توشہ خانہ کی بہتی گنگا
لیں جی توشہ خانے سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست شائع ہو گئی. راقم نے 21 اپریل 2022 کو ہم سب پر اپنے مضمون "مہنگے تحائف اور مختلف ممالک کے توشہ خانے” میں کچھ ممالک کے توشہ خانہ قوانین کا جائزہ لیا تھا. پاکستان کے قانون کے بارے میں بھی لکھا تھا.
مختصر یہ کہ پاکستانی قوانین کے مطابق 30000 تک کے تحائف بغیر کوئی رقم ادا کیے اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں. اس سے زیادہ مالیت کے تحائف کی قیمت کا تعین کسٹم حکام کرتے ہیں اور یہ تحائف وصول کنندہ ایک مخصوص رقم (پہلے بیس فیصد تھا اب پچاس فیصد) ادا کر کے رکھ سکتا تھا.
عمران خان کے گھڑی بیچنے اور اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کی مسلسل بات ہوتی رہی بلکہ عمران کی پیشیوں کے حوالے سے بھی توشہ خانہ ریفرنس کے چرچے میڈیا، عدالتوں اور جلسوں میں زیربحث ہیں.
جیسا کہ اوپر عرض کی کہ قانون کے مطابق تیس ہزار تک کی چیز آپ بغیر پیسوں کے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں. اس لئے پائن ایپل جیسی سستی جگتیں لاحاصل ہیں. ان کے علاوہ بے شمار چیزیں ہیں جو توشہ خانے سے مال مفت سمجھ کر دل بے رحم نے اڑائی ہیں. سب سے پہلے تو کسٹم قیمت کا تعین بھی کمال کرتا ہے. اتنی سستی اشیا نہ جانے کہاں دستیاب ہیں. مثال کے طور پر Fendi ایک لگژری برانڈ ہے اس کی گھڑی کی قیمت 16000لگائی گئی ہے اور ایک وزیرخارجہ عبدالستار صاحب 900 روپے میں لے گئے حالانکہ اس کی کم سے کم قیمت اتنے ڈالرز کے قریب ہوتی ہے. جنرل مشرف نے "ایک فاونٹین پین” جس کی قیمت 2500 روپے تھی مفت حاصل کیا. اب اس قیمت کا پین وہ مفت لے سکتے تھے لیکن ایک پین ڈالر کمپنی کا بھی ہوتا ہے اور ایک مانٹ بلانک کا بھی. اس کی تفصیل لکھنی ضروری نہیں سمجھی گئی. قالین کی قیمت میں بھی بہت زیادہ فرق ہوتا ہے، چند ہزار سے لے کر لاکھوں روپوں کے قیمتی قالین دستیاب ہیں. لیکن پاکستان کو الا ماشا اللہ دس ہزار سے کم کے قالین ہی تحفے میں دیے جاتے رہے ہیں جو وصول کنندہ مفت گھر لے جاتے رہے.
شوکت عزیز نے بطور وزیرخزانہ اور بطور وزیراعظم دونوں ہاتھوں سے مال سمیٹا ہے. ڈیکوریشن، برتنوں، جیولری، ٹی شرٹس، کمبل، پرفیوم، پیپر ویٹ، سکارف، ٹائی، ٹوپیوں موبائل فون سمیت کوئی چیز موصوف اور ان کی بیوی نے نہیں چھوڑی. حالانکہ 2006 میں ایک اینٹ اور فٹبال بھی گھر لے گئے. انہوں نے Longines جیسی مہنگی گھڑی کی قیمت صرف تیس ہزار لگوائی اور صرف 7.5 فیصد ادا کر کے پاس رکھ لی اسی طرح مانٹ بلانک کا ایک قلم بیس ہزار قیمت لگوا کر 1500 میں حاصل کیا. حالانکہ اس دور میں کم از کم پندرہ فیصد ادائیگی کرنی ہوتی تھی. اور یہ صرف ایک مثال ہے. صدر ممنون حسین نے بھی خوب مال اکٹھا کیا. حیرت انگیز طور پر سید یوسف رضا گیلانی کا نام کوئی بہت زیادہ دفعہ نہیں آیا جبکہ تھوڑے سے عرصہ کے لئے آنے والے راجہ پرویز اشرف نے ان سے زیادہ تحائف اکٹھے کیے.
آصف علی زرداری صاحب نے ایک بی ایم ڈبلیو 760 اور لیکسس 470 ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ میں حاصل کیں. ایک اور بی ایم ڈبلیو 760 تقریباً چالیس لاکھ میں خریدی. نواز شریف نے بھی ایک مرسڈیز گاڑی حاصل کی. میاں شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی دو دلچسپ تحفے شاہنامہ فردوسی اور دیوان حافظ حاصل کیے.
گھڑی اور توشہ خانہ کا ذکر لازم و ملزوم اور زبان زد عام ہوا. گھڑیوں کا جائزہ لیتے ہیں. ایک قیمتی برانڈ کنکارڈ کی گھڑیوں کی ایک طویل فہرست ہے جس کی قیمت اونے پونے لگا کر اونے پونے داموں رکھ لی گئیں. پھر رولیکس، راڈو، شوپا، ٹسو، بولگری جیسی بے شمار گھڑیاں چند ہزار روپوں میں لوٹ سیل میں حاصل کی گئی ہیں. جس گراف کمپنی کی گھڑی عمران خان کو محمد بن سلمان نے دی اسی کمپنی کی گھڑی راجہ پرویز اشرف نے بھی حاصل کی جس کی قیمت 000890 لگائی گئی اور 000178 میں رکھ لی. گھڑیاں سب سے عام ملنے والا تحفہ ہے سب نے یہ مہنگی گھڑیاں حاصل کیں. کچھ لوگوں نے مہنگی گھڑیاں استحقاق ہونے کے باوجود توشہ خانے میں جمع کرا دیں جن میں میاں شہباز شریف، اسد عمر، عبدالرزاق داؤد اور معروف صحافی رؤف کلاسرا شامل ہیں. گھڑیاں سب سے زیادہ تحفے میں دی جاتی ہیں. شاید اس لئے کہ وہ پابندی وقت کا احساس دلاتے ہیں کیونکہ گھڑیوں سے لیس ہونے والوں کی جتنی لمبی فہرست ہے اس کے مطابق تو پوری قوم کو اب تک وقت کا مثالی پابند ہو جانا چاہیے تھا.
اس فہرست کے چھپنے سے پی ٹی آئی کو دو فوائد بہرحال ہوئے ہیں. ایک یہ کہ جذباتی کارکنان کو جواب الجواب کے لئے کچھ چیزیں ہاتھ لگ گئی ہیں. دوسرا عدالت کے سامنے پی ٹی آئی کے وکیل اکٹھے ٹرائل کا مطالبہ کرسکیں گے. اور یقیناً عدالت کے لئے یہ سب سمیٹنا ناممکن ہو جائے گا. اب ایک لمبی اور لایعنی بحث ہوگی کہ کس کس کے وہ گھڑیاں زیر استعمال ہیں اور کون کون انہیں بیچ چکا ہے. کس کس نے ان اثاثوں کو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیا اور کس نے چھپایا. باقی لاکھوں کروڑوں کے یہ تحفے اشرافیہ کے لئے بنائے گئے قانون کے مطابق معمولی رقم کے عوض ہر صاحب اختیار و اقتدار نے حاصل کیے. بس ہر پارٹی کے ظل شاہ بھوکے پیٹ، ننگے بازو آپس میں لڑتے اور جان کی قربانی دیتے رہیں گے.


