ایران اور سعودی عرب سے ہم نے کیا سیکھا؟
سات دسمبر 2022 کی بات ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے۔ میڈیا میں ایک ہی چیخ پکار تھی کہ چین اب سعودی عرب کی گود سے نہیں نکلے گا۔ ایسے میں 11 دسمبر 2022 کو راقم نے بھی ایک کالم بعنوان ”چینی صدر کا دورہ سعودی عرب۔ روشنی ہی روشنی“ لکھا۔ کالم میں درج تھا کہ ”ہمیں ذرائع ابلاغ صرف ایک ہی تصویر دکھا رہے ہیں کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، پس سعودی عرب کی دوستی کی وجہ سے اب آئندہ چین بھی ایران کے مخالف ہو گا۔ حالانکہ اس دورے کی ایک دوسری تصویر بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے۔ اگر چین اور سعودی عرب آپس میں قریب ہوتے ہیں تو اس سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی قربت بڑھے گی۔
توقع کے عین مطابق قربت بڑھتی گئی۔ 14 فروری 2023 کو ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے چین کا دورہ کیا۔ کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ دوسری طرف 2021 سے عراق اور عمان کے تعاون سے بھی ایران و سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار بیت چکے تھے۔ بالآخر 10 مارچ 2023 کو بروز جمعہ بیجنگ میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان صلح اور نئے تعلقات کا ایک معاہدہ طے پا گیا۔
ہمارا اس معاہدے میں کوئی کردار ہی نہیں۔ ہم بحیثیت قوم نہ تین میں شمار ہوتے ہیں اور نہ تیرہ میں۔ ملک میں اس وقت جو دنگل کا سماں ہے، اسے ایک طرف رکھئے۔ مقتدر اداروں کو اندرونی جوڑ توڑ سے کچھ وقت نکال کر اپنی خارجہ پالیسی پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارے منطقے میں چین کے اندر ایران و سعودی عرب کے درمیان پایا جانے والا معاہدہ، آگے چل کر اس خطے کی تقدیر بدلنے میں انتہائی کارگر ہو گا۔ اس کے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، تعلیمی، سائنسی، جغرافیائی اور تجارتی ثمرات سے کسی کو انکار نہیں۔ جدید سفارتکاری کی دنیا میں یہ ایک انتہائی پیچیدہ معاہدہ ہے لہذا اسے ”اندھیرا اجالا“ نامی ڈرامے کے ڈائریکٹ حوالدار کی طرح سے نہ دیکھا جائے۔
بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی نظر آ رہی ہے۔ کیا چین واقعی امریکہ و یورپ کو نظر انداز کر کے ثالثی کرنے میدان میں اترا ہے؟ کیا چین کے امریکہ و یورپ کے ساتھ مفادات وابستہ نہیں ہیں؟ اسی طرح کیا سعودی عرب بھی امریکہ و یورپ کی مکمل آگاہی اور اجازت کے بغیر ایران کے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے؟
کیا چین اور سعودی عرب کے نزدیک امریکہ و یورپ کی وہی اہمیت ہے جو پاکستان کی ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ 2021 سے 2023 تک مذاکرات کے پانچ دوروں کے باوجود عرق اور عمان تو ان مذاکرات کو کامیاب نہیں کر سکے پھر چین کے پاس وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے چھ سے دس مارچ کے صرف چار روزہ مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ عمل میں آ گیا؟
ان سوالات کے متعدد جوابات اور احتمالات ہو سکتے ہیں۔ البتہ دو مسئلے انتہائی اہم ہیں جن کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب دونوں مل بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ سعودی عرب کے لئے یمن کا مسئلہ اور ایران کے لئے اقتصادی مشکلات۔ یمن کے مسئلے میں سعودی عرب کوئی تنہا تو نہیں۔ درحقیقت امریکہ اور ساری خلیجی ریاستیں اس جنگ کے لئے ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ حوثی مجاہدین کو اصلاً شکست نہیں دی جا سکی۔ یمن سے باعزت جان چھڑوانے کے لئے اب ایران کے ساتھ مذاکرات صرف سعودی عرب کی ہی مجبوری نہیں بلکہ امریکہ اور ساری خلیجی ریاستوں کی بھی مجبوری ہے۔
لہذا واضح ہے کہ چین کو ان مذاکرات کے لئے امریکہ و سعودی عرب اور اس کے سارے حلیفوں کا تعاون حاصل رہا ہے۔ دوسری طرف معاشی استحکام کے لئے چین کی ایما پر سعودی عرب کے ساتھ صلح صفائی کرلینا ایران کے بھی منافع میں ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم نزاکت یہ بھی ہے کہ طرفین ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے اور ایسے گروہوں کی آئندہ مدد بھی نہیں کریں گے۔ یہ گروہوں والی بات پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔
اگر مذکورہ دونوں ممالک اپنے معاہدے پر عمل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس سے داعش، طالبان، لشکر جھنگوی، فلانی سپاہ و فلانی سپاہ۔ جیسے گروہ یتیم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں ان درندہ صفت لوگوں نے پہلے ہی ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا ہے۔ اب جیسے ہی ان کا بجٹ کم ہو گا تو ملک میں مزید وارداتوں و جرائم کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔ آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کا خون ہمیں بیدار کرنے کے لئے کافی ہونا چاہیے۔
اسلامی ممالک اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران تعلقات بنانے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ سعودی عرب بھی ایران کے ساتھ بگاڑ کر اپنے 2030 کے وژن کو نہیں پا سکتا۔ شام اور عراق میں ایران نے ڈٹ کر داعش کا صفایا کر دیا۔ داعش تو برائے نام ایک نام ہے اصل میں تو امریکہ و سعودی عرب نیز ان کے اتحادیوں کی ٹھکائی ہوئی۔ خلیجی ریاستیں اور امریکہ جان چکے ہیں کہ اب یمنی انہیں نکیل ڈالے رکھیں گے۔ نہتے حوثیوں نے تو گویا سعودی عرب و امریکہ کی ناک ہی کاٹ دی ہے۔ اب یمن کے میدان جنگ سے سعودی عرب اینڈ کمپنی کو باعزت فرار چاہیے۔ ایران کا موقف یہی ہے کہ آپ نے خود یمنیوں سے تعلقات منقطع کر کے جنگ مسلط کی ہے لہذا اب خود ہی تعلقات بحال کرنے میں پہل کر کے براہ راست مذاکرات کیجئے۔
بہر حال استعماری طاقتیں ایران اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کو مثالی تو نہیں بننے دیں گی تا ہم پھر بھی اگلے دو ماہ میں بہت کچھ متوقع ہے۔ ان دو مہینوں میں ہم بھی لاقانونیت، فسادات، مار کٹائی، گدائی اور کشکول کے بجائے اپنے ہمسایہ ممالک سے کچھ سیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کاش دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان موجود ہوں۔


