کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (1)

اپنی والدہ کنیز فاطمہ پر لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا، آنکھیں بھر آئیں، ماں پر لکھنا کب آسان ہوتا ہے، پر لکھنا تو ہے، اس پل صراط سے بھی گزر لیں، یہ سوچ کر دل کڑا کر کے ایک روز لیپ ٹاپ سنبھال ہی لیا۔
کنیز فاطمہ نے اچھی بھلی زندگی گزاری ویسی ہی جیسی علیحدگی، خلع، طلاق جیسے الفاظ سے انجان یا انہیں گناہ سمجھنے والی صابر عورتیں گزارتی ہیں۔ ساس، سسر اور شوہر کی خدمت سے نڈھال، عمر کے آخری حصے میں ان سب کے حد درجہ پیار سے فیضیاب ہو کر اپنی زندگی کے پتھریلے، دنوں کو طاق نسیاں پر رکھ دیتی ہیں۔
اسی سالہ کنیز فاطمہ، بہکی بہکی باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس سن میں تو یاداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ مگر انہیں جانے کون کون سی باتیں یاد ہیں۔ نظر بھی ایسی اچھی کہ جو کسی کو نظر نہیں آتا انہیں آتا ہے۔ گیانی ایسی کہ غیب کا حال جانتی ہیں۔ ماضی بعید کی باتیں یاد اور ماضی قریب کی بھول جاتی ہیں۔ ایک ہی وقت کی نماز دو، دو تین، تین بار پڑھ لیتی ہیں۔
انہیں کسی بھی وقت کوئی کہیں بھی بیٹھا نظر آ جاتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ دوسرے بھی ان کی بات پر یقین کریں۔ پہلے تو ان کے ادھیڑ عمر بیٹے بیٹیاں، بہوئیں بھی انہیں بڑے پیار سے سمجھاتے اور مختلف دلیلوں سے ان کے دماغ میں آئی بات کو رد کرنے کی کو شش کرتے تھے، لیکن ان کے پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ ان کی بات پر یقین کرتے ہیں، اور جیسا وہ کہتی ہیں اسے مانتے اور ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ جو بہت چھوٹے ہیں وہ منہ دبا کر ہنستے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ لیکن اپنی نندوں، دیوروں، ان کے بچوں اور بچوں کے بچوں کے نام یاد ہیں۔ کنیز فاطمہ بہرحال بھٹک تو گئی ہیں، چلیں پھر ان کے ساتھ کچھ دیر کو ہم بھی آپ کو بھٹکائے لیے لیتے ہیں۔
کنیز فاطمہ، تیرہ چودہ، برس کی بچی، دو بہنوں میں سب سے بڑی، ان سے دو سال بڑے ایک بھائی گھر کے سارے کام ان کے ہی ذمے، اماں پیٹ سے تو تھیں ہی مگر شاید کسی اندرونی تکلیف کی بنا پر چڑچڑی ہو گئی تھیں۔ غصہ ان کی ناک پر دھرا رہتا۔ چھوٹی سی دو بہنوں کو ان کی شکل میں ہی ممتا مل رہی تھی۔ اسی میں جیسے تیسے اپنی پڑھائی بھی کرتیں۔ دس سالہ بہن، صغرا کی چیخ پکار، چھوٹی بہن منی کے نخرے، فرمائشیں اور ضدیں، ان کا بچپنا تو جا نے کب کا ہوا ہو چکا تھا۔ ایسے میں جانے کس کی معرفت رشتہ آیا۔
بڑے بھائی کی ڈانٹ، اور گھر بھر کے کام سے چھٹکارا، دلہن، شادی، اچھے اچھے کپڑے، ہونٹوں پر سرخی، گالوں پر لالی کے تصور میں انہیں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اور گھر سے دور جانے کا ملال تو کیا ہوتا خوشی سے نہال ہو گئیں۔ ہنستے کھلکھلاتے کنیز فاطمہ اپنے گھر سے اپنی عمر سے دگنی عمر کے آدمی کے ساتھ رخصت ہوئیں۔ یہاں ان کی عمر سے ذرا بڑی ذرا چھوٹی نندوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ سب سے بڑی نند کے بڑے بچے ان کے ہم عمر یا ان سے ایک دو سال ہی چھوٹے ہوں گے، انہیں ممانی کی صورت دوست مل گیا۔ ساس سسر، دیور بھی واری صدقے ہوئے۔ میاں بھی ان کی معصومیت، اخلاق اور بھولی صورت کے گرویدہ ہو گئے۔ شادی کے دوسرے دن کھیر پکائی کی رسم کے بعد شام ہی کو ساس کے منع کرنے کے باوجود تسلا بھر کے آٹا گوندھا، چولہے کے اندر ڈھیروں لکڑیاں سلیقے سے ایک دوسرے کے اوپر رکھیں، اخبار کے ٹکڑوں کو موڑ موڑ کر لکڑیوں کی نیچے خالی جگہ میں رکھا، اخبار کی ایک بتی بنا کر ماچس کی تیلی سے اسے جلایا اور کاغذوں کے اوپر رکھ دیا کاغذ جلے تو لکڑیاں بھی آہستہ آہستہ سلگنے لگیں، تھوڑی تھوڑی دیر بعد لکڑی کے ٹکڑے اور اس کے چھلکے بھی اس پر ڈالتی جاتیں، پھنکنی سے پھونکیں بھی مارتی جاتیں۔ پانچ منٹ میں لکڑیاں بھڑک اٹھیں۔ دوسرے نمبر کی نند جمیلہ جو طلاق لیے گھر بیٹھی، صرف روٹیاں توڑتی اور کھڑکی سے لڑکوں کو تاڑتی تھی، ساس نے اسے پیار سے تھپکی لگائی، سیکھو دلہن سے کچھ۔
کنیز فاطمہ تو میکے میں یہ سب آٹھ سال کی عمر سے کر رہی تھیں، مگر کسی نے ان کی تعریف نہ کی تھی۔ فوراً اٹھلا کر بولیں۔ ارے اماں یہ تو آج ہے کل چلی جائے گی، کرنا تو ہمیں ہی ہے نہ۔ جمیلہ منہ بنا کر وہاں سے کھسک لی۔
اگلے روز ابا آئے۔ کنیز فاطمہ سامنے ہی نلکے کے سامنے بیٹھی تھاپی سے کپڑوں کو کوٹ رہی تھیں، آہٹ پر ابا کو دیکھ کر سلام کیا اور
بے تابی سے اٹھیں، سامنے کرسی پر سے میلے کپڑوں کا ڈھیر اٹھا کر انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ایک ہاتھ سے نلکے کو اوپر نیچے اور دوسرے سے کپڑوں کو تھپتھپا کر انہیں کھنگالنے لگیں۔
ابا کرسی سے اٹھے۔ اور اس کا ہاتھ ہٹا کر خود نلکا چلانے لگے۔ کنیز فاطمہ وہاں ابا کے گھر بھی، گھر بھر کو سنبھالتی تھیں۔ تھکن، آرام، شکوہ، شکایت، انکار، بہانے، فرمائش، خواہش، ضد یہ ساری کیفیات اور الفاظ سے نا واقف، ابا کو نلکا چلانے سے منع نہیں کیا، ابا نلکا چلاتے رہے، وہ دونوں ہاتھوں سے تھپتھپا کر کپڑوں کا گندا پانی زمین پر چھپا چھپ کر کے ابا کے چہرے پر چھینٹے برساتیں اور پھر انہیں نچوڑ کر نلکے کے اوپر ڈال دیتیں۔ ابا اپنے چہرے پر آئے چھینٹے اور آنکھوں کا نمکین پانی صاف کرتے رہے۔
ساس سیڑھیاں اترتی نیچے آئیں۔ یہ منظر دیکھ کر ہڑبڑا گئیں۔ دلہن کو پیار سے ڈانٹا اور اسے چائے بنا نے کو اوپر بھیج دیا۔
جمیلہ نے بھابی بیگم کے ابا کو دیکھا تو جھٹ جا کر اپنے بھیا کے کان میں کہہ دیا کہ بھا بی بیگم کو لینے آئے ہوں گے، رسم ہوتی ہے، دلہن ایک دو دن میکے رہتی ہے۔
میاں، کنیز فاطمہ کے قریب آئے، کان میں کہا ”ابا تمہیں لینے آئے ہیں مگر جانا مت، تمہارے بنا میرا جی نہ لگے گا، مر جاؤں گا، پھندا ڈال لوں گا گلے میں“ ۔
کنیز فاطمہ سے کب کسی نے اتنا پیار کیا تھا۔ ابا کو چائے دیتے ہوئے پوچھ لیا، آپ لینے آئے ہیں؟ ابا نے بتایا کہ چھوٹی بہن نے رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا ہے۔ تمہیں دیکھے گی تو جی اٹھے گی۔
کنیز فاطمہ بہن کی حالت سن کر تڑپ اٹھیں۔ کیسی ظالم! بہن کو تو بھول ہی گئی تھیں۔ ساس نے بھی کہہ دیا ”ہاں دلہن چلی جاؤ، ایک دو روز رہ کر آجانا“ ۔
کمرے میں جا کر اٹیچی میں کپڑے رکھے، میاں آ گئے، ”اچھا تو جا رہی ہو! بہن کی جان پیاری ہے؟ جاؤ جاؤ۔ ہمارا کیا ہے“ ۔
”تو آپ بھی چلیں نہ ہمارے ساتھ۔“ کنیز فاطمہ نے شرما کر کہا۔
”ایک شرط پر ہمارے ساتھ ہی شام کو آ جانا۔ کوئی کتنا بھی روکے مت رکنا۔ زیادہ اصرار کریں تو کہہ دینا ہمیں اپنا گھر بسانا ہے“ ۔
کنیز فاطمہ کو دیکھ کر ماں کے چہرے پر بھی بشاشت آ گئی۔ ایک دو گھنٹہ بعد ہی انہوں نے میاں کی بسورتی شکل دیکھی تو برقعہ سنبھال لیا۔
اماں نے روتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کی۔ ابا نے بھی ان کے شوہر نامدار سے التجا کی کہ اسے کچھ روز کے لیے چھوڑ دو، شوہر بے نیازی سے سر جھکا دیا، بولے، ”مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، اگر یہ رکنا چاہتی ہیں تو رک جائیں“ ۔
بڑا بھائی بھی منمنایا کنیز آج رات رک جاؤ، بھائی صاحب بھی تو کہہ رہے ہیں۔
چھوٹی بہن نے روتے ہوئے برقعہ کھینچنا شروع کر دیا۔
”منی چھوڑو ہمارا برقعہ، ہمیں گھر بسانا ہے“ ۔

