مادری زبان میں تعلیم


یونیسکو مادری زبانوں کا عالمی دن 1999 سے ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت، تحفظ اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے کے لیے مناتا ہے۔ اس کے آفیشل ویب سائٹ کے مطابق مادری زبان میں تعلیم خاص طور پر پرائمری تک معیاری تعلیم کا اہم عنصر ہے۔ یونیسکو کی مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی کو ایسی زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے جو زبان وہ بولتے یا سمجھتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں 7000 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 40 فیصد معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ حقیقتاً جب زبان مر جاتی ہے تو ثقافت مر جاتی ہے، قومی تشخص اور شناخت مٹ جاتی ہے۔ ذریعہ تعلیم میں مادری زبان کی اہمیت خاص طور پر پرائمری سطح انتہائی اہمیت کا حامل ہے ریسرچ اور عقل سلیم اس حقیقت آشکار کرتی ہے کہ ایک بچہ اپنی مادری زبان کو بہتر اور تیز سمجھتا ہے اور یہ دوسری زبانوں کے مقابلے میں بچوں کی ذہنی نشوونما میں بہتر مدد کرتا ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے بچوں کو بیک وقت تین زبانوں سے نبرد آزمائی کرتی پڑتی ہے گھر میں وہ مادری زبان سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے جبکہ اسکولوں میں اردو اور انگریزی سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ ملک میں پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیمی زبان انگریزی اور اردو ہے جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ اردو کو صرف 6 فیصد آبادی بولتی ہے۔ اور انگریزی غالباً کسی کی بھی مادری زبان نہیں۔

کسی زبان کو معدوم ہونے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے سلیبس میں شامل کر کے اس کی ادب کو فروغ دیا جائے اگرچہ پاکستان میں پی سی ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات میں مقامی زبانیں بطور مضمون شامل ہیں اور مقامی سطح پر نصاب کا حصہ ہیں اور اسے یونیورسٹیوں میں ایک الگ نصاب کے طور پر بھی پڑھائی جاتی ہیں لیکن اب بھی زبانوں کو فروغ کرنے کے لیے بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ کیونکہ موجودہ وقت میں اردو اور انگریزی دو غالب زبانیں ہیں۔ مقامی زبانوں کو معدومیت سے بچانے کے لئے آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں پرائمری سے لے کر پی ایچ ڈی تک مادری زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف مادری زبانیں معدومیت سے بچ جائے گی بلکہ اردو اور انگریزی کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔

مثال کے طور پر بلوچستان میں پرائمری سطح پر مادری زبان کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرانے کا بل 2014 میں منظور کیا گیا، جو کہ درست سمت میں ایک درست اقدام تھا۔ بدقسمتی سے، بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کی عدم توجہی کی وجہ سے جو اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے مذکورہ پالیسی ابھی تک نتیجہ خیز نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ صوبے میں پانچویں جماعت تک 5 مقامی زبانوں میں کتابیں شائع کی گئی تھیں لیکن مقامی زبانیں پڑھانے والے اساتذہ کی شدید کمی کی وجہ سے مقامی زبانوں کے فروغ کا منصوبہ ابھی تک کامیابی کی راہ دیکھ رہا ہے۔

مقامی زبانوں کی اکیڈمیوں کی کارکردگی بھی بدتر ہے؟ بلوچستان میں مقامی زبانوں کی ہر اکیڈمی کو سالانہ ایک کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں پشتو اکیڈمی بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے یہ اکیڈمی زبان کے فروغ میں مثبت نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ ان فنڈز کو خرچ کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں۔ معتبر ادبی شخصیات کی تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی بجائے سیمیناروں اور غیر متعلقہ پروگراموں پر یہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر پشتو کے ایک غریب اور نامور شاعر شفیق العالم معذور یار جو نابینا تھے جن کا حال ہی میں انتقال ہو چکا ہے اپنی بہت سی کتابیں بغیر اشاعت کے پیچھے چھوڑ گئے۔

ایک بار جب میں نے ان سے ان کتابوں کی اشاعت کے لیے پشتو اکیڈمی سے رجوع کرنے کو کہا تو وہ اس حوالے سے مایوسی کا اظہار کر گئے۔ یہی معاملہ خیبر پشتونخوا کے سلیم راز کا ہے جو دنیا تو چھوڑ گئے لیکن ساتھ ساتھ میں اپنی 50 سے زائد غیر مطبوعہ کتابیں چھوڑ گئے۔ بلوچی اور براہوی اکیڈمیوں کا حال بھی پشتو اکیڈمی سے مختلف نہیں ہے۔

کیا ترقی کا واحد ذریعہ زبان ہے؟ بلاشبہ انگریزی وہ زبان ہے جس نے معاشی، سائنس اور تکنیکی پہلوؤں میں دنیا پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ لیکن، دوسری طرف، مقامی زبانوں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر روس اور چین اپنی زبانوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ جبکہ ہندوستان ہندی کے ساتھ انگریزی زبان کو بھی اپنانے میں ترقی کر رہا ہے۔ اس لیے کسی ملک کے پیچھے رہ جانے کو صرف زبان کے مسئلے کے طور پر پرکھنا نہیں چاہیے۔ انگریزی اور مقامی دونوں زبانوں کو بیک وقت اپنایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS