یاد رہے کپتان مکافات عمل کا شکار ہے

صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے اور یہ محض لفاظی نہیں اس کی عملی تصویر بارہا نظروں کے سامنے سے گزری ہے۔ غیبی کندھوں پر سوار وہ عظیم شاہ سوار جس کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ اس کی قمیض میں دو موریاں تھیں نے انٹرویو دیتے ہوئے اپنے محسن آرمی چیف کی شان میں وہ قصیدے پڑھے کہ الامان الحفیظ۔ ہم ایک پیج پر ہیں اور رہیں گے اس لیے سیاسی مخالفین 2028 تک انتظار فرمائیں۔ اقتدار کا نشہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سالوں کے منصوبے بنا لیتا ہے مگر اگلے پل کا پتہ نہیں ہوتا کہ اقتدار کا یہ سنگھاسن قائم رہے گا بھی یا نہیں
اور وہی کچھ ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اقتدار اور جوا کسی کا نا ہوا اور اس بار بھی اقتدار دائمی نا تھا اور محض چار سال کی مدت میں سیاسی بساط لپیٹ دی گئی۔ اور پھر واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنزلی کی ڈھلوان پر رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ انجام نوشتہ دیوار ہے سب سمجھ رہے ہیں کہ کیا ہو گا۔ لے دے کر چند ورکرز بچ گئے ہیں جو کسی روشن مستقبل کی امید لگائے اپنے قائد کے گھر کے باہر پہرہ دے رہے ہیں۔ یہ اتنے سادہ ہیں کہ جس عطار کے لونڈے کے سبب بیمار ہوئے ہیں اسی سے شفا کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ اس ساری مشق سے کیا حاصل ہو گا کیا بخشش ہو جائے گی کیا گنگا جل اشنان ہو جائے گا اور سارے پاپ دھل جائیں گے
کسی نے ٹھیک کہا تھا کہ حساب کتاب صرف حشر کے دن کے لیے ہی نہیں ہے بسا اوقات زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے۔ آج جس نظام کو بدلنے کی بات ہو رہی ہے جس نظام کی خامیاں گنوائی جا رہی ہیں کل تک اسی نظام کا حصہ بن کر تبدیلی کا نعرہ لگا کر تو ایوان اقتدار میں نقب لگائی گئی۔ کون نہیں جانتا کہ گزشتہ عام انتخابات میں کیسے امیدواروں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں کیسے سیاسی جماعتوں کی ٹکٹیں واپس کرائی گئیں۔
کیسے ریس میں دوڑنے والے سب سے آخری گھوڑے کو فاتح بنایا گیا۔ کل تک حصول اقتدار کی خاطر مندرجہ بالا گناہوں میں گردن تک لتھڑے ہوئے تھے آج جب اقتدار سے الگ ہوئے تو کیسے پاک صاف ہو گئے اب پاکی داماں کی حکایت یوں بھی بیان مت کریں سب خبر ہے کہ تر دامنی ایسی بھی نہیں کہ جب دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کرنے لگ جائیں
بہت غرور ہے ناں عوامی حمایت کا تو ذرا رک کر حقیقت کا جائزہ ہی لیتے ہیں۔ سندھ میں فارغ ہو گئے بلوچستان سے صفایا ہو گیا۔ پنجاب میں مقابلہ ہے اور بہت سخت مقابلہ ہے زیادہ امید نہیں کہ اقتدار میں آ سکیں لے دے کر کے پی کے رہتا ہے اس کا بھی عام انتخابات میں نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ چلیں سب دعوے درست مان لیتے ہیں اور الیکشن کی ضد کو بھی مان لیتے ہیں تو لگے ہاتھوں صوبائی الیکشن بھی ہونے جا رہے ہیں اس بار عدلیہ نہیں سول بیوروکریسی الیکشن کرائے گی اور اس ضمن میں ریٹرننگ آفیسرز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرز کے ناموں کا اعلان ہو گیا ہے۔ 30 اپریل کو پولنگ ہوگی۔
اب پڑھنے والوں سے سوال ہے کہ کیا ان انتخابی نتائج کو کپتان تسلیم کر لیں گے تو جواب سن لیں اور گرہ باندھ لیں کہ الیکشن کوئی بھی کرائے اور جیسے بھی کرائے اگر کپتان نہیں جیتا تو وہ کبھی بھی ان انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرے گا۔ تو پھر کیا ہو گا تو پھر یہی کچھ ہو گا جو اب ہو رہا ہے سیاسی انتشار، آئے روز کا سیاسی بحران اور افراتفری کی سیاست ہوگی۔ تو سوال یہ ہے کہ اس سارے مسئلے کا حل کیا ہے تو اس کا حل کسی کے پاس نہیں ہے۔ عمران پراجیکٹ ناکام ہو گیا اور اس منصوبے کی ناکامی کے نتائج تو بھگتنا ہوں گے۔ گویا سیاسی استحکام کے دن ہنوز دلی دور است کی طرح دور ہیں۔
بدنصیبی کہہ لیں یا پھر قسمت کا لکھا کہ نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں میں زندگی گزر رہی ہے سب کی باری لگ رہی ہے سب اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ سب قانون سے بالاتر ہیں سب ملک کے وفادار ہیں اور دوسروں کی نظر میں سب ملک دشمن ہیں۔ سب کے دن بدل گئے گھروں کی جگہ محلات نے لے لی اور گاڑیوں کی جگہ پر جہازوں میں سفر کرنے لگے مگر ایک غریب آدمی ہے کہ جس کو سستا آٹا خریدنے کے لیے آج بھی لائن لگنا پڑتا ہے۔ جس کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں ہیں مگر پھر بھی اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ٹیکس پر ٹیکس دیے جا رہا ہے۔
یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ مڈل کلاس پینے کا صاف پانی بھی خرید کر پینا پڑتا ہے۔ اچھی تعلیم کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اور علاج معالجہ نجی ہسپتالوں سے کرانا پڑتا ہے۔ پھر بھی وہ ٹیکس ادا کیے جا رہا ہے پتہ نہیں کس بات کے لیے ادائیگی کر رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس پر مزید نئے تجربات کیے جائیں اس کی امنگوں اور امیدوں کا مزید کھلواڑ کیا جائے۔ مزید قرض حاصل کیا جائے اور حکمران اشرافیہ مزید آسودہ زندگی بسر کرسکے۔
آخری سوال یہ کہ کیا نئے انتخابات سے مسائل حل ہوجائیں گے تو اطلاع ہو کہ کچھ بھی نہیں بدلے گا حالات جوں کے توں رہیں گے بلکہ مزید ابتر ہوں گے ہاں حکمرانوں کے چہرے شاید بدل جائیں۔ اور آخری بات کہ کیا کپتان اقتدار میں آئے گا تو فی الوقت کوئی امید بھی نا رکھے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ جو ایک غلطی ایک بار ہو گئی وہ بار بار ہوگی۔ فی الحال تو 2018 والی غلطی کے تاوان کے بھرنے کا وقت ہے اور اس میں مزید کئی سال لگیں گے۔ رہی بات کپتان کی تو یاد رہے کپتان کے دور اقتدار میں لاہور کے چوک یتیم خانہ پر جو کچھ ہوتا رہا وہی کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے کپتان مکافات عمل کا شکار ہے

