چائے والا، چاہت علی اور عمران خان


پچھلے سال منعقدہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کپ کی سب سے زیادہ دلچسپی والی بات کیا تھی؟ پاکستان کا ڈوبتے ڈوبتے بچ جانا اور پھر سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دینا؟ بہت سے لوگ شاید یہی کہیں گے۔ لیکن اس بابت منچلوں کا بیان قدرے مختلف ہے۔ ان کے مطابق اس ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ قابل ذکر دریافت نتا شا تھی۔ اب اگر آپ بھی میری طرح کم علم اور اعلی ذوق سے عاری ہیں تو میری طرح آپ بھی منچلوں کے بیان کو کماحقہؔ سمجھنے سے قاصر ہوں گے۔

ایمان کے عین الیقین درجے پر پہنچنا ہے تو گوگل کی مدد سے ٹی ٹوینٹی اور نتاشا کو سرچ کریں اور جلد آپ کو منچلوں سے متفق ہونے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پاک نیوزی لینڈ سیمی فائنل میچ میں پاکستانی شائقین پر جب کیمرے کا رخ ہوا تو کیمرہ دم بخود ہو کے ایک شوخ و چنچل لڑکی پر مرکوز ہو کے رہ گیا۔ سوشل میڈیا میں آناً فاناً اس پراسرار لڑکی کے چرچے شروع ہو گئے اور سینکڑوں اکاؤنٹ اس نامعلوم لڑکی کے نام پر کھل گئے۔ اس لڑکی نے جب اپنے اصل اکاؤنٹ کا اعلان کیا تو راتوں رات لاکھوں پاکستانی اور ہندوستانی منچلے اس کے پرستار بن گئے۔

پاکستان میں ہزارہا چائے کے ڈھابے اور دکانیں ہیں جن پر لاکھوں نوجوان مزدوری کرتے ہیں۔ چند سال پیشتر اسلام آباد کے سنڈے بازار میں ایک چائے بیچنے والے نوجوان ارشد خان کی چائے بناتی تصویر اک منچلی نے سوشل میڈیا میں چائے والا عنوان سے پوسٹ کر دی۔ بس پھر کیا تھا۔ اس خوبرو نوجوان کی تصویر اتنی وائرل ہو گئی کہ پورا پاکستان اس تجسس میں پڑ گیا کہ آخر ہالی وڈ ہیرو کی طرح دکھنے والا یہ نوجوان کون ہے؟ بس ایک دھکا لگنے کی دیر تھی۔ سوشل میڈیا کا جادو دیکھیں کہ چائے والا پورے پاکستان میں مشہور ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نامعلوم نوجوان پر قسمت ایسی مہربان ہوئی کہ اس کو ماڈلنگ اور اداکاری کی آفرز ملنا شروع ہو گئیں اور اپنا چائے خانے کا بزنس بھی شروع کر دیا۔

نتاشا اور ارشد تو اپنی پرکشش شخصیت کے باعث آنا فانا مشہور ہوئے لیکن سوشل میڈیا تو ایسا حیرت انگیز جادوگر ہے کہ اگر اس کا استعمال ڈھٹائی کے ساتھ کیا جائے تو الہ دین کے ہاتھ لگنے والے جن کی طرح کسی عامی کو بھی شہزادہ بنا سکتا ہے۔ استاد چاہت علی خان کو ہی دیکھ لیجئیے۔ اس کی وڈیوز میں احمقانہ کانفیڈنس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا لیکن جناب ایک سلیبریٹی بن چکے ہیں اور ان کی خبریں تو اب نیوز چینلز پر بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔

ان مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عصر حاضر میں ہم سوشل میڈیا کے پرفریب طلسماتی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اصحاب کو بآسانی ماموں بنتے دیکھا ہے جب وہ ٹویٹر، واٹس ایپ یا فیسبک پر پھیلائی خبر کو صدق دل سے سچ جان کر اس کی مزید ترویج میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی برکت سے سیاست کی دنیا میں استاد چاہت علی خان کی طرح ڈھٹائی سے اگر کسی کو شہرت کے بام عروج پر پہنچتے دیکھا ہے تو وہ عمران خان کی کیس سٹڈی ہے۔

خان صاحب ہمارے بچپن میں سب کی طرح ہمارے بھی کرکٹ ہیرو تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1992 میں ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر سیاست کے میدان میں قدم رکھیں گے تو انہوں نے سختی سے اعلان کیا کہ وہ صرف فلاحی کام کریں گے اور کبھی سیاست کے میدان میں قدم نہیں رکھیں گے۔ مجھے ان کی یہ بات پسند آئی لیکن بعد میں جب انہوں نے اچانک تحریک انصاف نامی پارٹی بنائی تو اس علانیہ دروغ گوئی پر کافی دکھ ہوا۔

ابھی سوشل میڈیا کا دور نہیں آیا تھا اس لیے یہ جماعت بھی دیگر شخصی جماعتوں کی طرح ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ثابت ہوئی اور عمران خان میدان سیاست میں یونہی ویلا پھرتا رہا۔ پرویز مشرف کی صورت میں کچھ ہاتھ آنے کی امید پیدا ہوئی تو برملا فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کا اعلان کیا۔ رو دھو کے اپنی میانوالی کی سیٹ سے اکیلا اسمبلی میں پہنچا لیکن اب بھی صورتحال وہی خانہ بدوشوں والی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے ایک حکومتی عزیز سے میں نے اک دن پوچھا کہ کیا عمران کبھی سیاسی افق پر اہمیت حاصل کر سکتا ہے تو اس نے ہنس کر کہا کہ پہلے یہ اپنے بال تو ڈھنگ کے کرے تاکہ کوئی اسے سنجیدہ لے۔

مشرف کے خلاف جب نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ جدوجہد کر کے سب سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا تو عمران اس وقت نواز شریف کی تعریف و ثنا میں سب حدیں پھلانگتا سنائی دیتا تھا۔ جب وکلا تحریک کے دوران عمران نے پنجاب یونیورسٹی کا دورہ کیا تو جمیعت کے کچھ لڑکوں نے اسے کمرے میں بند کر دیا۔ مشکلوں سے جان چھڑا کر واپسی ممکن بنائی اور بے بسی کا یہ عالم تھا کہ چوں چرا کرنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ جب کراچی میں 12 مئی کا دلخراش واقعہ پیش آیا تو مجھے یاد ہے کہ عمران نے باقی سیاسی راہنماؤں کی طرح اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تو ہوتے ہی ہیں چند کارکن لیکن ان کو بھی نہیں بخشا گیا۔ گویا مشرف کے زمانے کے اواخر تک عمران کی جماعت نہ صرف شیخ رشید کی پارٹی کی طرح ایک ٹانگہ پارٹی تھی بلکہ اس کا احساس شدت کے ساتھ عمران خان کو خود بھی تھا۔

زرداری کی کمزور اور ”سب کھپے“ حکومت جب آخری دورانیے میں داخل ہونے لگی تو نون لیگ کے دوبارہ دو تہائی اکثریت سے حکومت میں آنے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ مشرف سے متعلق نواز شریف کے خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔ تب اسٹبلشمنٹ نے پورا تہیہ کر لیا کہ ہر قیمت پر نواز حکومت کا راستہ روکنا ہے۔ اس کام کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے وہی طریقہ اختیار کیا جو انشورنس ایجنٹ اور مولوی یکساں مہارت سے کیا کرتے ہیں۔ دونوں سننے والے پر پہلے موت کا خوف طاری کرتے ہیں۔

اور جب بچاؤ کی طلب پیدا ہو جائے تو انشورنس والے جھٹ سے اپنی بیمہ پالیسی بیچ دیتے ہیں جبکہ آخرت کے کڑے عذاب سے سہمے ہوؤں کو مذہبی ناصحین اپنا مذہبی منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے طلب پیدا کرنے کے لئے پہلے دبا کے سیاستدانوں کے خلاف ہر جائز و ناجائز پروپیگنڈا شروع کیا۔ سیاستدان چاہے یورپ کے ہوں یا ہندوستان کے یا پاکستان کے۔ عام رائے عموماً ان کے خلاف ہوا کرتی ہے۔ لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش میں اسٹبلشمنٹ نے منظم مہم چلا کر انہیں سب مسائل کی جڑ قرار دیا۔

بنگلہ دیش میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو جیل میں ڈال کر بذریعہ عدلیہ حکومت کرنے کا تجربہ کیا گیا جو بری طرح ناکام ثابت ہوا۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے نیا نسخہ یہ نکالا کہ عدلیہ، میڈیا اور سیاسی جماعتوں میں اپنے مہرے بٹھا کر آہستہ آہستہ ہر چیز پر قبضہ جما لیا جائے۔ سیاسی میدان میں سلیبریٹیز کے ذریعے تیسری جماعت لانے کا فیصلہ ہوا۔ ایدھی فقیر آدمی تھا اس لیے اس نے انکار کر دیا لیکن عمران تو اک عرصے سے اسی حسرت میں ہلکان ہوا جا رہا تھا۔ فوراً اس پلان کا حصہ بن گیا۔ آزاد اور بیباک میڈیا کا گلہ گھونٹ کر نئے نئے سیٹھوں کے شروع کردہ چینلوں کی سرپرستی شروع کردی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ چلنے والے آن لائن سائٹس جیسے سیاست ڈاٹ کام اور ڈیفنس پی کے ڈاٹ کام پر بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کی کردار کشی منظم انداز میں شروع کر کے اس نئے بیانیے کو فروغ دیا جانے لگا کہ ملک چوروں کے ہاتھوں میں ہے اور ایک مشکل کشا مسیحا کی اشد ضرورت ہے۔

یوں پراجیکٹ عمران کے ذریعے اسٹبلشمنٹ نے ہر اس محاذ پر قابض ہونے کا پلان بنایا جو ماضی میں انٹی اسٹبلشمنٹ تحریک کے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے تھے۔ پھر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ ایک نیا ہتھیار بھی آ گیا تھا۔ سوشل میڈیا۔ ففتھ جنریشن وار کے نام پر ہزارہا لوگ بھرتی کیے گئے جو صبح و شام انٹی اسٹبلشمنٹ سیاستدانوں کے خلاف پروپیگینڈا کر کے عوام میں مسیحا کی ضرورت کے احساس کو فروغ دیتے اور ساتھ ہی عمران کو اس تصوراتی مسیحا کے روپ میں پیش کرتے۔

جس طرح یوں ہی پھرنے والا چاہت علی خان سوشل میڈیا کی برکت سے راتوں رات جانا پہچانا نام بن گیا اسی طرح پچھلے پندرہ بیس سالوں سے سیاست میں آوارہ پھرنے والا عمران سوشل میڈیا کی بدولت ہمارا مسیحا قرار پایا۔ سوشل میڈیا کا کمال یہ ہے کہ ایک خاص حد عبور کرنے کے بعد مقبولیت خود بچے جننا شروع کر دیتی ہے۔ مثلاً "پیچھے تو دیکھو” کلپ کی بدولت گول مٹول بچے کا جملہ ہماری قومی گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔ اسٹبلشمنٹ نے 2016 میں میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر پوری یلغار کے ساتھ عمران کو مسیحا بنا کر پیش کیا اور جب ایک خاص حد عبور ہو گئی تو عمران کی اپنی سوشل میڈیا ٹیم جانفشانی کے ساتھ اس تعمیر کردہ کہانی کو زندہ رکھنے اور مزید پھیلاؤ میں مصروف عمل ہو گئی۔

” بیٹا ارسلان۔ یہ کردو“ ۔ اور حسب خواہش دن کو رات اور صرصر کو صبا پیش کرنے کا جادوئی عمل سوشل میڈیا پر شروع ہوجاتا۔ جیسے جہادی تنظیمیں نوجوان ذہنوں کو مخصوص سانچے میں ڈھالنے کے لئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو موثر استعمال کرتی ہیں ویسے ہی عمران کو پلے بوائے سے اٹھا کر امام مہدی قسم کی ہستی بنانے کے لئے سوشل میڈیا کا طلسماتی استعمال کیا گیا۔

اسٹبلشمنٹ نے ماضی میں ہزارہا نوجوان مجاہدین پیدا کیے ۔ جب مشرف کے دور میں امریکہ کا دباؤ آیا تو اسٹبلشمنٹ نے نیم دلی کے ساتھ ہاتھ اٹھا لیا۔ مجاہدین کی اکثریت لیکن واپسی کے عمل پر انکاری ہو گئی اور اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ۔ یہی کچھ سوشل میڈیائی مجاہدین نے بھی کیا۔ چونکہ عمران کو مسیحا کے روپ میں پیش کیا گیا تھا اس لیے اس مسحور کن احساس سے نکلنے کی بجائے سوشل میڈیائی مجاہدوں نے بندوقیں اپنی خالق اسٹبلشمنٹ پر ہی تان لی ہیں۔ گویا اسٹبلشمنٹ کے لئے یک نہ شد دو شد والی صورتحال ہے۔ اور اب جبکہ دونوں سابقہ تخلیقات آپس میں مراسم بڑھانے لگی ہیں تو دیکھیں اسٹبلشمنٹ اس دو سروں والے عفریت کا کیسے مقابلہ کرتی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah