دودھ کے دھلے ہیں اور ان کو تربیت کی ضرورت نہیں۔ مگر اس پہلو پر اگلی نشست میں گفتگو ہو گی کہ مرد کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ اور مرد کی تربیت کن خطوط پر کی جانی چاہیے جس سے خواتین کے درون خانہ اور بیرون خانہ مسائل میں زیادہ سے زیادہ بہتری لائی جا سکے۔

Facebook Comments HS