بوسنیا کی چشم دید کہانی (31).


سٹولک کی دنیا میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو ہر طرح کی تفریق سے بے نیاز ہر ایک کے لیے سراپا پیار اور خدمت تھی۔ یہ ہماری خادمہ فینا سپچ Fina Spich تھی۔ عمر زیادہ نہ تھی لیکن چونکہ اپنی عمر کو اپنی عمر کی طرح بسر کرنا اس کے نصیب میں نہ تھا، لہٰذا زندگی اپنی مشکلات کے نقوش اس کے چہرے پر رقم کر گئی تھی۔ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوڑھی دکھائی دیتی تھی۔ وہ سٹولک سے موسطار جانے والی سڑک کے کنارے قصبے سے ذرا ہٹ کر ایک چھوٹی سی آبادی میں اپنی ماں اور بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔

اس کا آبائی علاقہ مرکزی بوسنیا کا شہر وارش تھا۔ یہ ایک مسلمان اکثریتی علاقہ تھا۔ اس کی زندگی جنگ سے پہلے بھی حالت جنگ میں گزری تھی۔ شادی کے ایک سال بعد جب کہ اس کا بیٹا ابھی تین ماہ کا تھا اس کا خاوند اسے اکیلا چھوڑ کر جرمنی چلا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ فینا کی تعلیم چونکہ واجبی تھی لہٰذا اس نے کیفے باروں میں برتنوں کی صفائی کو اپنا وسیلہ معاش بنایا۔ وارش ایک چھوٹا شہر تھا۔ یہاں اس طرح کے کاموں کی اجرت بھی برائے نام تھی۔ چنانچہ وہ موسم گرما میں ایسے مقامات پر مزدوری کرنے چلی جاتی تھی جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ زیادہ تر تاریخی شہر دوبرونک کا انتخاب کرتی تھی جس کے مشہور ساحل پر آباد کیفے باروں میں اسے اچھی اجرت پر کام باآسانی مل جاتا تھا۔ اس کی ساری دنیا اس کا بیٹا ولیم تھا۔

پھر یوں ہوا کہ بوسنیا نسلی فسادات کی لپیٹ میں آ گیا۔ وارش میں آباد سرب اور کروایٹ خاندان یکے بعد دیگرے ہجرت کرنے لگے۔ فینا کے ساتھ اس کے گرد و نواح میں رہنے والے مسلمانوں کے رویے میں تو کوئی تبدیلی نہ آئی لیکن ایک دن جب کچھ نا معلوم افراد نے اس کے بیٹے کے ایک کروایٹ ہم جماعت کو سکول سے واپسی پر موت کے گھاٹ اتار دیا تو اسے یہ یقین ہو گیا کہ اس تشدد کا نشانہ کسی دن ولیم بھی بن سکتا ہے۔ لہٰذا اس نے بڑی بے چینی کی حالت میں اگلی صبح کا انتظار کیا اور پھر وارش سے بے سروسامانی کی حالت میں نکل کر اپنی ماں اور بیٹے کے ہمراہ سٹولک آ گئی۔ یہاں پر دوسرے کروایٹ مہاجرین کی طرح اسے بھی ایک اجاڑ گھر الاٹ کر دیا گیا۔ سٹولک میں اس کا تعارف لوینیا کے خاندان سے ہوا۔ اس کی ماں نے اپنی بیمہ کمپنی میں اسے صفائی کے کام کی ملازمت دلوا دی۔

سٹولک میں ہمارے اسٹیشن کے قیام کے بعد لوینیا کی سفارش پر ہمارے کمانڈر کرس نے اسے اسٹیشن کی صفائی کا کام سونپ دیا۔ UN کے قواعد کے مطابق اس طرح کے ملازمین عارضی ہوتے تھے۔ انھیں تین مارک فی گھنٹہ کے حساب سے اجرت ادا کی جاتی تھی اور ایک دن میں ان سے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کام لیا جا سکتا تھا۔ کرس ایک محتاط آدمی تھا۔ اس نے فینا کو صرف دو گھنٹے یومیہ کے لیے ملازم رکھا۔

انتظامی افسر ہونے کے ناتے مجھے یہ اختیار حاصل تھا کہ میں یہ رپورٹ دوں کہ کام کی نوعیت کے پیش نظر فینا کے اوقات کار کو بڑھانے کی گنجائش ہے کہ نہیں۔ میں نے کام کی نوعیت کی پرواہ کیے بغیر فینا کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے دوسرے مہینے اس کے کام کا وقت تین گھنٹے اور اگلے ماہ چار گھنٹے یومیہ کرنے کی سفارش کر دی۔ اس سلسلے میں کرس کو میں پہلے ہی اعتماد میں لے چکا تھا۔ فینا کو چار گھنٹے یومیہ دینے پر ریجن کی خاتون افسر انتظامیہ مسز نیلسن نے کچھ اعتراضات اٹھائے۔

یہاں جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز بنانے کا اپنا دفتری تجربہ کام آیا اور مسز نیلسن کے اعتراضات کا جواب تیار کر کے کرس کے دستخطوں کے ساتھ ڈاک کے سپرد کر دیا۔ ریجنل ہیڈ کوارٹر کی طرف سے اس موضوع پر مزید خط و کتابت نہ ہوئی۔ یوں فینا کو 360 مارک ماہانہ تنخواہ ملنے لگی جو اس کی ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔

فینا جس علاقے میں مقیم تھی وہاں اکثر پانی کی قلت رہتی تھی۔ اسے اپنی ضرورت کے مطابق پانی حاصل کرنے کی خاطر رات تین بجے اٹھنا پڑتا تھا۔ وہ کوئی ایک گھنٹہ تک پانی ذخیرہ کرتی۔ پھر پانچ بجے کے قریب اسٹیشن پہنچ کر صفائی کا کام شروع کر دیتی۔ سات بجے کے قریب وہ کام نمٹا کر ترجمانوں کے کیبن میں آ کر بیٹھ جاتی اور پھر کافی کا ایک پیالہ پی کر اوپر تلے دو تین سگریٹ پیتی۔ اس کے بعد وہ گاڑیاں صاف کرتی۔ 9 بجے کے قریب ہم سب کو باری باری ”دووے جینیا“ ( خدا حافظ) کہتے ہوئے گھر روانہ ہو جاتی۔

فینا کا شمار ان لوگوں میں تھا جو ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔ ”نیما پرابلیما“ (کوئی بات نہیں ) اس کا تکیہ کلام تھا۔ اس نے ایک اتفاق کے نتیجے میں زندگی میں پہلی مرتبہ خوش حال دن دیکھے تھے۔ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا

بوسنیا میں یو این مشن ایک دو سال مزید قائم رہے گا۔ کیا اس نے کبھی سوچا ہے کہ اس کے بعد وہ کیا کرے گی؟

واحید۔ انسان کو صرف دو چیزوں کی فکر کرنی چاہیے ایک زندگی اور دوسری صحت۔ یہ دونوں حاصل ہوں تو پھر جینے کی راہیں نکلتی ہی رہتی ہیں۔ اس نے بس لاجواب کر دیا۔

ایشور اور پریم کے آنے کے بعد اب سٹولک میں اردو بولنے والوں کی تعداد چھ ہو گئی تھی۔ ایشور اپنے اندر کے کٹر ہندو پن کو چھپانے کی پوری کوشش کے باوجود کبھی کبھی ایسی بات ضرور کر جاتا تھا جو یا تو میرے لیے ناگوار ہوتی تھی یا پھر نیپالیوں کے لیے۔ اس کی اس طرح کی باتوں کا اقبال اور شیوا کوئی خاص نوٹس نہ لیتے تھے جب کہ مجھے اور پریم کو ایسی باتیں چبھتی تھیں۔

صاحب بھارتیوں کو پورب میں ہم جانتے ہیں اور پچھم میں آپ۔ ہم سے ان کا کیا چھپا ہوا ہے۔ ایشور کو یوں دیش وچاری بننے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ پریم مجھے اکثر کہتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہرحال ایشور کی طبیعت کا فتور بھی ٹھنڈا پڑتا گیا۔ وہ اب محتاط رہنے لگا۔ لیکن چو نکہ عادت سے مجبور تھا، لہٰذا اب بھارت کی بڑائی کے قصے ہمارے سامنے بیان کرنے کے بجائے گوروں سے چھیڑ دیتا۔ وہ بھارتی

ٹرک ٹاٹا کو نہ صرف تمام گوروں میں متعارف کروانے میں کامیاب ہو گیا تھا بلکہ میرا نے تو اسے خریدنے پر سنجیدگی سے غور بھی شروع کر دیا تھا۔ اقبال کا ٹاٹا ٹرک پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ اتنا ہی بے مثال ٹرک ہے تو پھر ہمیں بھارت سے باہر کیوں نظر نہیں آتا۔

تم نے بوسنیا کیا دیکھ لیا ہے، پوری دنیا دیکھنے کے دعوے دار بن گئے ہو۔ تمہاری اطلاع کے لیے جرمنی میں ٹاٹا کی اس قدر مانگ ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک کو اس کی فراہمی ممکن ہی نہیں ہے۔ ایشور ترنت جواب دیتا۔

اگر یہ وہی ٹرک ہے جو میں تمہاری فلموں میں دیکھتا ہوں تو یہ ٹرک کے بجائے چھکڑا کہلانے کا زیادہ مستحق ہے اور جرمن یقینی طور پر اسے اپنے عجائب گھروں کی زینت بنانے کے لیے درآمد کرتے ہوں گے۔ اقبال بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتا

اقبال اور ایشور کے مابین اس نوک جھونک کے بعد ایشور اس موضوع کے حوالے سے بھی محتاط ہو گیا اب اس نے ہمارے سامنے ٹاٹا کے ذکر سے گریز کرنا شروع کر دیا تھا۔

بہت دنوں بعد ایک دفعہ میں اور اقبال موسطار سے سٹولک واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ایک موڑ کاٹتے ہی ہمارے سامنے دو چھکڑے نمودار ہوئے جو بمشکل چڑھائی چڑھ رہے تھے۔ انھیں دیکھ کر اقبال کو ایک دفعہ پھر ٹاٹا کے ٹرک یاد آ گئے۔ اس نے اسٹیشن پہنچ کر پوری سنجیدگی طاری کرتے ہوئے ایشور سے کہا کہ آج اس نے اتفاق سے ٹا ٹا کے ٹرک دیکھ ہی لیے، وہ بھی موسطار جانے والی سڑک پر۔ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ یہاں کیسے پائے گئے۔

یہ ضرور جرمنی سے ریڈ کراس کا امدادی سامان لے کر آئے ہوں گے۔ ایشور نے کہا

تمہارا اندازہ درست ہے کیوں کہ طبی امداد کی فوری ترسیل کے لیے جرمنی کے پاس شاید اس سے بہتر وسائل بھی نہیں ہیں۔ اقبال نے مسکراتے ہوئے کہا۔

یہ لطیف خیالی تو ایشور کی سمجھ میں کیا آنا تھی بہر حال ایک عرصہ بعد یہ موقع ہاتھ آنے پر اس نے ٹا ٹا ٹرک کی صفات اور بین الاقوامی مقبولیت کو خوب نمک مرچ لگا کر بیان کیا۔

ادھر شیوا کی مے کشی میں روز بہ روز کچھ اس انداز میں اضافہ ہو رہا تھا کہ ہر روز دن ڈھلنے سے لے کر نصف شب تک وہ اتنی پیتا تھا کہ نہ ہاتھ کو جنبش رہتی تھی اور نہ آنکھوں میں دم۔ پہلے تو وہ اس حالت میں صرف گوروں کو گالیاں دیتا تھا، لیکن اب وہ پریم کے ساتھ دنگا فساد پر بھی اتر آتا تھا اور خوب غل غپاڑہ کیا کرتا تھا۔ پریم پہلے تو یہ سب کچھ برداشت کرتا رہا لیکن آخرکار اس نے ہمیں اور انڈین ساتھیوں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

اور ساتھ ہی اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ ہم پریم کے اس فیصلے سے متفق نہ تھے۔ کیوں کہ ابھی تک سٹولک میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہ تھی کہ ایک ہی ملک کے دو افسران نے علیحدہ علیحدہ رہائش رکھی ہو۔ اس فیصلے کا ہم سب اردو بولنے والوں کے لیے ایک منفی تاثر کا باعث ہونا بھی یقینی امر تھا۔ پریم اس کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑتا تھا اور کہتا تھا کہ اب مجھ میں مزید برداشت کا حوصلہ نہیں ہے۔ لیکن اس سے قبل کہ پریم وہ گھر چھوڑتا، شیوا نے ایک اور جگہ ڈھونڈ لی اور خود علیحدہ ہو گیا۔

Facebook Comments HS